حکمران بیان بازی کی بجائے کشمیریوں کے وکیل کا کردار ادا کریں: حافظ سعید

حکمران بیان بازی کی بجائے کشمیریوں کے وکیل کا کردار ادا کریں: حافظ سعید

لاہور(خبر نگار خصوصی)امیرجماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مہلک ہتھیاروں کے استعمال اورکشمیریوں کی نسل کشی کیخلاف مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر ملک گیر تحریک جاری رکھیں گے۔بھارتی فوج معصوم بچوں کو پیلٹ گن سے نشانہ بنا رہی ہے۔ ڈیڑھ سو سے زائد افراد کی بینائی ضائع ہونے پر بھی بین الاقوامی طاقتوں کا ضمیر بیدار نہیں ہوا۔ حقوق انسانی کے نا م نہاد علمبرداروں نے بھی مسلمانوں کے حوالہ سے دوہرا معیار اپنا رکھا ہے۔بھارت سرکار کشمیریوں کا پانی، بجلی بند کر کے بدترین دہشت گردی کا ارتکاب کر رہی ہے۔ غذائی قلت کا شکار کشمیری مسلمانوں کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے بلکہ ان کی بھرپور امداد کا فریضہ سرانجام دیں گے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ آٹھ لاکھ بھارتی فوج بی جے پی سرکار کی سرپرستی میں کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے مگر کوئی ان کے آنسو پونچھنے والا نہیں ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعدسے پوری کشمیری قوم سڑکوں پر ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کوچاہیے کہ وہ محض بیان بازی کی بجائے کشمیریوں کے اصل وکیل ہونے کا کردار ادا کریں۔ کشمیر ی و پاکستانی مسلمانوں کا خون ایک ہو چکا۔ ہمارا آپس میں کلمہ طیبہ کا رشتہ ہے کوئی کشمیری و پاکستانی مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان نے کشمیری مسلمانوں پر مظالم کا جو سلسلہ شروع کیا اس میں پچاس سے زیادہ لوگ شہید ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ کشمیریوں پر ایسے ہتھیار وں کا استعما ل کیا جارہا ہے جس سے انکی آنکھیں ضائع ہو رہی ہیں اور لوگ مختلف قسم کے جلد اور سینے کے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کے قتل عام کی ذمہ دار وہ صلیبی و یہودی قوتیں بھی ہیں جو مودی سرکار کو نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کی شہ دے رہی ہیں۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ پاکستانی عوام کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے ساتھ ہیں اور مشکل وقت میں انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ تحریک آزادی کشمیر جلد ان شاء اللہ اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی اور وہ وقت دور نہیں کہ جب بھارت کو اپنی آٹھ لاکھ فوج کشمیرسے نکالنا پڑے گی اورمظلوم کشمیری عوام آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی فورسز نے ہسپتالوں کو بھی ٹارچر سیلوں میں تبدیل کررکھا ہے ‘ ڈاکٹروں کو زخمیوں کے علاج اور لوگوں کو خون کے عطیات دینے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ۔ سخت ترین کرفیو کے باوجود کشمیری عوام ہر قسم کی پابندیوں کو پاؤں تلے روند کر سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں۔ دنیا کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطہ میں کسی صورت امن قائم نہیں ہو گا۔

مزید : صفحہ آخر