کتنے سعودی مردوں نے اپنی غیر ملکی ملازماﺅں سے ہی شادی کرلی؟ انتہائی حیران کن تفصیلات منظر عام پر آگئیں

کتنے سعودی مردوں نے اپنی غیر ملکی ملازماﺅں سے ہی شادی کرلی؟ انتہائی حیران کن ...
کتنے سعودی مردوں نے اپنی غیر ملکی ملازماﺅں سے ہی شادی کرلی؟ انتہائی حیران کن تفصیلات منظر عام پر آگئیں

  

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں سعودی مردوں کا اپنی غیرملکی ملازماﺅں سے شادی کرنا رواج پا چکا ہے۔ سعودی وزارت انصاف کی طرف سے جاری اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ 2013ءاور 2014ءجدہ میں 160سعودی مرد غیرملکی خواتین سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے جن میں پانچ فیصد نے اپنی ملازماﺅں شادیاں کیں۔ان مردوں نے متعلقہ حکام سے اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد اپنی ملازم خواتین سے شادیاں کیں۔وزارت انصاف کے مطابق ان 160شادیوں میں سے 90سعودی مردوں نے مراکشی خواتین، 30نے انڈونیشیئن خواتین، 13نے فلپائنی خواتین، 22نے سری لنکن جبکہ 5نے تیونس کی خواتین سے شادی کی۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزارت انصاف کی گورننس کمیٹی کے رکن احمد المعابی کا کہنا تھا کہ ”سعودی مردوں کے لیے غیرملکی خواتین اور سعودی خواتین سے شادی کرنے کا طریقہ کار بالکل ایک جیسا ہے۔ان مردوں کو گورنریٹ میں ایک درخواست دینی ہوتی ہے۔ بعد ازاں یہ درخواست وزارت داخلہ کو بھیجی جاتی ہے۔ وہاں سے منظوری کے بعد یہ درخواست سول سٹیٹس کورٹ کو ارسال کر دی جاتی ہے اور پھر کورٹ کی نگرانی میں مرد اور خاتون کے درمیان شادی کا معاہدہ طے پاتا ہے۔غیرملکی خواتین کو سعودی مرد سے شادی کرنے کے لیے اپنے ملکی قونصل خانے یا سفارت خانے کے ذریعے اپنے ورثاءسے اس کی اجازت لینی ہوتی ہے۔“

احمد المعابی کا مزید کہنا تھا کہ ”سعودی مرد اپنی ملازماﺅں سے اس لیے شادیاں کرتے ہیں کہ یا تو ان کی بیویاں بیمار ہوتی ہیں یا پھر وہ ان کا خیال نہیں رکھتیں۔ایسی خواتین گھر کا تمام انتظام و انصرام اپنی ملازماﺅں کے سپرد کرکے خود بری الذمہ ہو جاتی ہیں جس سے گھر کے مالک ان ملازماﺅں کے قریب آ جاتے ہیں اور بعدازاں ان سے شادی کر لیتے ہیں۔ اگر ان مردوں کی بیویاں اپنے شوہروں کو نظرانداز نہ کریں اور اپنا گھر ملازماﺅں کے سپرد نہ کریں تو وہ ان ملازماﺅں کو اپنے شوہروں کے قریب آنے سے بچا سکتی ہیں۔“

مزید : عرب دنیا