6سال قبل تشددسے ہلاک ہونیوالے سکیورٹی گارڈ کے ورثاء تاحال انصاف کے منتظر

6سال قبل تشددسے ہلاک ہونیوالے سکیورٹی گارڈ کے ورثاء تاحال انصاف کے منتظر

لاہور(نامہ نگار)پنجاب یونیورسٹی میں 6سال قبل تشددسے ہلاک ہونے والے سکیورٹی گارڈ کے ورثاء تاحال انصاف کے منتظر ،مقتول کا بھائی ہرپیشی پر گواہ لے کرآتاہے اور تاریخ لے کر واپس چلا جاتاہے۔عدالت نے ملزمان کو وکیل پیش کرنے کا آخری موقع دیتے ہوئے سماعت 24اگست تک ملتوی کردی ۔ایڈیشنل سیشن جج شازب سعید کی عدالت میں پنجاب یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈ عمران کے قتل کا استغاثہ زیر سماعت ہے جس میں پنجاب یونیورسٹی کے سابق آر او جاویدسمی ، میاں خان ، سب انسپکٹر باری غلام عابد ، سیکورٹی انچارج شوکت بطور ملزمان نامزد ہیں، یہ مقد مہ 2012ء میں درج ہوا اور ابھی تک سیشن کورٹ میں چل رہا ہے۔ مقتول کا بھائی محمد رمضان کا کہنا ہے کہ وہ 6 سال سے عدالتوں کے چکر لگا رہا ہے لیکن اسے انصاف نہیں مل رہاہے۔ عدالت میں گزشتہ روز بھی ملزمان کی طرف سے وکیل پیش نہیں کیا گیا جس پر عدالت نے 24اگست کی تاریخ مقرر کی ہے اور ملزمان کو آخری موقع دیا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنا وکیل پیش کرے۔ باصورت دیگر سرکاری وکیل مقرر کر دیا جائے گا۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈ محمد عمران پر موٹر سائیکل چوری کا الزام عائد کر کے تشدد کیا جس سے وہ ہلاک ہو گیا تھا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4