روڈ سیفٹی کا نیامنصوبہ اورجناح ہسپتال کی بری حالت

روڈ سیفٹی کا نیامنصوبہ اورجناح ہسپتال کی بری حالت
روڈ سیفٹی کا نیامنصوبہ اورجناح ہسپتال کی بری حالت

  

ٹریفک حادثات بہت خوفناک ہوتے ہیں۔ پاکستان دنیاکے ان ممالک میں ہے،جہاں ٹریفک حادثات کی بنا پر جانی نقصان کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سڑکوں کا غیر معیاری ہونا ایک وجہ ہے۔ سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کی بری حالت ایک اور وجہ ہے اور برے ڈرائیور ایک اور وجہ ہے۔ یہ کہا جا تا ہے کہ ان تینوں وجوہات پر بیک وقت کام کیا جائے تو ہی ٹریفک حادثات میں انسانی جانوں کے ضیاع پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

اس ضمن میں وزیراعلیٰ پنجاب نے گزشتہ روز محکمہ ٹرانسپورٹ اور سویڈن کی ایک کمپنی کے تعاون سے سڑکوں پر چلنے والی مسافر گاڑیوں کے روڈ ٹیسٹ کی ایک لیبارٹری کا افتتاح کیا ۔ سویڈن کی اس کمپنی نے لیبارٹری قائم کی ہے جہاں بس ویگن سمیت تمام گاڑیوں کا روڈ سیفٹی ٹیسٹ کیا جا سکے گا۔ یہ ایک بہترین اقدام ہے اس سے روایتی موٹر وہیکل انسپکٹر کی رشوت کے دروازے بھی بند ہوں گے۔ وہ گاڑیاں جو سڑک پر آنے کے قابل نہیں ہو نگی وہ اس ٹیسٹ کو پاس نہیں کر سکیں گی۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ سویڈن کی یہ کمپنی اگلے سال کے اختتام تک ایسی لبارٹریاں پورے پنجاب میں قائم کر دے گی۔ اس ضمن میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ جاوید اکبر بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے انسانی جانوں کی فکر کی اور رشوت کا ایک راستہ بھی بند کیا۔

لیکن جب تک یہ سب کام عالمی معیار کے مطابق نہیں ہو جاتا تب تک ہم اسی نظام میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اور اس نظام میں وزیراعلیٰ پنجاب نے چند ہسپتالوں پر چھاپہ مار کرشاید حا لات دیکھ لئے ہیں اور شاید یہ کہنا اب غلط ہو گا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پنجاب کے ہسپتالوں کی حالت کا علم نہیں ہے۔ پنجاب کے ہسپتالوں کی وہی حالت ہے جو زبان زد عام ہے۔ جس کے پاس پیسے ہیں اور اس کو اپنی جان عزیز ہے تو وہ سرکاری ہسپتال میں جانا پسند نہیں کرتا۔ اسی لئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ تعلیم انصاف اور دیگر ہر شعبہ کی طرح صحت بھی برائے فروخت ہے۔

ہر روز وائے ڈی اے کی ہڑتال نے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔ ہر روز کی ہڑتال نے ہسپتالوں کو عملی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ہڑتال پر ہوتے ہیں اور سینئر ڈاکٹرز ان کی ہڑتال کی وجہ سے کام نہیں کرتے۔ سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی بنیادی سہولیات بھی مکمل نہیں ہیں۔ مریضوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور ڈاکٹروں کا بے رحمانہ رویہ۔ کہ آپ کو ہر لمحہ اپنی غربت کا احساس رہتا ہے۔ انسان کی عزت نفس کی تو ہین ان ڈاکٹرز کا ایسا وطیرہ جس کی کوئی مثال نہیں۔ اگر آپ جواب دیں تو آپ بد تمیز ہیں۔ اپنا مریض لے جائیں ہم آپ کا علاج نہیں کرتے۔

پورے پنجاب کی کیا بات کی جائے لاہور کے سرکاری ہسپتالوں کی صورت حال بھی بھیانک ہے۔ گزشتہ دنوں ایک قریبی عزیز کی بیوی کے علاج کے سلسلے میں جناح ہسپتا ل جانے کا اتفاق ہوا۔ مریض کے ہسپتال جانے سے پہلے ایم ایس جناح ہسپتال کو فون کرو الیا تھا،کیونکہ انداز ہ تھا کہ جان پہچان کے بغیر تو سرکاری ہسپتال میں جانا ایسا ہی ہے جیسے بغیر جان پہچان کے تھانے جانا، لیکن ہسپتالوں کی حا لت اس قدر خراب ہے کہ اب جان پہچان بھی کسی کام کی نہیں۔ ایم ایس چاہتے ہوئے بھی آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔

