آپریشن خیبر فور، دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کا تسلسل

آپریشن خیبر فور، دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کا تسلسل

پاک فوج نے آپریشن خیبر فور کے دوران بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاک افغان سرحد پر بلند ترین چوٹی برخ محمد کنڈاؤ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جہاں پاک فوج نے اپنی چوکی قائم کر دی اس کے ساتھ آپریشن خیبر فور کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے،کارروائی میں پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ نے بھی حصہ لیا۔کارروائی کے دوران کئی دہشت گرد مارے گئے، بعض افغانستان فرار ہو گئے، آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے وہاں سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد، اسلحہ اور بارود قبضے میں لیا گیا،پاک فوج کی جانب سے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کر کے جس مقام پر چوکی قائم کی گئی ہے یہ12 ہزار فٹ بلند گھنے جنگلات میں گھرا ہے، اِس پہاڑی مقام پر دہشت گرد اِردگرد کے علاقے پر نظر رکھتے تھے،یہاں انہوں نے بہت سا سامان بھی جمع کر رکھا تھا اور آمدورفت کے لئے بھی اِس پہاڑی کو استعمال کیا جاتا تھا، اِس پہاڑی پر دہشت گردوں نے شدید مزاحمت کرنے کی کوشش کی تاہم پاک فوج کے دستوں کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔

آپریشن خیبر فور کے پہلے مرحلے کی کامیابی اِس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں تسلسل کے ساتھ شروع کر رکھی ہیں اور اس کا نتیجہ ہے کہ جس محدود علاقے میں اب تک دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود تھے وہاں سے بھی اب اُنہیں نکالا جا رہا ہے یہ دشوار گزار علاقے ہیں اور دہشت گردوں کو یہاں اپنے ٹھکانے بنانے کی وجہ سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ کارروائی کی صورت میں وہ افغانستان کی جانب فرار ہو سکتے ہیں اِس موقع پر بھی ایسا ہی ہوا اور جو دہشت گرد بچ نکلنے میں کامیاب رہے وہ افغانستان کی جانب چلے گئے،اب امکان یہی ہے کہ یہ دہشت گرد وہاں اپنی پہلے سے موجود کمین گاہوں کو ازسر نو استوار کر کے پاکستان کے علاقوں پر حملے کی کوشش کریں گے یا نئے ٹھکانے بنائیں گے اِس لئے افغان سیکیورٹی فورسز کا فرض ہے کہ وہ پاکستان سے فرار ہو کر جانے والوں کے خلاف کارروائی کر کے اُنہیں افغانستان میں دوبارہ منظم ہونے سے روکے، پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کرے اور نہ صرف خود ان کے خلاف کارروائی کرے، بلکہ پاکستان کو بھی معلومات دے اور اگر ضروری ہو تو دونوں ممالک مل کر ان کے خلاف کارروائیاں کریں۔

دہشت گردوں کو اگر اب تک بعض کامیابیاں ملتی رہی ہیں یا وہ ایسے محفوظ ٹھکانے بنانے میں کامیاب رہے جہاں بیٹھ کر وہ نہ صرف اِردگرد کے علاقے پر نظر رکھتے تھے،بلکہ اسلحہ، گولہ بارود، خوراک وغیرہ ذخیرہ بھی کرتے رہے جس سے اُنہیں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں کافی مدد ملتی رہی،تو اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ افغانستان نے اُنہیں نظر انداز کیا۔ اگرچہ پاکستان نے اپنے وسیع علاقے سے دہشت گردوں کا پوری طرح خاتمہ کر دیا ہے تاہم ایسے مخصوص دشوار گزار علاقے کہیں کہیں موجود تھے جہاں دہشت گردوں کو ٹھکانے بنانے کا موقع میسر تھا یہ بھی اب ختم کیا جا رہا ہے۔یہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب امریکہ کو یہ شکایت ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا،جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ ہر قسم کے دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔دراصل مشکل علاقائی ساخت اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے دہشت گرد فائدہ اٹھاتے ہیں تاہم پاکستان نے طویل منصوبہ بندی کے تحت خیبر فور جیسے آپریشن کر کے ان گروپوں کا خاتمہ کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔اگر اِس سلسلے میں امریکہ کا تعاون بہتر طریقے سے پاکستان کو حاصل رہتا تو بہت عرصہ پہلے یہ کامیابی ہو سکتی تھی،لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ امریکہ ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ تو کرتا رہا حقانی نیٹ ورک کا نام بھی بار بار سامنے لاتا رہا تاہم جہاں تک عملی اقدامات کا تعلق تھا امریکہ کا تعاون نیم دِلانہ ہی رہا کبھی تو کولیشن سپورٹ فنڈز روک لئے گئے یا ان میں تاخیر کر دی گئی یا پھر پاکستان نے جو سامان مانگا وہ بھی نہیں ملا،ایسے دشوار گزار علاقوں میں زمینی فورسز کی رسائی آسان نہیں ہے۔ افغانستان میں بھی اس طرح کے دشوار گزار علاقے موجود ہیں جن کا اب امریکی افواج کو بھی اچھی طرح تجربہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ سولہ سال کے قیام کے دوران امریکی اور نیٹو افواج مل کر بھی دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کر سکیں،اس کے مقابلے میں پاکستانی فوج کی کامیابیاں بہت غیر معمولی اور حیران کن ہیں جن کا اعتراف بعض اوقات نیم دِلی سے اور بعض اوقات کھل کر امریکی فوج کی طرف سے بھی کیا جاتا ہے،لیکن ایسے علاقوں میں کارروائیوں کے لئے جو اسلحہ وغیرہ درکار ہے جب امریکہ سے وہ طلب کیا جاتا ہے تو اس کی راہ میں بڑی مشکلات حائل ہو جاتی ہیں۔

