پوسٹ ہارویسٹ کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کا فروغ انتہائی ضروری ہے،احمد جواد

پوسٹ ہارویسٹ کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کا فروغ انتہائی ضروری ہے،احمد ...

اسلام آباد (اے پی پی) وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت پاکستان ( ایف پی سی سی آئی) کی ریجنل قائمہ کمیٹی کے چیئرمین احمد جواد نے کہا ہے کہ ملک میں فصلوں کی تیاری کے بعد ( پوسٹ ہارویسٹ ) کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فروغ انتہائی ضروری ہے جس سے نہ صرف پوسٹ ہارویسٹ کے نقصانات کو کم سے کم بلکہ کاشتکاروں کے منافع میں بھی زیادہ سے زیادہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکی کینو 2 ہزار ڈالر فی ٹن جبکہ پاکستانی کینو 500 ڈالر فی ٹن کی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے جبکہ اپنے ذائقہ اور معیار کے حوالے سے پاکستانی کینو کہیں بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں کینو کی قیمت میں تین گنا سے زائد کا یہ تضاد صرف جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے فقدان کی وجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کپاس ‘ گندم ‘ چاول اور آم سمیت دیگر کئی زرعی اجناس اور پھلوں کی فی ایکڑ پیداوار بھی پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلہ میں کم ہے جس کا سبب جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ نہ کرنا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں احمد جواد نے کہا کہ ملک میں جدید طریقہ کاشت اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے فروغ سے فی ایکڑ پیداوار میں 30 تا 40 فیصد تک اضافہ کیا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف کاشتکار طبقہ کی آمدنی میں اضافہ ‘ دیہی معیشت کے استحکام اور غذائی خودکفالت کو یقینی بنانے میں مدد حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی معیشت ہے اور ہمیں اس شعبہ کی ترقی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جاسکے جبکہ ضرورت سے زائد زرعی اجناس اور پھل برآمد کرکے قیمتی زرمبادلہ کما کر ملکی معیشت کے استحکام میں بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

مزید : کامرس