ڈاکو پولیس

ڈاکو پولیس
 ڈاکو پولیس

  


وہ خوف و دہشت میں لپٹا زندہ لاش کی طرح میرے سامنے بیٹھا تھا، خوف، درد، دکھ اُس کی ہڈیوں تک اُتر گیا تھا، اُس کی رگوں میں خون کی بجائے کرب اور خوف دوڑ رہا تھا، اُس کے اعصاب بُری طرح بکھر چکے تھے، اُس کی آنکھوں میں زندگی کی چمک مدہم پڑتی جارہی تھی، خوف اُس کے جسم اور روح کو امربیل کی طرح چاٹ رہا تھا، وہ زندگی اور انصاف کی بھیک مانگتا پھر رہا تھا، وہ مایوسی کی قبر میں دفن ہوتا جارہا تھا، خوف اُس کو دیمک کی طرح چاٹ رہا تھا، وہ ایک شریف جوان تھا، اُس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ اُس کو ناکر وہ جرم کی سزا دی گئی تھی، اُس کے چہرے پر زندگی کی سرخی کی جگہ موت کی زردیپھیلتی جارہی تھی، اُس کے جسم کے انگ انگ سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اُس کا جسم خزاں زدہ پتے کی طرح لرز رہا تھا، وہ شدید کرب سے بید مجنوں کی طرح لرز رہا تھا۔ اُس کے جسم کا رواں رواں مدد مدد پکا ر رہا تھا، وہ زندگی کی بھیک ایک در سے دوسرے در تک مانگ رہا تھا۔

اُمید کی کرن کو تلاش کرتے کرتے وہ مجھ فقیر تک آپہنچا تھا، روزانہ کی طرح میرے ملاقاتیوں میں بہت سارے لوگ آئے ہوئے تھے، انہی ملاقاتیوں میں تیس سالہ جوان بھی کھڑا تھا، انتہائی شرافت اور مہذب انداز میں اپنی باری کے انتظار میں تھا، وہ آخر میں آرام سے بات کرنا چاہتا تھا، اُس کے چہرے کی اداسی مجھے جلد ہی اُس کے پاس لے گئی، اُس کے پاس بیٹھ کر میں نے شفقت بھری مسکراتی نظروں سے اُس کی طرف دیکھا اور کہا جناب میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں، میرے رویئے سے اُس کے اشکوں کا سیلاب بہہ نکلا۔ اُس نے آنکھوں کے چھپر کھول دئیے تاکہ غم کا سمندر بہہ جائے، وہ خوب بلک بلک کر رونے لگا، میں اُس کو شفقت بھری تھپکیاں دیتا رہا، جب اُس نے خوب روکر خود کو ہلکا کرلیا تو اپنا غم سنانا شروع کیا سر میں پچھلے 8سال سے دوبئی کی انٹرنیشنل فرم میں جاب کرتا ہوں، اپنی محنت سے میں آجکل اچھی پوسٹ پر ہوں اور اچھا خاصا کمالیتا ہوں، اللہ تعالی نے میرے رزق کے دروازے وا کئے تو میں نے اِس کو اپنے رشتہ داروں میں بانٹنا شروع کردیا۔ خاندان میں جس کو بھی میری ضرورت ہوتی، میں دل کھول کر اُس کی مدد کرتا، اِسی جذبے کے تحت میں چھ ماہ پہلے خاندان میں کسی یتیم بیٹی کی شادی کے لئے پاکستان آیا، میں ساہیوال شہر کا رہنے والا ہوں یتیم بچی راولپنڈی رہتی تھی، میں اُس کے لئے پیسے اور بہت سارے تحفے وغیرہ لے کر اپنی گاڑی میں راولپنڈی روانہ ہوا، راستے میں گجرات شہر میں رات کا کھانا کھایا کھانا کھانے کے بعد جب شہر سے نکلنے لگا تو پولیس ناکے پر پولیس نے مجھے روکا اور کہا گاڑی کے کاغذات چیک کراؤ، میں نے کاغذات وغیرہ چیک کرائے پولیس والوں نے کہا۔ آپ کے کا غذات ٹھیک نہیں ہیں، ہمارے ساتھ پولیس تھانے چلو، کیونکہ میں بے گناہ تھا اور میرے کاغذات بھی پور ے تھے، اِس لئے میں بے خوف و خطر پولیس والوں کے ساتھ چل پڑا پولیس اہلکار میرے ساتھ بیٹھ گئے، میں اُن کے اشاروں پر گاڑی چلانے لگا، جب ہم شہر سے نکلنے لگے تو میں نے کہا آپ مجھے کہاں لے کر جارہے ہیں تو انہوں نے کہا خاموشی سے چلو میں مجبوراً اُن کے اشاروں پر گا ڑی چلاتا رہا۔

