نومولود بچی کے اغوا، قتل کا ڈراپ سین، سنگدل ماں قاتل نکلی، اعتراف جرم

نومولود بچی کے اغوا، قتل کا ڈراپ سین، سنگدل ماں قاتل نکلی، اعتراف جرم

ٹھٹھہ صادق آباد ( نمائندہ پاکستان) نومولود بچی کے اغواو قتل کا ڈراپ سین،سنگدل ماں بچی کی قاتلا نکلی، قاتل ماں گرفتار،بچی کی میت پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے،نمازجنازہ کے بعد سپردخاک کر دی گئی۔ ٹھٹھہ صادق آباد کے نواحی علاقہ موضع زور کوٹ کے رہائشی محنت کش محمد رمضان کی 22روز کی نومولودبیٹی مریم رمضان کے گھر سے اچانک لاپتہ ہونے کے ایک دن بعد گاؤں سے ملحقہ گندے پانی کے تالاب سے بچی کی تشدد زدہ لاش بر آمد ہوئی،بچی کے والد رمضان اور والد نازیہ بی بی کی طرف (بقیہ نمبر42صفحہ12پر )

سے بچی کے اغواء اور اس کو قتل کرنے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے رشتہ دار احسن نامی شخص پر الزا م لگایا گیا،ٹھٹھہ صادق آباد پولیس نے بچی کی لاش قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لئے رورل ہیلتھ سنٹر ٹھٹھہ صادق آباد منتقل کرتے ہوئے بچی کے والد رمضان اور والدہ نازیہ بی بی سے تفتیش کی گئی،تو نومولود بچی مریم بی بی کے اغواء اور قتل کا ڈراپ سین سامنے آگیا،بچی کو گھر سے غائب کرکے قتل کرنے کے بعد تالاب میں پھینکنے والی بچی کی ماں نازیہ بی بی بچی کی قاتلہ نکلی،پولیس تھانہ ٹھٹھہ صادق آباد،ہیومی سائیڈ سیل پولیس جہانیاں کی طرف سے قاتل ماں نازیہ بی بی کو گرفتار کر لیا گیا،قاتل ماں نازیہ بی بی نے اعتراف کیا کہ میرے خاوند رمضان کو شک تھا کہ میری تیسری بیٹی مریم ناجائز اولاد ہے،جس وجہ سے بچی کو رات کے وقت گھر سے غائب کرنے کے بعد گلا دباکربے دردی سے قتل کرکے بچی کی لاش گاؤں سے ملحقہ گندے پانی کے تالاب میں پھینک دی،نازیہ بی بی نے بتایا کہ خود کوپولیس کاروائی سے بچانے کے لئے بچی کے اغواء اور قتل کا رشتہ داراحسن پر الزام لگاتے ہوئے جھوٹا ڈرامہ رچا یا گیا جو کامیاب نہ ہوسکا،ہیومی سائیڈ سیل جہانیاں کے انچارج فلک شیر کی طرف سے قاتل ماں سے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے،جبکہ ذرائع کے مطابق نازیہ کے کسی غیر مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے جس میں سے یہ بچی پیدا ہوئی،نازیہ نے اپنا گناہ چھپانے کے لئے بچی کو قتل کردیا ،پولیس تھانہ ٹھٹھہ صادق آباد کی طرف سے بچی کے والد محمد رمضان ولدظفر اقبال کی مدعیت میں قاتل ماں نازیہ بی بی کیخلاف بچی کے قتل کی دفعہ 302ت پ کے تحت مقدمہ نمبر126/16 درج کر لیا گیا ہے۔

ڈراپ سین

مزید : ملتان صفحہ آخر