مشینی انسان : روبوٹ

مشینی انسان : روبوٹ
مشینی انسان : روبوٹ

  

امریکی کمپنی انٹیل کی بنیاد رکھنے والے مالکوں میں سے ڈاکٹر گورڈن مور کو ڈیجیٹل دنیا میں ان کے’’ قانون مور‘‘ کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ ڈاکٹر مور تھے جنہوں نے 1965ء میں کہا تھا کہ جب سے مربوط سرکٹ ایجاد ہوا ہے، اس وقت سے مر بوط سرکٹس میں موجود فی مربع انچ ٹرانزسٹرز کی تعداد ہر سال دوگنا ہوتی گئی ہے ۔ ڈاکٹر مور نے پیش گوئی کی تھی کہ ان میں اضافے کا یہ رجحان مستقبل میں عرصہ دراز تک جاری رہے گا۔ مور کے اسی قانون کے مطابق اب یہ وقت آن پہنچا ہے کہ وہ روبوٹ جن کو کبھی ہم انگریزی فلموں میں کام کرتے دیکھتے تھے، وہ اب فلم کی سکرین سے نکل کر حقیقی انسانی زندگی میں داخل ہورہے ہیں۔ سلی کون چپس، ڈیجیٹل سینسرز،کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ہائی بینڈ وڈتھ کمیونیکیشن کا صاف مفہوم یہ ہے کہ روبوٹ بھی موبائیل فون اور کمپیوٹرز کی طرح بہت جلد ہر جگہ انسانی زندگی میں داخل ہوجائیں گے۔ آج کمپیوٹر میں ایڈوانس کیمرے، ٹچ سینسرز، اورلیزر رینج فائینڈرز لگائے جارہے ہیں جو کمپیوٹر کے ذہن سے کام کرتے ہیں۔ روبوٹ چلنے پھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ان کے گیئرز سے ایسی الیکٹریکل موٹریں منسلک کی جاتی ہیں جو ان کے پہیوں، ٹانگوں اور بازوؤں کو اسی طرح چلنے کے لئے توانائی فراہم کرتی ہیں، جیسے انسانی جسم کو اپنے پٹھوں سے چلنے میں مدد ملتی ہے۔ دراصل روبوٹ بھی اسی طرح کی چپ249 بیٹری اور سینسرز کو استعمال کرتے ہیں جو آپ کی جیب میں موجود موبائل فون استعمال کررہا ہے۔

آج تک روبوٹ صنعتی اداروں میں ایسے کام کرتے رہے ہیں، جہاں بار بار ایک ہی طرح کی نقل و حرکت کی ضرورت ہو، جو کافی اکتا دینے والے، گندے اور خطرناک کام سمجھے جاتے ہیں۔ انسانوں کے شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے، پرزے انتہائی درستگی کے ساتھ جوڑنے کے علاوہ بڑے بڑے گوداموں سے مطلوبہ سامان تلاش کرکے لانے کا کام بھی ان کے سپرد رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور جاپان کے آٹو گاڑیاں بنانے والے اداروں میں ان سے اسمبلی لائن، پر نٹ بولٹ لگانے کا کام لیا جاتا رہا ہے۔ بہت بھاری سامان اٹھانے والی کرینوں اور کھدائی کرنے والی مشینوں کے مضبوط فولادی ہاتھ اور بازو بھی روبوٹ ہی کی ایک شکل میں موجود ہیں، تاہم اب روبوٹ زیادہ انسانی شکل اور عقل اختیار کرتے جارہے ہیں، زیادہ اور ایڈوانسڈ ہو چکے ہیں، اب وہ پہلے سے کہیں زیادہ ذہانت کا استعمال اور زیادہ پیچیدہ کام کر رہے ہیں۔ اب وہ چلنے پھرنے کے علاوہ ڈانس بھی کرسکتے ہیں، وہ ہمارے چہرے کے تاثرات پڑھ سکتے ہیں۔ ہماری آواز سے ہمارے احکامات سن کر ان کا جواب دے سکتے ہیں۔ یہ روبوٹ بوڑھوں اور معذوروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ بم دھماکے کرسکتے ہیں، کاریں چلا سکتے ہیں، وہ انٹرنیشنل سپیس سینٹر میں کام کررہے ہیں۔ دنیا بھر میں دہشت گردوں کے خلاف امریکی کارروائیوں میں مدد دے رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں وہ آگ بجھانے ، ہمیں ہماری ڈاک پہنچانے، جرائم کے خلاف کام کرنے، ہسپتالوں میں سرجری کرنے، قدرتی آفات میں بحالی اور اچھے دوست کے متبادل کا کام سنبھال لیں گے۔