ہم شہر سے باہر ویرانے میںآگئے، مجھے خطرے کی بو آرہی تھی، لیکن میں اُن کے اشاروں پر چلنے پر مجبور تھا، چلتے چلتے ہم کسی گاؤں کے باہر کسی ڈیرے تک پہنچ گئے، مجھے احساس ہوچکا تھا کہ میں شدید خطرے میں گھر چکا ہوں، لیکن مجھے حوصلہ یہ تھا کہ مجھے پولیس ناکے پر پولیس کی وردیوں میں ملبوس عملے نے پکڑا ہے یہ ہمارے محافظ ہیں یہ میرے ساتھ ظلم زیادتی نہیں کریں گے، کیونکہ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پولیس والے خود ڈاکو ہیں یہ خود میرے اغوا میں ملوث ہیں، میں نے کافی احتجاج کیا کہ آپ مجھے کہاں لے کرآگئے ہیں تو سب انسپکٹر نے بے دردی سے مجھے مارنا شروع کر دیا کہ تم دہشت گرد ہو ہم نے تم کو پکڑلیا ہے، اگر تم نے آواز نکالی تو تم کو ابھی قتل کر دیا جائے گا یہ الزام سن کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، میں نے جس نے کبھی کسی مچھر کو بھی نہیں مارا جو پچھلے کئی سال سے دوبئی میں مزدوری کررہا تھا وہ دہشت گرد۔

یہ سُن کر میرے اوسان خطا ہوچکے تھے اور میں کسی بہت بڑی مصیبت میں پھنس چکا تھا، میں سیدھا سادا انسان مہذب لوگوں کے ساتھ رہا۔ شرافت سے اپنی نوکری کررہا تھا، ایسے اجڈ ظالم جانوروں کے ہتھے چڑھ گیا تھا، ڈیرے پر آکر انہوں نے مجھے اتارا اور ایک کمرے میں لاکر ہا تھوں میں ہتھکڑیاں پہنا کر چلے گئے، کمرے میں پہلے بھی تین جوان میری طرح ہی ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے بے بسی کے عالم میں میری طرف دیکھ رہے تھے، اُن کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ یہ وہاں پولیس ناکہ نہیں پولیس ڈاکہ تھا۔یہ پولیس ڈکیتی ہے، میں جن کو پولیس کی وردیوں میں محافظ سمجھ رہا تھا، وہ محافظ نہیں بلکہ پولیس کی وردیوں میں ڈکیت تھے، جو سرعام پولیس کی وردیوں میں اغوا اور ڈکیتی کر رہے تھے، جس سب انسپکٹر نے مجھے اغوا کیا تھا، وہ جعلی پو لیس آفیسر نہیں تھا، بلکہ اصلی پولیس انسپکٹر تھا، اُس نے اپنی ڈیوٹی ناکے پر لگائی ہوئی تھی، اُس ناکے سے وہ اپنی پسند کی امیر سواریاں پکڑکر اُن کو اپنے دوست وڈیروں کے ڈیرے پر لے جاکر لوٹ مار کرتا، پیسے نکلوانے کے لئے ظلم و بربریت کی درد ناک داستانیں رقم کرتا۔

اِس ترقی یافتہ دور میں وہ بلاخوف و خطر اغوا ڈکیتی جیسا خوفناک جرم سر عام کر رہا تھا، اُس کی بے خوفی اور ہٹ دھرمی کا عالم دیکھیں۔ اُس نے اپنی ذاتی جیلیں بنا رکھی تھیں، وہ امیرمسافروں کو پکڑتا، اُن پر دہشت گردی کا الزام لگاتا پھر اپنی مرضی کے ڈیروں پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا، ان کو درد ناک سزائیں دے کر خوف زدہ کرتا، اُن کے گھر والوں سے پیسے منگواتا یہ ساری باتیں وہاں کمرے میں موجود قیدیوں نے مجھے بتائیں، ان بیچاروں نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے اس کے قیدی ہیں چند گھنٹوں بعد ہی وہ انسپکٹر دوبارہ آیا،ہم سب کی ہتھکڑیاں چھت سے کھولیں اورہمیں باہر صحن میں لے آیا، جہاں اُس کے بدمعاش ساتھی پہلے سے کھڑے تھے، انہوں نے ہمیں دیکھتے ہی مارنا شروع کردیا،وہ ہمیں دہشت اور خوف میں مبتلا کرنا چاہتے تھے، ہماری چیخ و پکار سننے والا کوئی نہ تھا ہم اُن درندوں کے رحم و کرم پر تھے، وہ انتہائی بے رحمی سے ہم پر ظلم کرتے اور قہقہے لگا رہے تھے، ہمیں اچھی طرح مارنے کے بعد جب وہ تھک گئے تو میں نے پوچھا جناب میرا قصور کیا ہے تو وہ بدمعاش بولا تمہارا قصور یہ ہے کہ تم نئی کار میں کیوں گھوم رہے تھے، تمہارے پاس پیسہ ہے، میں نے کہا جناب آپ میری کارلے لیں، میرے سارے پیسے لے لیں، لیکن خدا کے لئے ہم پر یہ ظلم نہ کریں تو وہ اپنے کام کی طرف آیا اور کہا تمہاری گاڑی سے چیک بک ملی ہے، تمہارے اکاؤنٹ میں جتنے بھی پیسے ہیں اِس چیک پر بھرو میں جاکر پیسے لوں گا تو تم کو رہا کر دوں گا میں نے فوری طو ر پر اُس چیک پر ساری رقم بھر دی کہ جاؤ اور جاکر کے لو انسپکٹر نے چیک لیا اور یہ کہہ کر چلا گیا کہ اگر پیسے نہ ملے تو تمہیں جلاکر راکھ کردوں گا۔

مزید : کالم


loading...