عمران خان نے اپنا ایک اور فیصلہ تبدیل کر دیا، جماعتی انتخابات نہیں ہوں گے

عمران خان نے اپنا ایک اور فیصلہ تبدیل کر دیا، جماعتی انتخابات نہیں ہوں گے

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اپنے فیصلے بدلتے رہتے ہیں اور اب پھر انہوں نے جماعتی انتخابات کے حوالے سے فیصلہ بدل دیا بلکہ یہ عمل ہی ترک کر دیا اور کہا ہے کہ عہدیدار نامزد کریں گے اور سب کو فیصلہ قبول کرنا ہوگا جو نہ مانے وہ پارٹی چھوڑ کر جا سکتا ہے کسی کا اعتراض قبول نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان نے خود ہی جماعتی انتخابات کا ڈول ڈالا اور اس میں دوبار ناکام ہوئے بلکہ جماعت کے اندر دھڑے بندیاں تیز کر بیٹھے اس کے بعد انہوں نے تمام تر تنظیمیں توڑ دیں اور تین چار لوگوں کو نامزد کیا ان میں نعیم الحق، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی شامل ہیں۔ جہاں تک شاہ محمود قریشی کا تعلق ہے تو وہ بھی آج کل پریشان ہیں وہ متحدہ حزب اختلاف کے اجلاس میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کی بات کرتے تو عمران خان اپنا فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کو اس پر بہت شرمندگی ہوئی کہ متحدہ حزب اختلاف کے اجلاس میں بڑی بحث کے بعد تحریک نہ چلانے اور پارلیمان سے رجوع کرنے کا فیصلہ ہوا۔ شاہ محمود قریشی نے چودھری اعتزاز احسن کے ساتھ مل کر میڈیا سے بات کی اور تائید کی لیکن عمران خان نے 7 اگست سے تحریک کا اعلان کر دیا اس پر خورشید شاہ کو مجبوراً کہنا پڑا کہ متحدہ حزب اختلاف سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔ اس طرح تحریک نہیں چلتی اور اگر ایسا کیا گیا تو پہلے کی طرح نا کامی ہو گی۔ اب شاہ محمود قریشی کے لئے مشکل ہو گئی وہ سوچ رہے ہیں کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ اب ان کے پاس گنجائش نہیں ہے اگر تحریک انصاف میں بھی ان کا گزارہ نہیں ہوتا تو کہاں جائیں؟ اس لئے اب کسی نہ کسی طور پر نبھاہ تو کرنا ہوگا۔ اس لئے وہ کام کرتے رہیں گے تاہم ان حالات میں پھر یہ ثابت ہو گیا کہ عمران میں آمرانہ جراثیم موجود ہیں۔ یہ شاید آزاد کشمیر انتخابات کا ردعمل ہے۔

آزاد کشمیر میں تو پیپلزپارٹی بھی بری طرح پٹ گئی۔ بلاول بھٹو کو باور کرا دیا گیا کہ دھاندلی ہوئی۔ آزاد کشمیر پیپلزپارٹی نے اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے حالانکہ چودھری عبدالمجید کا دور بہت برا تھا پارٹی کی تنظیم برباد ہوئی تو عوامی بہبود کے بھی کام نہ ہوئے اور تو اور آزاد کشمیر اسمبلی کا ایم ایل اے ہوسٹل کسی سرائے کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ اس لئے بلاول کو قمر زمان کائرہ کی بات پر غور کرنا چاہئے جنہوں نے کہا ہے کہ گالی دینے کی بجائے اپنی خامیوں پر نظر ڈالنا چاہئے۔

یہ خبر تصدیق مانگتی ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار دوبئی گئے ہیں تو آصف علی زرداری سے ملیں گے اور ان کے ساتھ تلخیاں کم کرنے کی بات کریں گے ممکن ہوا تو پھر سے افہام و تفہیم کی بات ہو گی۔

اگرچہ اسحاق ڈار دوبئی اپنے صاحبزادے کے کاروبار کا جائزہ لینے اور ان کو ملنے جاتے ہیں اور شاید یہ پھیرا بھی اسی حوالے سے ہے لیکن سیاست کا دور ہے اس میں یہ خبر بنا دینا کوئی مشکل کام نہیں۔ یہ ملاقات ہو بھی سکتی ہے اگر ہو گی تو پھر بات بھی سیاسی اور سیاست پر ہو گی اگرچہ آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات کے بعد صورت حال مختلف ہو گی اور اب تو وزیر اعظم نے عمران خان کو بھی للکار دیا بلکہ اس طرح کا انداز اپنایا ’’کرلو جو کچھ کرنا ہے‘‘

جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو اس کے لئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ کراچی میں رینجرز کی میعاد میں توسیع کے معاملہ پر ٹھن چکی ہے۔ وزیر داخلہ نے وزیر اعلیٰ سندھ کو خط لکھ دیا اور کور کمانڈر کراچی نے بھی ملاقات کی خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ کے ساتھ اس میٹنگ میں کئی تلخ حقیقتوں کا ادراک کرانے کی کوشش کی ا ور طے ہوا کہ توسیع کا مسئلہ جلد از جلد حل کر لیا جائے گا اس سلسلے میں بلاول دوبئی پہنچ چکے سید قائم علی شاہ بھی وہیں گئے اب توسیع کا معاملہ حل ہو جائے گا کہ تعاون کا یقین پہلے ہی دلا دیا گیا ہے صرف یہ کہا گیا کہ ایک دن تاخیر کر لیتے ہیں اس عرصہ میں تنازعہ کی جڑ اسد کھرل گرفتار کر لیا گیا۔ اس کی گرفتاری شکار پور سے ظاہر کر کے اسے عام عدالت میں پیش کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔ اب کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا۔ چنانچہ اختیارات میں توسیع بھی مل جائے گی۔

ایک کہاوت ہے ’’ماڑی سی تے لڑی کیوں‘‘ اگر ایسا ہی تھا تو اسد کھرل کو پہلے بھی پیش کر دیا جاتا اور تنازعہ سے بچا جاتا اب سو پیاز والی بات ہو گی۔ رینجر موجود ہیں اور رہیں گے۔

مزید : تجزیہ