ایف16طیاروں کا تذکرہ یہاں بے محل نہ ہو گا ایسے بارہ طیارے فروخت کرنے پر امریکی انتظامیہ تیار ہو گئی تھی اور صدر اوباما کے دور میں یہ مان لیا گیا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لئے اِن طیاروں کی سخت ضرورت ہے۔صدر اوباما اِس معاملے میں یک سو تھے اور بہت سی لابیوں کی مخالفت کے باوجود انہیں اُن کے موقف سے نہ ہٹایا جا سکا،لیکن امریکی کانگرس میں بھارتی لابی مسلسل کوشش کرتی رہی کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو ان طیاروں کی سپلائی روکی جا سکے۔صدر اوباما کی کوششوں کے باوجود کانگرس کو اِس ضمن میں اتنی کامیابی ضرور ہوئی کہ پاکستان کو ایسے طیاروں کی سپلائی پیشگی ادائیگی کے ساتھ مشروط کر دی گئی،جبکہ اوباما انتظامیہ اس بات کی قائل تھی کہ جو رقم پاکستان کو امریکہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ کی صورت میں ادا کرنی ہے طیاروں کی قیمت اس سے مِنہا کر لی جائے،لیکن کانگرس نے جب پیشگی ادائیگی کی شرط عائد کر دی تو ایف16 کی خریداری مشکل ہو گئی۔

اب ٹرمپ انتظامیہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ کی واجب الادا قسط ہی روک لی ہے،حالانکہ یہ وہ رقم ہے جو امداد نہیں ہے،بلکہ امریکہ ادا کرنے کا پابند ہے،کیونکہ یہ رقم دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پہلے سے خرچ ہو چکی ہے اور اب بعداز وقت اس کی ادائیگی ہونا تھی،لیکن ٹرمپ انتظامیہ بعض عالمی معاہدوں سے بھی جس طرح انحراف کرنے لگی ہے اس سے لگتا ہے کہ امریکی حکومت اپنی عالمی ذمے داریوں سے پہلو تہی کے راستے تلاش کر رہی ہے۔دیکھا جائے تودہشت گردی کی جنگ بنیادی طور پر امریکہ کی جنگ تھی۔پاکستان جب اس میں شریک ہوا تو دہشت گردوں نے اسے بھی اپنے نشانے پر رکھ لیا اور اس کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور جانی قربانیوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔اب بھی پاک فوج جرأت و ہمت کی لازوال داستانیں رقم کر رہی ہے اور بچے کھچے علاقوں سے بھی دہشت گردوں کا صفایا کر رہی ہے۔ امریکی حکومت کو اس موقع پر اپنی عالمی ذمے داریوں سے عہدہ برا ہونا چاہئے اور بھارت و افغان انتظامیہ کے پروپیگنڈے سے باہر نکل کر زمینی حقائق کا خود جائزہ لینا چاہئے کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں ہے یا پاکستان میں، پاکستان کی افواج تن تنہا جو کامیابیاں حاصل کر رہی ہے امریکی اور نیٹو افواج مل کر بھی افغانستان میں ایسی کامیابیاں حاصل نہیں کر سکیں۔

مزید : اداریہ


loading...