سانحہ میونخ حملے کا داعش یا پناہ گزینوں سے کوئی تعلق نہیں :جرمنی

سانحہ میونخ حملے کا داعش یا پناہ گزینوں سے کوئی تعلق نہیں :جرمنی
سانحہ میونخ حملے کا داعش یا پناہ گزینوں سے کوئی تعلق نہیں :جرمنی

  

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک )میونخ میں ہونے والے حملے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں جرمن حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کا شدت پسند تنظیم ’داعش‘ یا پناہ گزینوں کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔

میونخ پولیس چیف ھوپرٹوز انڈرے کے مطابق ’قتل عام کے بعض واقعات کو کچھ لوگ مخبوط الحواس کیسز کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالیہ واقعے کادہشت گرد تنظیم داعش کےساتھ کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا ہے۔حملہ آورکی شناخت ایرانی نژاد جرمن کے طور پر ہوئی ہے کیونکہ وہ جرمنی میں ہی پیدا ہوا اس لئے اس کا پناہ گزینوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں نہ ہی پولیس کو اس کے مکان کی تلاشی کے دوران داعش جیسی شدت پسند تنظیم سے تعلق کے کوئی شواہد ملے۔

قبل ازیںایک سوال کے جواب میں میونخ پولیس چیف کا کہنا تھا کہ پولیس کو تفتیش کے دوران ناروے میں قتل عام کے مرتکب انتہا پسند انڈریس بیرنگ بریفک کے ساتھ رابطوں کا انکشاف ہوا ہے جس نے اسی طرح کی خونی واردات میں 77 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔حملہ آور نے اپنے واٹس ایپ اکاﺅنٹ کی پروفائل پکچر بھی انڈریس بیرنگ بریفک کی لگا رکھی تھی۔جس سے اس کے نارویجن تنظیم سے قریبی تعلق کا پتہ چلتا ہے۔

ادھر جرمنی کے پراسیکیوٹر جنرل ٹومس اشٹائنکر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میونخ میں فائرنگ میں ملوث شخص ذہنی ڈیپریشن کا شکار تھا۔

مزید : بین الاقوامی