کشمیر الیکشن کا ایک واضح پیغام!

کشمیر الیکشن کا ایک واضح پیغام!
 کشمیر الیکشن کا ایک واضح پیغام!

  

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات نے سوچ کی نئی جہتیں نمایاں کر دی ہیں اور پاکستانی سیاست میں کئی جغادریوں کا بھرم بھی کھول کر رکھ دیا ہے۔مزید کچھ کہنے سے پہلے پاکستان میں حکومتی پارٹی مسلم لیگ(ن) کا ذکر ہو جائے مسلم لیگ (ن) ، انتخابات میں واضح برتری حاصل کرکے اقتدار میں آئی تھی عوامی مقبولیت تھی کہ میاں نوازشریف تیسری بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر جلوہ گر ہوئے مگر ان کی مقبولیت کو مشکوک کرنے کی خاطر بعض حلقوں اور بعض سیاسی گروپوں نے ’’چار حلقوں‘‘ کے نام پر اتنا شور مچایا اور ایسی اودھم مچائی گئی کہ فضا مکدر ہو کر رہ جائے۔ کچھ حالات گھمبیر تھے، کچھ اپنوں کی عاقبت نا اندیشیاں اور عوام سے دوریاں تھیں کہ مخالفین کو ’’شوروغوغا‘‘ کا موقع (بلکہ مواقع) ملتے گئے۔ میاں نوازشریف بیمار ہوکر، علاج کی غرض سے بیرون ملک گئے تو شکوک و شبہات کو اور زیادہ پر لگا دیئے گئے۔ بعض عناصر نے ایسی ایسی لایعنی افواہیں تراشنی اور پھیلانی شروع کر دیں کہ گوئبلز بھی، ان کے سامنے شرمندہ ہوجائے۔’’امپائر کی انگلی اٹھنے‘‘ اور ’’بوٹوں کی آوازیں گونجنے‘‘ کے خواب اس کثرت و تواتر سے دکھائے گئے کہ ہر طرف ’’خاکی‘‘ رنگ ہی دکھائی دینے لگا بعض شہروں میں نامناسب عبارات کے بینرز تک لہرا دیئے گئے کبھی عید قربان پر ’’قربانی‘‘ کے نعرے لگے تو کبھی مارچ میں ’’ڈبل مارچ‘‘ کے آوازے، مگر ہوا کچھ نہ۔

اب ایک بار پھر (پچھلی بار کی طرح) اگست کے مہینے میں مسلّم و متفقہ ’’یوم آزادی‘‘ پر ، قومی یکجہتی کو سبوتاژ کرتے ہوئے) احتجاجی جلسوں دھرنوں کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے اور عوام میں یہ ’’افواہ‘‘ پھیلائی گئی ہے کہ ’’اس بار حالات امپائر سے انگلی اٹھوا کر رہیں گے‘‘۔ ایسے خوش فہم عناصر کی تمام خواہشات پر کشمیر کے انتخابی نتائج نے پانی پھیر کر رکھ دیا ہے۔ کشمیر الیکشن نے جہاں کئی اور سیاسی جہتوں کو نمایاں کیا ہے، وہاں ایک واضح پیغام یہ بھی دے دیا ہے کہ ’’مسلم لیگ، ابھی تک ایک مقبول ترین سیاسی پارٹی ہے اور پاکستانی و کشمیری عوام کی غالب اکثریت، ابھی تک اس جماعت کو پسند و قبول کرتی ہے‘‘۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ کے نمائندوں نے اپنے اپنے حلقہ ء ہائے نیابت کی امیدوں کو پورا نہیں کیا، نہ ہی ان سے اپنے رابطے استوار و محکم کئے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے پاکستانی عوام کے مسائل بھی کماحقہ حل نہیں ہوئے، لوڈشیڈنگ کا مسئلہ جوں کا توں ہے، ذرائع نقل و حمل بھی ناکافی ہیں، روزگار، تعلیم، صحت اور انسانی زندگی سے متعلقہ کئی معاملات ناگفتہ بہ ہیں مگر اس کے باوجود پاکستانی عوام کو مسلم لیگ (ن) کے مقابل کوئی اور قیادت یا پارٹی بھی نظر نہیں آتی کہ جس پر وہ کماحقہ اعتماد کر سکیں۔ پیپلزپارٹی کو وہ بار بار آزما چکے، پھر اس پارٹی کو اس کے اپنے ’’گوربا چوف‘‘ جس حال کو پہنچا گئے ہیں اس کے پیش نظر تو اب اپنے بھی بے اعتباری کی کیفیت میں ڈوبے چلے جا رہے ہیں۔ قدرے ’’عوامی حمایت رکھنے والے‘‘ لوگ دوسری پارٹیوں میں جا کر، ٹکٹ کے حصول والی قطاروں میں کھڑے ہو گئے ہیں۔۔۔ پاکستانی عوام کو ’’تحریک انصاف‘‘ کی شکل میں، ایک نئی پارٹی نظر آئی تھی کہ پرانے سیاسی جغادریوں کے درمیان، جس سے امیدیں وابستہ کی جا سکتی تھیں، نوجوان نسل، اس کی طرف بڑھی بھی تھی، مگر جب اس نے بھی ، پرانے اور داغ دھبوں سے اٹے ہوئے لوگ ہی، ٹکٹ ہولڈر بنا دیئے تو امیدیں باندھنے والوں کو شدید جھٹکا لگا، پھر جو اندازِ سیاست اپنایا گیا، احتجاج کا جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ ہمارے ہاں کی چیز نہ تھا، اوپر سے قیادت کا اندازِ تخاطب اور کہہ مکرنیاں بھی الجھاتی چلی گئیں۔

