نیدر لینڈ کے شہریوں ،سیاستدانوں کاپیوٹن کی بیٹی کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ

نیدر لینڈ کے شہریوں ،سیاستدانوں کاپیوٹن کی بیٹی کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ
نیدر لینڈ کے شہریوں ،سیاستدانوں کاپیوٹن کی بیٹی کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ

  

ایمسٹرڈیم (نیوز ڈیسک) مغربی ممالک کی طرف سے ملائیشین پرواز MH17 کی تباہی کا الزام روسی صدر ولادی میر پیوٹن پر لگنے کے بعد نیدر لینڈ کے شہریوں اور سیاستدانوں نے اس ملک میں مقیم پیوٹن کی بیٹی کو نکال باہر کرنے کا مطالبہ شروع کردیا۔ پیوٹن کی 28 سالہ بیٹی ماریہ اپنے شوہر کے ساتھ ہیگ شہر کے ایک پرتعیش گھر میں رہائش پذیر ہے۔ ماریہ اور نیدر لینڈ کے 34 سالہ جورٹ فاسن کی شادی پانچ سال پہلے ہوئی تھی اور دونوں سخت ترین خفیہ انتظامات کے زیر سایہ نیدر لینڈ میں زندگی گزاررہے ہیں۔ یوکرین میں تباہ ہونے والے ملائیشین طیارے کے 193 مسافروں کا تعلق نیدر لینڈ سے تھا جبکہ اس میں سے نو کا تعلق اسی شہر سے ہے جہاں پیوٹن کی بیٹی مقیم ہے۔ نیدرلینڈ کے شہری انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا ویب سائٹ کے ذریعے ایک دوسرے کو پیوٹن کی بیٹی کے گھر کا پتہ بتارہے ہیں اور لوگوں کو اس کے سامنے احتجاج کیلئے جمع ہونے کا کہہ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے ہلورسم شہر کے میئر نے بھی یہ مطالبہ کیا تھا کہ ماریہ کو ملک سے نکال دیا جائے تاہم انہوں نے بعد میں معذرت کرلی اور وضاحت کی کہ انہوں نے شدت غم سے بے قابو ہوکر ایسا بیان دیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -