ترکی ،گولن نیٹ ورک کے ایک ہزار سکول بند ،1200سے زائد تنطیموں پر پابندی ،صدر اردوان کے 283محافظ گرفتار

ترکی ،گولن نیٹ ورک کے ایک ہزار سکول بند ،1200سے زائد تنطیموں پر پابندی ،صدر ...

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک ،آن لائن ) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ملک میں ایک ہزار نجی سکولوں اور 1,200 سے زائد تنظیموں کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے اور کسی شخص کو فرد جرم عائد کیے بغیر حراست میں رکھنے کی مدت میں اضافہ کر دیا ہے۔گزشتہ روز جاری کیے جانے والے سرکاری بیان کے مطابق صدر اردوان نے کسی بھی شخص کو بغیر عذر بتائے حراست میں رکھنے کی مدت چار دن سے بڑھا کر 30 دن کر دی ہے۔صدر اردوان کے 283 صدارتی محافظوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ترک میڈیا کے مطابق صدارتی محل کی حفاظت پر مامور گارڈز کی تعداد 2500 ہے جن میں سے 300 کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ ترک حکام نے فلائٹ رسک کے باعث 10856 پاسپورٹ بھی منسوخ کر دیے ہیں ان میں 10 ہزار آفیشل پاسپورٹ بھی شامل ہیں۔ یہ ان افراد کے ہیں جو حراست میں ہیں یا پھر مفرور ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو ترکی میں فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ ناکام ہو گئی اور ناکام بغاوت کے بعد حکومت کی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 60 ہزار سرکاری ملازمین کو معطل کیا جا چکا ہے یا حراست میں لیا جا چکا ہے۔خیال رہے کہ ترک حکومت امریکہ میں مقیم مبلغ فتح االلہ گولن پر الزام عائد کرتی ہے کہ ملک میں بغاوت ان کی ایما پر کی گئی ہے تاہم وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔سرکاری بیان کے مطابق صدر طیب اردوان نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے حکام کو موقع ملے گا کہ وہ ناکام بغاوت سے پیدا ہونے والی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹ سکیں اور ملک میں حالات کو معمول پر لا سکیں۔گزشتہ ہفتے کے دوران حکام نے جن افراد کیخلاف کارروائیاں کی ہیں ان میں سے نصف سے زیادہ کا تعلق وزارت تعلیم، پرائیویٹ سکولوں یا یونیورسٹیوں سے ہے جن میں یونیورسٹیوں کے مختلف شعبوں کے سربراہ بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ گزشتہ دنوں میں حراست میں لیے جانے والے 60 ہزار افراد میں ہزاروں سپاہی، پولیس اہلکار اور دیگر سرکاری ملازمین شامل تھے، تاہم ان میں سے ان سینکڑوں فوجیوں کو رہا کر دیا گیا ہے جنہیں جبری بھرتی کیا گیا تھا۔ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ہفتہ کو جن سکولوں اور تنظیموں کو بند کرنے کا حکام دیا گیا ہے ان کے بارے میں حکومت کو شک ہے کہ فتح اللہ گولن کیساتھ روابط ہیں۔ان کے علاوہ جن دیگر اداروں یا تنظیموں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان میں مزدوروں کی 19 تنظیمیں، 15 یونیورسٹیاں، 35 طبی ادارے اور ہوسٹل شامل ہیں۔ترکی میں ایمرجنسی کے نفاذ سے صدر اور کابینہ کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ پارلیمان میں جائے بغیر نئی قانون سازی کر سکتے ہیں۔حالیہ پابندیوں کے حوالے سے صدر اردوان کو فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، لیکن اپنے ان فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے ترکی کا کہنا ہے کہ ’صرف ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جاری ہے جن کے بارے میں سو فیصد یقین ہے کہ بغاوت کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا۔ایمنٹسی انٹرنیشنل سمیت حقوق انسانی کی کئی بین الاقوامی تنظیمیں ترکی کو خبردار کر چکی ہیں کہ وہ مدت حراست میں اضافہ نہ کرے۔30 دن کے فیصلے سے پہلے ترکی میں بغیر فراد جرم عائد کیے بغیر حراست میں رکھنے کی زیاد سے زیادہ مدت چار دن تھی۔ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ تختہ الٹنے کی کوشش کے بعد حکومت جو جائز اقدامات کر سکتی تھی ’مسٹر اردوان اس حد سے بہت آگے جا رہے ہیں۔طیب اردوان کے کئی دیگر ناقدین نے الزام لگایا ہے کہ وہ جس طرح طاقت اپنے ہاتھوں میں مرکز کر رہے ہیں 1946 ء میں ترکی میں پہلے جمہوری انتخابات کے بعد سے اس کی مثال نہیں ملتی۔گزشتہ روز کے سرکاری بیان سے پہلے ترکی کے نائب وزیراعظم نورتن کانیکلی نے کہا تھا کہ ناکام بغاوت کے بعد ملک میں ہونے والی گرفتاریاں بغاوت کرنے والے گروہ کے جلاوطن رہنما گولن کے حمایتیوں کی ملکی اداروں میں موجودگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔نائب وزیراعظم نے بی بی سی کو بتایا کہ بغاوت میں ملوث ہونے والے مزید افراد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ترکی میں امریکی فوج کے زیراستعمال انکرلک ایئربیس کی بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ ترکی میں ایرانی سفارتخانے نے ایک بیان میں تاجروں اور سیاحوں سمیت ترکی کا سفر کرنے والے تمام ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت کیخلاف بغاوت کی ایک نئی سازش بھی ہو سکتی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں ترک صدر نے کہا کہ مسلح افواج تیزی کے ساتھ اپنے ڈھانچے کی تشکیل نو کر رہی ہے۔ نیا فوجی ڈھانچہ جلد تشکیل پا جائے گا۔ترک صدر نے تسلیم کیا کہ حکومت کیخلاف بغاوت کی سازش سیکیورٹی اداروں کی ناقص معلومات کا نتیجہ تھی۔ ترک صدر نے بغاوت کی ذمہ دار فتح اللہ گولن کی تحریک کو بھی علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور کہا کہ کرد جنگجوؤں کی طرح گولن تحریک کیخلاف بھی ہر جگہ جنگ جاری رہے گی۔ ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ فوجی بغاوت کا خطرہ اب بھی ٹلا نہیں ہے تاہم شہری پریشان نہ ہوں۔

مزید : صفحہ اول