رینجرزاختیارات میں توسیع ‘بیٹھک دبئی میں۔۔۔!!

رینجرزاختیارات میں توسیع ‘بیٹھک دبئی میں۔۔۔!!

تجزیہ /کامران چوہان

شہر قائدمیں رینجرزاختیارات کو ختم ہوئے دوروز گزرگئے مگرسندھ حکومت کا سوچ بچارتاحال ختم نہ ہوا اوراب وزیراعلی سندھ سائیں قائم علی شاہ رینجرزاختیارات میں توسیع کے حوالے سے کورکمانڈرکراچی سے ہوانے والی ملاقات کی سابق صدر کوبریفنگ دینے اورآئندہ کالائحہ عمل لینے کیلئے دوروزہ دورے پر دبئی روانہ ہوگئے ہیں ۔باخبرذرائع کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈاربھی دبئی میں موجود ہیں جوسابق صدرآصف زرداری اوردیگر پی پی پی قیادت کوکراچی آپریشن اورموجودہ حالات کی سنگینی کے حوالے سے آگاہ کریں گے۔صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ اس بارمعاملہ سنگین ہونے کی وجہ یقینی طورپررینجرزکی جانب سے لاڑکانہ میں اسد کھرل کی کھوج میں ہونے والی کارروائی ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ حکومت اورصوبائی وزیرداخلہ اسد کھرل سے لاتعلقی کا باملااعلان کرچکے ہیں مگرسندھ حکومت کی جانب سے اسد کھرل کی کمپنیوں کو100ارب روپے سے زائد کے ٹھیکے ملنے کی اطلاعات توکسی دوسری جانب اشارہ کررہی ہے۔رینجرزکی جانب سے سندھ بھرمیں کارروائیوں کے آغاز کے اعلان پرپی پی قیادت کو شدید تحفظات ہیں۔ عسکری اداروں نے سیاسی قیادت کودوٹوک اندازمیں کراچی آپریشن کسی بھی قیمت میں نہ روکنے کااشارہ دے دیا ۔اس کے بعد بال اب صوبائی حکومت کے کورٹ میں ہے۔موجودہ صورتحال میں رینجرزکے حوالے سے کسی بھی قسم کامنفی تاثردینااور تاخیری حربے استعمال کرناقانون نافذکرنے والے اداروں کی قربانی کو ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔بلاشبہ شہرقائدمیں امن وامان کے قیام کیلئے قانون نافذکرنے والے اداروں خصوصاً سندھ رینجرزکا کردارقابل تعریف ہے ۔صوبائی حکومت کوسندھ رینجرزکی کراچی سے باہر کارروائیوں میں شدیدتحفظات ہیں مگراب بھی رینجرزکوصرف کراچی تک محدودرکھاگیا تو کراچی آپریشن کی کامیابی کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیرنہیں ہوگا۔پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کی دبئی میں ہونے والی بیٹھک میں فیصلہ کرانے والوں کواب بڑے فیصلے کرنے ہوں گے کیونکہ سندھ حکومت اوراس کے تمام وزراء رینجرز کی کاوشوں کوسراہتے نہیں تھکتے تو آخرکیوں رینجرزکی جانب سے صوبے بھرمیں بلاامتیازکارروائیاں پر برسراقتدارسیاسی جماعت کوتحفظات ہیں اوراگر ہیں بھی تو ان تحفظات کوصوبائی اپیکس کمیٹی میں لائے جائیں مگرکراچی آپریشن کوکسی بھی قیمت نہ روکنے دیا جائے کیونکہ کراچی کی بقاء میں ہی ملک کی بقاء ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول