دیکھو تو یہ اندازِ مکافاتِ عمل بھی

دیکھو تو یہ اندازِ مکافاتِ عمل بھی
 دیکھو تو یہ اندازِ مکافاتِ عمل بھی

  


تاریخِ عالم میں وہ حکمران انتہائی بد نصیب اور تیرہ بخت گردانے گئے ہیں جنہوں نے مال و زر اندوزی کی ہوس میں اپنے رتبے کی آبرو کو خود پامال کیا، ایسے حکمرانوں میں موجودہ وزیر اعظم پاکستان میاں نوازشریف بھی شمار کئے جا رہے ہیں کیونکہ ان پر کوئی ایسا الزام نہیں ہے کہ انہوں نے پاکستان کے کسی دشمن کے ساتھ جنگ میں حادثاتی طور پر کوئی ایسا اقدام کر دیا کہ خدانخواستہ جس اقدام نے پاکستان کے دفاع اور سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا بلکہ میاں نوازشریف پر تو وہ الزام یا الزامات عائد ہیں کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم زر اندوزی کے ایسے منصوبوں پر عمل کیا جن کا پاکستان یا ملت پاکستان کو تعمیر و ترقی کے مراحل سے گزارنے کا کوئی علاقہ نہ تھا بلکہ وہ منصوبے سراسر میاں نوازشریف یا اس کنبے کے افراد کی حرصِ زر و مال کی تکمیل کے لئے تھے جس کنبے سے میاں نوازشریف کا تعلق ہے جو صریحاً ایک ایسا عمل ہے جس کی پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ جیسے عظیم منصب پر فائزشخصیت کو آئینی طور پر اجازت نہیں ہے، سیاسی اور اخلاقی طور پر بھی زراندوزی اور اپنی ذاتی زر اندوزی کے لئے بطور وزیر اعظم اپنے اختیارات کو ناجائز طور پر استعمال کرنا انتہائی قابل احتساب اور انتہائی قابل گرفت اور قانونی طور پر انتہائی ناقابل برداشت دھندا ہے۔

اس دھندے کے بارے میں تحقیقات کے لئے جب سپریم کورٹ نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کر کے اسے 60 روز تک اپنا کام مکمل کر لینے کا ٹارگٹ دیا تو اس وقت پاکستان کے عوام میں جے آئی ٹی کے افسران کے بارے میں کوئی پر امید تاثر باہر نہ آیا حالانکہ اس وقت تک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ارکان کے ناموں کا اعلان بھی نہیں ہوا تھا چنانچہ اس وقت وزیر اعظم پاکستان نے بھی کسی شارپ ری ایکشن کا اظہار نہ کیا بلکہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلے پر وزراء ا ور دیگر کارندے خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور بڑی حد تک عمران خان کے اظہارِ مسرت سے بھی زیادہ اظہار مسرت کر رہے تھے حالانکہ پانامہ پیپرز لیکس کے بارے میں پانچ رکنی بنچ نے جو فیصلہ دیا تھا اس میں دو جج صاحبان نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے اس لئے وہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے کے اہل نہیں رہے مگر دیگر تین جج حضرات نے اپنے فیصلے میں مالی بے ضابطگیوں اور دیگر معاملات کی مزید تحقیقات کے لئے 6ارکان پر مشتمل واجد ضیاء کی سرکردگی میں ایک ایسی ٹیم مقرر کر دی۔

اس ٹیم نے ہر پندرہ روز کے بعد سپریم کورٹ کو اپنی تحقیقاتی پروگریس رپورٹ پیش کرنا ہوتی تھی چنانچہ 60 روز میں تحقیقاتی ٹیم نے نہ صرف وہ کام مکمل کر دیا بلکہ اس تاثر اور شک و شبہ کا بھی ازالہ کر دیا جو جے آئی ٹی کے قیام سے پہلے ایک وسیع طبقے میں اُبھرا تھا اور جوں جوں جے آئی ٹی کے بارے میں قوم کا تاثر بہتر ہوا توں توں میاں نوازشریف اور ان کے ساتھیوں پر مایوسی اور دل شکستگی کی اوس پڑتی چلی گئی اور میاں نوازشریف کے ساتھیوں نے جے آئی ٹی کے بارے میں چہ میگوئیاں کرنا شروع کر دیں،حالانکہ جے آئی ٹی نے وہ کام کیا تھا جو سپریم کورٹ نے اسے سونپا تھا اس لئے سپریم کورٹ کی طرف سے اس رپورٹ کے صادق و مستند اور مصدق ہونے کی جانچ پڑتال ابھی باقی تھی اور اس معاملے کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے کسی تنازع کی صورت نہیں دی جانی چاہئے تھی مگر تحقیقات کا ہدف بن جانے والی پارٹی پر ایک ایسی گھبراہٹ طاری ہو گئی کہ اس نے جے آئی ٹی پر جانبدار ہونے کے الزام لگانا شروع کر دیئے حتیٰ کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اس کیس کی سماعت کے ساتھ ساتھ اس معاملے بلکہ جے آئی ٹی کے بارے میں بھی ایک میڈیا ٹرائیل کی فضا پیدا ہو گئی جو کسی طرح بھی مستحسن قرار نہیں دی جا سکتی۔

اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوسرے دور میں وہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کی زد میں آ گئے لیکن آٹھ سال کے بعد جب جدہ سے لوٹے تو اللہ تعالیٰ نے پھر ان کو وزیراعظم بنا دیا اور ان سارے ادوار میں انہوں نے پاکستان اور ملتِ پاکستان کی خدمت کرنے اور اپنے رُتبے کا باوقار تحفظ کرنے کے بجائے وہ کچھ کیا جو جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں پیش کر دیا ہے اور سپریم کورٹ نے اپنے معیار پر اس رپورٹ کو پرکھنا ہے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دینا ہے مگر سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی میاں نوازشریف نے 20 جولائی 2017ء کو سیالکوٹ میں اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ میرے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے یہ احتساب نہیں استحصال ہے گویا بالآخر قدرت نے میاں نوازشریف کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ پاکستان کے مکمل ایگزیکٹو اختیارات اپنے پاس ہونے کے باوجود وہ اپنے ماتحت اداروں کے شکنجے میں اس طرح احتسابی طور پر جکڑے جا چکے ہیں کہ اب ان کو انتہائی مایوسی کے عالم میں اپنا احتساب بھی استحصال معلوم ہو رہا ہے، اب وہ اپنے ساتھیوں کے بجائے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کو خود ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ بے ہودہ الزامات برداشت نہیں کر سکتے ان کے صبر کا امتحان نہیں لیا جانا چاہئے اور یہ تماشا بند ہو جانا چاہئے۔ یہی وہ عبرت کا مقام ہے جو مکافات عمل کا آئینہ دار ہے بہر حال میاں نوازشریف کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے اتنی شدید گھبراہٹ کا شکار نہیں ہونا چاہئے تاہم۔

جو کچھ بھی کہ بویا تھا اسی کا ہے یہ پھل بھی

دیکھو تو یہ اندازِ مکافاتِ عمل بھی

مزید : کالم


loading...