سربیا کے سابق رہنما رادون کرادچ کی جرائم کی عالمی عدالت کی جانب سے ملنے قید کی سزا کے خلاف اپیل

سربیا کے سابق رہنما رادون کرادچ کی جرائم کی عالمی عدالت کی جانب سے ملنے قید ...

بلغراد (اے پی پی)سربیا کے سابق رہنما رادون کرادچ نے جرائم کی عالمی عدالت کی جانب سے ملنے والی 40 سالہ قید کی سزا کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔ان پر دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والے بدترین مظالم ڈھانے کا الزام ہے جن میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم شامل ہیں۔رادون کرادچ نے اقوامِ متحدہ کے ججز پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کے مقدمے کو سیاسی بنیادوں پر دیکھا گیا۔ان کے وکیل پیٹر روبنسن نے ہیگ میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے موکل کا سیاسی ٹرائل کیا جا رہا ہے اور اس میں بوسنیا میں موجود سرب لوگوں پر ان کی اجارہ داری اور حاکمیت کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ مقدمہ غیر منصفانہ تھا اور ججز کا قیاس ہے کہ وہ مجرم ہیں اور اسی قیاس آرائی کی بنیاد پر ان کے خلاف سزا سنائی گئی ہے۔واضح رہے کہ رادون کرادچ کے خلاف موجود جرائم میں 1995ء میں مشرقی بوسنیا میں سربرِنتزا کا واقعہ بھی شامل تھا جس میں8000 ہزار سربوں کی نسل کشی کی گئی۔اس کے علاوہ ان کی قیادت میں بوسنیائی دارالحکومت سراجیوو کا 44 ماہ تک محاصرہ جاری رہا جس دوران 12000 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

مزید : عالمی منظر