ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کال اور وزیرصحت کا موقف

ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کال اور وزیرصحت کا موقف

پنجاب کے وزیر برائے سپیشلائزڈ اینڈ ٹیچنگ ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز کے جائز مطالبات حکومت تسلیم کرنے کو تیار ہے،لیکن سیاست کی گئی تو حکومت کو کمزور نہ سمجھا جائے، احتجاج کو بنیاد بنا کر ہسپتالوں کی ایمرجنسی سروسز کو بند نہیں کرنے دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ وائی ڈی اے کی طرف سے 26جولائی کو ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔حکومت نے سینئر پروفیسروں پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ ینگ ڈاکٹرز سے مذاکرات کئے جائیں۔اگر غریب مریضوں کو علاج سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تو ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔خواجہ سلمان رفیق نے اِن خیالات کا اظہار روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے فورم میں کیا ہے۔ انہوں نے بڑی وضاحت سے حکومتی کوششوں کے بارے میں بتایا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز کے جائز مطالبات تسلیم کئے جاتے رہے ہیں اور اب بھی تسلیم جائیں گے،لیکن ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے تو سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں،جو دو تنخواہیں وصول کرنے والوں اور گردہ سکینڈل میں ملوث افراد کو بچانا چاہتے ہیں۔ایسے لوگوں سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔ ہڑتال کی کال دینے والے ڈاکٹر لاہور اور دوسرے بڑے شہروں میں ہی ڈیوٹی دینا چاہتے ہیں،لیکن حکومتِ پنجاب نے تمام سٹیک ہولڈرزکے ساتھ مشاورت کے بعد سنٹرل انڈکشن پالیسی کو میرٹ کی بنیاد پر لاگو کیا ہے،ہر ڈاکٹر کو تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں بھی ڈیوٹی دینا ہو گی۔ جب سروس سٹرکچر کے حوالے سے حکومت نے ڈاکٹروں کے مطالبات کو تسلیم کر لیا ہے تو پھر ہڑتال کا کیا جواز ہے۔یہ بات واضح ہے کہ اگر ڈاکٹروں نے ہڑتال کی تو غریب مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہو گا۔صرف مریض اور لواحقین ہی پریشان نہیں ہوتے۔ہڑتالی ڈاکٹر عموماً مال روڈ اور جیل روڈ جیسی مصروف ترین سڑکوں پر دھرنا دیتے ہیں تو سارا دن پورے شہر میں عام شہریوں کو آمدورفت میں شدید دشواریاں پیش آتی ہیں۔شہر کی بیشتر سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے ٹریفک جام رہتا ہے۔ہڑتالی ڈاکٹروں اور پنجاب حکومت کو اس صورتِ حال کا احساس ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر تو مسیحا ہوتے ہیں،اُنہیں بات بات پر ہڑتال کر کے مریضوں کی صحت اور زندگی سے نہیں کھیلنا چاہئے۔بتایا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے2011-12ء میں ڈاکٹروں کی ہڑتال ختم کرانے کے لئے چھ ارب روپے کا پیکیج دیا تھا،جبکہ2016ء میں ساڑھے تین ارب روپے کا پیکیج دیا گیا۔ اِس کے باوجود ڈاکٹروں کے جائز مطالبات تسلیم کرنے کے لئے حکومت تیار ہے۔ضرورت اِس بات کی ہے کہ ڈاکٹروں اور مریضوں کے معاملات کو ملکی سیاست اور ذاتی مفادات (اگر صوبائی وزیر درست کہتے ہیں) کی نذر نہ کیا جائے۔سینئر ڈاکٹرز کی جو کمیٹی بنائی گئی ہے، اس کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے جائز مطالبات منوائے جا سکتے ہیں۔صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے واضح کیا ہے کہ ہڑتال کے ذریعے ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولتوں سے محروم رکھنے کی کوشش کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اِس سلسلے میں محض بیان بازی نہ کی جائے، حکومت پنجاب کو ایسے انتظامات کرنے کی ضرورت ہے کہ مریضوں اور اُن کے لواحقین کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید : اداریہ


loading...