کشمیر الیکشن میں بھی ’’تحریکِ انصاف’’جو چوتھے نمبر پر آئی ہے تو صرف اس لئے کہ ’’عوام میں وہ لوگ جو مسلم لیگ (ن) کو ناپسند کرتے ہیں، وہ اور کہاں جائیں؟‘‘یعنی ’’تحریک انصاف کو ملنے والے ووٹوں میں سے اکثر حُب کی وجہ سے نہیں، کسی کے بغض کی وجہ سے پڑے ہیں‘‘ مزا تو تب ہے کہ جب صرف پارٹی قیادت اور منشور کی چاہت میں ووٹ اور مقبولیت ملے۔کشمیر الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے جو (غالب ترین) اکثریت حاصل کی ہے، وہ نام نہاد تجزیہ نگاروں اور تجزیہ کاروں کی بصیرت اور عوام کی نبضوں کی پہچان کا بھی بھرم کھول گئی ہے۔ جو چند سیٹیں مسلم لیگ حاصل نہیں کر سکی، وہاں بھی اگر بہتر انداز سے حکمتِ عملی اختیار کی جاتی تو ممکن ہے ، نتیجہ وہی نکلتا جو اکثر نکلا ہے۔ یہاں ایک بات اور سمجھنے کی ہے کہ باقی تمام پارٹیوں کی اعلیٰ ترین قیادت، مسلسل انتخابی مہم چلاتی رہی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت (بلکہ دوسرے درجے کی قیادت بھی) انتخابی مہم میں شریک نہیں ہوئی،اس کے علاوہ مسلسل افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ’’حکومت جائے کہ جائے‘‘ اور ’’شریف قیادت‘‘ کے بُرے دن آ رہے ہیں‘‘ ، وغیرہ وغیرہ ۔ان حالات کے باوجود ایسی بھاری اکثریت سے ، کشمیر الیکشن جیتنا، واضح کرتا ہے کہ ’’نواز شریف اور مسلم لیگ (ن)، عوام کی مقبول ترین قیادت اور مقبول ترین پارٹی ہے‘‘۔

ایسی واضح جیت اور مقبولیت نے، کئی جغادری حلقوں تک جو پیغام پہنچایا ہے، وہ سیاق وسباق کے ساتھ اس کو سمجھ گئے ہوں گے اور ’’مہم جو‘‘ طبیعتوں کو کچھ عرصے کے لئے ’’چُپ‘‘ ضرور لگ جائے گی۔

عمران خان صاحب نے بھی اس ’’پیغام‘‘ کو(شاید) اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ جو الیکشن کی جیت پر ، مسلم لیگی قیادت کو ’’مبارکباد‘‘ دے دی ہے، ورنہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ ’’سات اگست سے احتجاجی تحریک کا اعلان کرنے والے عمران خان، پاکستانی الیکشن کی دھاندلی کے ساتھ، اب کشمیر الیکشن کی دھاندلی کا بھی شور ڈالیں گے‘‘۔کشمیر کے انتخابی نتیجے نے فی الحال ایک ’’پیغام‘‘ یہ بھی دیا ہے کہ اپنی پارٹی کے جلسوں میں کئی علاقوں کے لوگوں کو جمع کرکے، بڑے اجتماعات کا تاثر دینے کی کوشش ، اپنے آپ کو دھوکا دینے کے سوا اور کچھ نہیں(ووٹ تو صرف اپنے اپنے حلقوں میں ہی ڈالے جا سکتے ہیں، ہر جگہ نہیں!اسی طرح یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ’’دوسروں پر تابڑتوڑ حملے کرنا، سخت اور ناروازبان استعمال کرنا،فائدہ نہیں، بلکہ نقصان پہنچاتا ہے، اور عوام ایسے مقرر اور ایسی زبان کو کسی طور پسند نہیں کرتے۔۔۔ (یہاں ایک اور اہم بات پارٹی کی قیادت (بالخصوص تحریک انصاف کے قائدین) کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ ان کے نادان دوست اور چلبلے کارکنان، صحافیوں اور مخالفوں کو گندی گالیاں دے کر اور مغلظات سے بھرپور کمنٹس سے اپنا، اپنی قیادت اور اپنی پارٹی ہی کا نقصان کرتے ہیں، کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، ویسے بھی ’’فیس بک‘‘ پاکستانی عوام کی کتنی قلیل تعداد استعمال کرتی ہے؟صحافیوں، کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں کو گالیاں دینے سے ، ان کو انگیخت کیا جاتا ہے کہ وہ اور کھل کر تنقید کریں، یہ رویہ نہ بدلا توان پارٹیوں اور ان کی قیادت کو اور زیادہ نقصان پہنچتا رہے گا۔

مزید : کالم