اس دن جا کر انداز ہ ہوا کہ لوگ بچوں کی پیدایش کے لئے پرائیوٹ ہسپتالوں میں لاکھوں روپے دینے پر کیوں مجبور ہیں۔ آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن جناح ہسپتال کی گائنی وارڑ کوئی ہسپتال کا وارڈ نہیں ہے۔ ایک ایک بستر پر تین مریض۔ گندے بستر۔ کوئی اے سی نہیں۔ کوئی صفائی نہیں۔ ہر طرف گند ہی گند۔ جو کوئی صورت حال پر احتجاج کرے۔ اسے کہا جا تا ہے کہ اگر اتنے ہی نخرے ہیں تو اپنا مریض پر ائیوٹ ہسپتال لے جائیں۔ اگر آپ جناح ہسپتال کی گائنی وارڈ میں ہیں تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ غریب ہیں۔ اور آپ کے پاس پرائیوٹ ہسپتال میں جانے کے پیسے نہیں ہیں۔ ڈاکٹرز بھی اس گندے ماحول میں تنگ نظر آتے ہیں۔ان میں چڑ چڑا پن اور غصہ عام ہے۔ شاید کوئی اخلاق سے پیش آئے۔ ہر طرف ایک مچھلی منڈی کا منظر ہے۔

گائنی وارڈ کا کوئی اے سی کام نہیں کر رہا۔ گندے بیڈ ، گندی بیڈ شیٹ اور گندگی کی وجہ سے ہر طرف انفیکشن کی بھرمار۔اگر لاہور کے بڑے ہسپتال میں یہ حال ہے تو باقی تو اللہ ہی حاٖفظ ہے۔ یہ درست ہے کہ ڈاکٹروں کے کمروں کے اے سی چل رہے ہیں۔ لیکن وارڈز کے اے سی خراب ہیں۔ میرے قریبی عزیز تو ایک دن میں عاجز آگئے اور انہیں اپنی غربت کا اس سے قبل اتنا احساس نہیں تھا۔ جتنا ان چوبیس گھنٹوں میں ہوا۔ لیکن ایک عجیب بات جو سمجھ سے بالاتر تھی کہ انہوں نے ڈاکٹرز سے کہا کہ چونکہ وارڈ بہت گندی ہے۔ اے سی بھی نہیں چل رہا۔ بیڈ بھی گندے ہیں ۔ وہ پرائیوٹ کمرہ لے کر علاج کروانا چاہتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹرز نے یہ کہہ کر میرے قریبی عزیز کو حیران کر دیا کہ اگر وہ اپنے مریض کو پرائیوٹ کمرے میں شفٹ کریں گے تو وہ کمرے میں جا کر ان کا علاج نہیں کریں گے۔ اس لئے اگر علاج کروانا ہے تو وارڈ میں رہنا ہو گا۔ وہ پرائیوٹ کمرے میں کیسے جاتے۔ اب میرے قریبی عزیز پھنس گئے اور انہوں نے ایک دن بعد اپنے مریض کو ایک پرائیوٹ ہسپتال میں شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جونہی انہوں نے ہسپتال کے ڈاکٹرز کو یہ بتا یا کہ وہ احتجاجا اپنے مریض کو ایک پرئیوٹ ہسپتال میں لے کر جا رہے ہیں تو ڈاکٹرز نے مریض کو روکنے کی بجائے میرے عزیز کو مبارکبادیں دینی شروع کر دیں کہ آپ نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔ آپ فورا جائیں۔

میرا وزیراعلیٰ پنجاب سے سوال ہے کہ آپ کو یہ کہنا بھی عجیب ہی لگتا ہے کہ آپ جناح ہسپتال کی گائنی وارڈ کا خفیہ سروے کروائیں، کیونکہ اگر آپ کو نہیں تو ایم ایس جناح ہسپتال کو تو علم ہی ہو گا کہ کیا صورت حال ہے۔ سیکرٹری صحت کو بھی معلوم ہو گا کہ کیا صورت حال ہے۔ محترم خو اجہ سلمان رفیق کو بھی معلوم ہی ہو گا کہ کیا صورت حال ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ محکمہ صحت نے صورتحال کی اس ابتری کو قبول کر لیا ہے اور ان کے لئے نہ تو یہ اب کوئی خبر ہے اور نہ ہی کوئی مسئلہ۔ ڈاکٹرز کی من مانی۔ ہڑتالیں اور منہ زوری اتنی بڑھ چکی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریض اور ان کے لواحقین کسی ڈاکٹر کی شکایت کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے یہ ڈاکٹر بدمعاش ہیں دہشت گرد بن چکے۔ میرے قریبی عزیز نے ایم ایس صاحب سے ڈاکٹرز کی غفلت اور برے رویہ کی شکایت کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔ بلکہ میرے عزیز کو یہ مشورہ دیا گیا کہ آپ اپنے مریض کی فکر کریں یہ کس چکر میں پڑ رہے ہیں۔

بس وہ بیچارہ جناح ہسپتال سے اپنا مریض لے کر ایک پرائیوٹ ہسپتال گیا۔ پیسے خرچے اور علاج کروا لیا، لیکن شاید وہ پیسے تو سرکاری ہسپتال کو بھی دینے کو تیار تھا، لیکن ڈاکٹر ہی نہ تھے۔ وہ تو تھانیدار سے بھی بدتر تھے۔ ہمیں یہ ماننا ہو گاکہ ڈاکٹروں کی ان تنظیموں نے ڈاکٹروں کو انسانوں سے تھانیدار اور تھانیدار سے دہشت گرد بنا دیا ہے۔ اس لئے جناب وزیراعلیٰ پنجاب آپ کو روزانہ ایک ہسپتال میں جانا ہو گا۔ ایک دو دن جانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

مزید : کالم