اس وقت دنیا میں روبوٹ تیار کرنے والی کمپنیوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوچکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2018ء تک صرف انڈسٹری میں کام کرنے والے روبوٹ کی مارکیٹ 37 ارب ڈالر کی ہو جائے گی۔ اب تک روبوٹس کی انسانوں سے بات چیت کرنے، ان کی باتوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت میں بے حد اضافہ ہوچکا ہے۔ ان میں سے بیشتر کو انٹرنیٹ کے ذریعے ہزاروں میل کی دوری سے بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ کینڈا سے پاکستان پہنچنے کے بعد ایک شخص کو اگر خیال آتا ہے کہ شاید وہ آتے وقت اپنے گیراج کا دروازہ بند کرنا بھول گیا تھا تو وہ پاکستان میں بیٹھے ہوئے اپنے کینیڈا میں گھر کا دروازہ چیک کرسکتا ہے اسے بند بھی کرسکتا ہے اور کھول بھی سکتا ہے۔ اپنے گھر میں بجلی کے مین سوئچ کو بند بھی کرسکتا ہے۔ گھر میں موجود سیکیورٹی الارم دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھے سن سکتا ہے۔ روبوٹ ہر جگہ’’انٹرنیٹ آف تھنگس‘‘ فیملی کو جوائن کرسکتا ہے۔ ایک وقت تھا جب ایک روبوٹ کی قیمت لاکھوں ڈالر تک تھی، اس سے کوئی کام لینے کے لئے اسے اس کام کی تربیت دینے پر کافی وقت صرف ہوجاتا تھا، لیکن اب روبوٹس بہت سمارٹ ہوچکے ہیں، جبکہ ان کی قیمتیں پہلے کے مقابلے میں دسواں حصہ بھی نہیں رہ گئیں۔ 2013ء تک تو روبوٹس کا سب سے زیادہ استعمال آٹو انڈسٹری ہی میں رہا۔ چالیس فیصد تک روبوٹ اسی انڈسٹری میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔ امریکہ کی صرف ہنڈائی کی ایک فیکٹری میں پانچ سو روبوٹ کام کررہے تھے۔ یہ مشینی انسان نہ تھکتے ہیں، نہ انہیں چائے اور کھانے کے وقفے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دن کے چوبیس گھنٹے ہفتے کے سات دن کام کرسکتے ہیں۔ ہنڈائی فیکٹری میں روبوٹ نٹ بولٹ لگانے کے علاوہ ویلڈنگ، پینٹنگ اور سامان اٹھانے کا کام بھی کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے یہ فیکٹری ایک دن میں ایک ہزار کاریں تیار کر تی ہے۔

