فلسطین کیلئے جاسوسی کا الزام ،امریکی حمایت یافتہ تنطیم نے مہاجرین کیمپ میں موجود فلسطینی بچے کو ذبح کردیا

فلسطین کیلئے جاسوسی کا الزام ،امریکی حمایت یافتہ تنطیم نے مہاجرین کیمپ میں ...
فلسطین کیلئے جاسوسی کا الزام ،امریکی حمایت یافتہ تنطیم نے مہاجرین کیمپ میں موجود فلسطینی بچے کو ذبح کردیا

  

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک)کشیدگی کا شکار ملک شام سے ایک ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جسے دیکھ کرکسی بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکہ کا حمایت یافتہ ایک جنگجو گروپ نورالدین الزنکی نامی گروہ نے ایک بارہ سالہ بچے کو فلسطینی حکومت نواز گروہ القدس کیلئے جاسوسی کا الزام لگا کرذبح کردیا ۔

ویڈیو کے مطابق بچے سے پوچھا گیا کہ تمہاری کوئی آخری خواہش ہو تو بتا دو جس پر بچے نے کہا کہ مجھے ذبح کرنے کے بجائے گولی مار دی جائے لیکن امریکی حمایت یافتہ گروہ کے مسلح افراد نے اسے ایک گاڑی کے پچھلے حصہ میں سرنڈرکیااور ان میں سے ایک شخص نے اسکی گردن پر خنجر چلا دیا۔یہ واقعہ منگل کو شام کے شہر حلب کے قریب پیش آیا۔

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں امریکی حمایت یافتہ گروپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اس واقعہ کی ایران کی جانب سے بھی شدید کی گئی ہے۔جمعہ کو ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں ایک بچے کے ذبح کیئے جانے پرخاموشی اختیار کرنے کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی منافقت قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی پشت پناہی کے حامل اس گروپ کا یہ فعل امریکہ کیلئے یک نارمل بات ہے۔

آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ یہ بچہ کون ہے اور اسے اس طرح کیمرہ کے سامنے کیوں ذبح کیا جا رہا ہے۔جب کہ عسکریت پسندوں کے مطابق اس بچے کا نام عیسیٰ ہے اور اس کا تعلق فلسطین سے ہے۔بچے کی عمر 12سال بتائی گئی ہے۔

شامی حکومت نے بھی بچے کیساتھ کیئے جانے والے اس وحشیانہ سلوک کی شدید مذمت کی ہے۔اقوام متحدہ کو بھیجے گئے شامی حکومت کے خط میں کہا گیا کہ یہ لڑکا حلب کے قریب واقع فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں مقیم تھا۔

دوسری جانب فلسطینی قدس بریگیڈ نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس بچے کافلسطینی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔تنظیم کے مطابق بچہ بیمار تھا جب کہ قاقتل کا بھائی کچھ عرصہ قبل مارا گیا تھا ہو سکتا ہے انہوں نے اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ لیا ہو۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ویڈیوسے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔

ادھر جان کیری کا کہنا ہے کہ میں نے اس حوالے سے رپورٹ دیکھی ہے تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ آیا یہ واقعہ ہوا بھی ہے یا نہیں۔ہمیں اس کے حقیقی ہونے پر تحفظات ہیں۔اگر یہ ویڈیو سچ ثابت ہوئی تو ہم اپوزیشن کے اس گروپ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کریں گے۔

مزید : بین الاقوامی