پاکستان اور بھارت کی آمادگی کے بغیر مسئلہ کشمیر حل کرنا ہمارے بس میں نہیں :اقوام متحدہ

پاکستان اور بھارت کی آمادگی کے بغیر مسئلہ کشمیر حل کرنا ہمارے بس میں نہیں ...

نیویارک(اے این این) اقوام متحدہ کی انسداد دہشتگردی کمیٹی کے سربراہ جین پاؤل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی آمادگی کے بغیر مسئلہ کشمیر حل کرنا اقوام متحدہ کے بس میں نہیں ہے،ہم دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر سکتے ہیں ،مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا جنوبی ایشیاء میں دہشتگردی سمیت تمام مسائل کی جڑ ہے۔اقوام متحدہ کی انسداد دہشتگردی کمیٹی کے سربراہ جین پاؤل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا جنوبی ایشیاء میں دہشتگردی سمیت تمام مسائل کی جڑ ہے ۔انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لئے پاکستان اور بھارت دونوں کا متفق ہونا ضروری ہے اس کے بغیر مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ہم اس معاملے میں لوگوں کو اکٹھا بٹھانے اور بات چیت شروع کرنے کا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔مجھے امید ہے ہم ایک دن ایسا کر لیں گے اور دہشتگردی کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دہشتگردی ایک عالمیخطرہ بن چکا ہے اس وقت 100ممالک سے 30ہزار سے زائد دہشتگرد بر سر پیکار ہیں ۔اس خطے سے نمٹنے کے لئے جامع اور موثر رد عمل کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں دہشتگردی غیر معمولی خطرہ ہے ،اس کوئی بھی ملک اکیلے نہیں نمٹ سکتا۔انھوں نے کہا کہ داعش بھی دنیا کے لئے خطرہ ہے حالیہ رمضان کے مہینے میں اس گروپ نے16 مختلف ممالک میں 393براہ راست یا بالواسطہ حملے کئے ہیں جن میں زیادہ حملے شام اور عراق میں کئے گئے ہیں۔اگر یہ خطرہ بڑھتا رہا تو جلد دنیا محفوظ جگہ نہیں رہے گی۔داعش کے خاتمے کے لئے عالمی تعاون ناگزیر ہے اس کے لئے سول سوسائٹی اور پرائیویٹ سیکٹر کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پولیس کے اداروں کو شہریوں کے ساتھ بہتر تعلقات کے ذریعے انٹیلی جنس کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ لوگ دہشتگردوں کی سرگرمیوں کی نشاندہی کریں ۔ہم معاشرے کے تعاون کے بغیر اس ناسور پر قابو نہیں پا سکتے۔

مزید : کراچی صفحہ اول