آدمی نے غصے میں آ کر اپنی بیگم اور بیٹی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا، لیکن دونوں ماں بیٹی اب بھی اسی شخص کے ساتھ رہتی ہیں، کیوں؟ وجہ جان کر آپ کا دل بھی افسردہ ہو جائے گا

آدمی نے غصے میں آ کر اپنی بیگم اور بیٹی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا، لیکن دونوں ...
آدمی نے غصے میں آ کر اپنی بیگم اور بیٹی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا، لیکن دونوں ماں بیٹی اب بھی اسی شخص کے ساتھ رہتی ہیں، کیوں؟ وجہ جان کر آپ کا دل بھی افسردہ ہو جائے گا

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں خواتین کے تحفظ کی صورتحال جس قدر ناگفتہ بہ ہے، شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں ہو۔ خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتیوں کے حوالے سے بھی بھارت دنیا میں پہلے نمبر پر آتا ہے اور خواتین پر تیزاب گردی و دیگر مظالم میں بھی اس کا نمبر نمایاں ہے لیکن ملک میں غربت اور انصاف کی عدم فراہمی کا یہ عالم ہے کہ ان مظالم کا شکار ہونے والی بیشتر خواتین مجرموں کے خلاف کچھ نہیں کر پاتیں۔ جس کی ایک مثال ریاست اترپردیش کے شہر آگرہ کی ماں بیٹی 40سالہ گیتا مہور اور 26سالہ نیتو ہیں۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق نیتو کے والد 60سالہ اندرجیت مہور نے کچھ عرصہ قبل غصے میں آ کر ان پر تیزاب پھینک دیا تھا لیکن یہ دونوں آج بھی اسی ظالم شخص کے پاس رہنے پر مجبور ہیں کیونکہ غربت کے باعث وہ کہیں اور جا ہی نہیں سکتیں۔

رپورٹ کے مطابق اندرجیت نے گیتا اور نیتو کے ساتھ اپنی 18ماہ کی بیٹی کرشنا پر بھی تیزاب پھینکا تھا جو واقعے کے چند روز بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی تھی۔ اس واقعے میں گیتا کا چہرہ پوری طرح مسخ ہو گیا جبکہ نیتو کا چہرہ تو مسخ ہوا ہی، ساتھ ہی وہ دونوں آنکھوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی۔ میل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے گیتا نے بتایا کہ ”ہم بہت غریب ہیں۔ ہمارے پاس رہنے کے لیے اور کوئی جگہ ہی نہیں، لہٰذا ہم آج بھی اسی شخص کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں اور مسلسل خوف میں زندگی گزار رہی ہیں۔ واقعے کے روز وہ شراب پی کر رات کو گھر آیا تھا۔ ہم تینوں سو رہی تھیں کہ اس نے ہم پر تیزاب پھینک دیا۔ اب بھی وہ شراب پیتا ہے اور اکثر ہمیں تشدد کا نشانہ بناتا ہے لیکن ہمارے پاس اس کے ساتھ زندگی گزارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔“

مزید : بین الاقوامی


loading...