لاوارث

لاوارث
 لاوارث

  


سید کاظم حسین شاہ ریٹائرڈ سینئر ٹیچر گورنمنٹ ہائی سکول بھاٹہ کوٹ ضلع سندھنوئی آزاد کشمیر بھی 27مئی 2017ء کو انڈین آرمی کی دہشت گردی کا شکار ہوگئے۔

پاکستان اپنے سچ کو سچ نہ منوا سکا ، مگر انڈیا اپنے جھوٹ کو بھی سچ منوانے کے حربے بذریعہ سفارت کاری خوب جانتا ہے۔میرے استاد محترم سید کاظم حسین شاہ تیتری نو ٹ منڈ ھر میں کنٹرول لائن کے قریب زمینوں سے حسبِ معمول لکڑیاں اکٹھی کرنے میں مصروف تھے کہ سادہ کپڑوں میں ایک انڈین ایجنٹ پاکستانی حدود میں ان کے پاس آیا اور چند گز کے فاصلے پر انہیں اپنے پاس بلا کر باتیں کرنے لگا۔ اتنی دیر میں انڈین آرمی کے دو جوان سید کاظم حسین شاہ کو بازو سے پکڑ کر زبردستی گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے اور وہ جاسوس بھی ان کے ساتھ چلتا گیا اور آگے جاکر درختوں میں غائب ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر جاری کلپ میں انہیں ایک جگہ بٹھا کر آفیسران سے کچھ پوچھ رہا ہے۔ بعد میں ایک حبشی ٹائپ بندہ بھی ان سے سختی سے کوئی بات پوچھ رہا ہے۔ جب زبردستی زمین سے انہیں اٹھایا گیا تو حسبِ معمول انہوں نے اپنی چھڑی بھی دلیری سے انڈین آرمی کے نوجوان کو ماری، مگر 82 برس کا ایک پڑھا لکھا استاد جس نے ساری زندگی اپنی قوم کے نوجوانوں کو پڑھانے میں گزاری ہو، وہ اکیلا کیسے ان غنڈوں کا مقابلہ کر سکتا تھا؟

یاد رہے کہ مذکورہ جگہ سے پاکستانی فوجی چوکی صرف 20گز کے فاصلے پر تھی، مگر اس بزرگ استاد کو بچانے کے لئے کوئی مدد کو نہ آیا۔ انڈین آرمی کے ان دہشت گردوں نے نہ جانے کتنی اذیتیں دینے کے بعد اس بزرگ استاد کو شہید کر دیا اور طے شدہ پلاننگ کے تحت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو جمع کیا گیا اور پوچھا کہ کیا یہ تمہارے علاقے کا آدمی ہے۔ انہوں نے انکار کیا تو فیصلہ کیا گیا کہ یہ پاکستانی دہشت گرد ہوگا۔ چونکہ یہ مسلمان ہے ، اس لئے تم اس کا جنازہ پڑھو۔ قارئین انہیں شہید کرنے کے بعد آج تک ان کی لاش کا کوئی پتہ نہیں ان کے لواحقین انتہائی کرب میں مبتلا ان کی لاش کے منتظر ہیں، مگر کوئی توقع نہیں کہ ان کی لاش کا مسئلہ حل ہوجائے اور انڈین آرمی کی اس دہشت گردی، جس کے تحت ایک بے گناہ بوڑھے شخص جس کی عمر 82سال ہو ، اسے اپنی زمین سے اٹھا کر ساتھ لے جا کر قتل کر دیا گیا ہو،پھر اُسے پاکستان کا ایجنٹ یادہشت گرد قرار دینے کے خلاف کوئی آواز بلند کر کے بھارتی درندوں کو کون بے نقاب کرے۔

مقامی لوگوں،خصوصاً ایک اور ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر سید مظہر حسین شاہ نے بتایا کہ ہم بہت مجبور اور تنگ ہیں، کیونکہ آئے روز اس طرح کے انڈین فوجیوں کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے ہم مسلسل اپنی زمینوں سے دستبردار ہو کر پیچھے آرہے ہیں، کیونکہ انڈیا نے ناجائز پکڑ دھکڑ کا ماحول پیدا کر کے، کبھی فائرنگ کرکے کھیتوں میں کام کرنے والوں کو ہلاک کرنے اور کبھی انہیں اٹھا کر ساتھ لے جا کر ہلاک کرنے اور دہشت گرد قرار دینے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ لوگ ڈر اور خوف کے مارے اپنی زمینوں میں نہیں جاتے اور ایک کلو میٹر تک کا علاقہ انڈین آرمی نے اس طرح قبضہ کرکے ہماری زمینوں سے ہمیں محروم کررکھا ہے۔ جبکہ بچے، جو لائن آف کنٹرول سے تقریباً 10میل دور ہیں، ان کو بھی سکول جانے سے محروم ہونا پڑ رہا ہے، کیونکہ انڈین آرمی سکولوں اور سویلین آبادی پر جان بوجھ کر فائرنگ کرتی ہے۔ ہماری حکومت اس جانب خاص طور پر توجہ دے۔سوال یہ ہے کہ کب تک بے گناہوں کو قتل کیا جائے گا اور پھر لاوارث قرار دے کر دفنا یا جاتا رہے گا؟

مزید : کالم


loading...