ایرانی جج نے رمضان میں کھانا کھانے والے غیر مسلم کو سخت سزاسنا دی

ایرانی جج نے رمضان میں کھانا کھانے والے غیر مسلم کو سخت سزاسنا دی
ایرانی جج نے رمضان میں کھانا کھانے والے غیر مسلم کو سخت سزاسنا دی

  

تہران (نیوز ڈیسک) ایران میں ایک عیسائی باشندے کو ماہ صیام میں سرعام کھانا پینا بہت ہی مہنگا پڑگیا کیونکہ عدالت نے احترام رمضان کی خلاف ورزی پر اس شخص کے ہونٹ جلتے ہوئے سگریٹ سے جلانے کی سزا سنادی۔ عدالتی حکم پر اس شخص کو ایک پر ہجوم چوراہے میں لے جایا گیا اور عوام کی بڑی تعداد کے سامنے اس کے ہونٹوں کو جلتے ہوئے سگریٹ سے جلایا گیا۔ اسی جرم کے تحت پانچ مسلمان شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا اور مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کیلئے مختلف سزا کا حکم دیا گیا۔ کرمان شاہ شہر کے ڈپٹی گورنر علی اشرف کرامی نے بتایا کہ ان پانچ مسلمانوں کو روزہ نہ رکھنے کے جرم کے تحت عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے انہیں ستر کوڑوں کی سزا سنائی۔ ان پانچوں کو بھی عوامی مقام پر سینکڑوں لوگوں کے سامنے ستر ستر کوڑے لگائے گئے۔ دوسری جانب حکومت مخالف پارٹیوں کے اتحاد ”نیشنل کونسل آف ریزسٹنس آف ایران“ کے نمائندہ نے ان سزاﺅں کو حد سے زیادہ سخت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی شعار کی پابندی لازمی ہے لیکن اس معاملہ میں حکومت کا از حد سخت سزائیں دنیا لوگوں کو دین کی طرف بلانے کی بجائے دین سے دور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں ے کہا کہ دین میں جبر نہیں ہے اور لوگوں کو محبت اور دلیل کے ساتھ عبادات کی طرف مائل کرنا چاہیے۔

مزید :

جرم و انصاف -