اسی طرح امازون کے گوداموں سے گاہکوں کا مطلوبہ مال تلاش کرکے لانے اور اسے پارسل کرنے تک کے کام کرنے کے لئے اس کے پاس 2014ء میں دس ہزار روبوٹ کام کررہے تھے۔ اس وقت امریکی کمپنی ’’ری تھنک ربوٹکس‘‘ بائیس ہزار ڈالر میں وہ کمپیوٹر فروخت کررہی ہے جو پہلے کمپیوٹر سے کہیں بہتر کام کرنے کے باوجود قیمت میں ان سے دس گنا کم ہیں۔ اس وقت صنعت کے علاوہ روبوٹس ریستورانوں، میڈیکل سینٹرز تک ہر جگہ کام کررہے ہیں۔ امریکہ میں ڈیڑھ سو سے زائد میڈکل سینٹرز میں روبوٹ کام کرتے ہیں۔ ایک ایسا روبوٹ بھی ہے جس کی مدد سے سرجن آپریشن کرسکتے ہیں۔ وہ اس کمپیوٹر کے بازو، آنکھیں، جوائے سٹکس اپنے کام کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا استعما ل دل کے والو مرمت کرنے میں بھی ہورہا ہے۔ روبوٹس کی مدد سے کئے گئے آپریشنز میں پیچیدگیاں اسی فیصد تک کم ہوجاتی ہیں اور مریض کے زخم بھرنے کے وقت میں بھی خاطر خواہ کمی ہو جاتی ہے۔ اس وقت دنیا میں ا س طرح کے پانچ لاکھ سے بھی زائد آٖ پریشنز سالانہ کئے جارہے ہیں۔ اس طرح روبوٹس اور انٹرنیٹ کی مدد سے ڈاکٹر دوردرازمقامات پر موجود افرادکے آپریشن بھی کرسکتے ہیں۔ اس طرح کا پہلا آپریشن 2001ء میں نیو یارک کے ایک سرجن نے فرانس میں موجود ایک خاتون کا کیا تھا۔

اب روبوٹس کو دوسرے مقاصد کے علاوہ ملٹری مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ امریکہ اس مقصد کے لئے روبوٹس کے استعمال میں سب سے آگے ہے۔ اس کے پاس بغیر پائلٹ کے آپریشن کرنے والے گیا رہ ہزار طیارے (ڈرون) اور بغیر ڈرائیور کے آپریشن کرنے والے بارہ ہزار زمینی روبوٹس ہیں۔ یہ روبوٹس ہر طرح کے مہلک ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ان کی مدد سے اب تک ہزاروں افراد کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ ایسے روبوٹس بھی ہیں جو منی ٹینکوں کے طور پر دشوار گذار راستوں پر چل سکتے ہیں۔ ان پر مشین گنیں اور رائفلیں لوڈکی جاسکتی ہیں۔ یہ روبوٹ گرینیڈ لانچر کا کام بھی کرتے ہیں اور اینٹی ٹینک راکٹ بھی چلاتے ہیں۔ فضا میں تیس فٹ بلند ی تک چھلانگ بھی لگا سکتے ہیں249 اپنے ساتھ لگے ہوئے کیمروں کی آنکھ سے نظر آنے والی ہر چیز کو پکڑ بھی سکتے ہیں۔کاکروچ کی طرح چھ ٹانگیں رکھنے والے روبوٹ دیوار پر بھی چڑھ سکتے ہیں۔ زخمی افراد کو اٹھا کر بھی لاسکتے ہیں۔ ایک ماہر کے مطابق امریکہ کے علاوہ کم از کم پچپن دوسرے ملکوں میں بھی دفاعی مقاصد کے لئے روبوٹس استعمال کرنے کے پروگراموں پر عمل ہورہا ہے۔ پائلٹ کے بغیر طیاروں کے ذریعے سینکڑوں میل دور بیٹھے دشمن پر حملے کئے جاسکتے ہیں۔ اپنے اہداف کو میزائل کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2023 ء تک ڈرون طیاروں اور ملٹری کے دوسرے مقاصد کے لئے روبوٹس کے استعمال پر 79 ارب ڈالر سالانہ خرچ کئے جارہے ہوں گے۔ ایسے طیارے دو دن تک بآسانی فضا میں موجود رہ سکتے ہیں ۔ ان کے بے حد طاقتور کیمروں کے ذریعے دشمن کے علاقے کے متعلق روزانہ دس لاکھ ٹیرا بائٹس ڈیٹا بھجوا یا جاسکتا ہے۔ اس وقت افغانستان میں تعینات مغربی فوجیوں میں سے ہر پچاسواں سپاہی روبوٹ کی صورت میں موجود ہے۔ چند برسوں میں سپاہی روبوٹس کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین مستقبل قریب کی اس صورت حال پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں، جب ہر جگہ روبوٹ ہی دفاع اور جارحیت کے لئے سپاہی کا کام کررہے ہوں گے۔

مزید : کالم