ہر صحافی قابلِ فروخت نہیں ہوتا

ہر صحافی قابلِ فروخت نہیں ہوتا
 ہر صحافی قابلِ فروخت نہیں ہوتا

  


اللہ کا شکر ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد پاناما لیکس کے حوالے سے کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں مکمل ہو گئی ہے اس کیس کا فیصلہ جو بھی ہو اطمینان کی بات یہ ہے کہ اب فریقین کے جذبات کی شدت میں کمی واقع ہونا شروع ہو جائے گی۔تماشا لگانے والوں اور تماشا بننے والوں دونوں ہی کے جذبات قابو سے باہر ہو رہے تھے۔ایک دوسرے کے خلاف قابلِ اعتراض زبان استعمال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں،لیکن وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ’’میرے صبر کا امتحان مت لو‘‘۔ جمعرات کو ایک جلسے میں نواز شریف نے اپنے مخالفین کے لئے ایسی زبان بھی استعمال کی جو ان کے منصب کے شانِ شایان نہیں تھی۔ بعض غیر ذمہ داران کی طرف سے عدلیہ اور فوج کو حکومت مخالف کسی مبینہ سازش کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا تھا،جبکہ ایسا خیال کرنا حقائق کے یکسر خلاف ہے۔اِس لئے سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کا مکمل ہونا خوش آئند ہے اور امید ہے سپریم کورٹ بھی جتنی جلدی ممکن ہُوا اس کیس سے متعلق اپنا فیصلہ سنا دے گی، کیونکہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے محترم جج صاحبان سے بہتر کون جانتا ہے کہ جب تک پاناما کیس کا فیصلہ سنایا نہیں جاتا پوری قوم ایک غیر ضروری ہیجان کا شکار رہے گی۔عدلیہ پر تمام فریقوں کو اعتماد کرنا چاہیے۔میرا تو یقین ہے کہ عدلیہ آئین اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے انصاف پر مبنی ایک مثالی فیصلہ کرے گی۔ چاہے یہ فیصلہ کسی بھی فریق کے خلاف یا حق میں ہو۔سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کو صدقِ دل سے قبول کر کے اب آگے کی طرف بڑھنا چاہئے اور تصادم اور افتراق کا راستہ ترک کر کے ملک و قوم کے بہتر مستقبل کے لئے اپنا اپنا حصہ اور کردار ادا کرنا چاہئے۔ اقتدار کی ہوس میں کسی بھی فریق کو ایسی حدود عبور نہیں کرنی چاہئیں کہ سیاست دانوں کی انتہا پسندی اور نادانیوں کی زد میں ملکی اور قومی مفاد بھی آ جائے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک پاناما کیس کا اتنا ذکر ہی کافی ہے۔مَیں اب اپنے قلم کا رُخ اس موضوع کی طرف موڑنا چاہتا ہوں جس پر تین چار دن سے کالم لکھنے کا سوچ رہا تھا۔برادرم حامد میر نے 17جولائی 2017ء کے اپنے کالم میں یہ تحریر کیا ہے کہ ’’جے آئی ٹی کی رپورٹ کے سامنے آنے سے کافی دن پہلے ایک وفاقی وزیر نے اس ناچیز کے ساتھ شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کل آپ کا لب و لہجہ بڑا سخت ہے۔کیا کوئی ناراضی ہے؟ یہ سُن کر مَیں نے عرض کیا کہ سوال اٹھانا ہر سچے صحافی کا شیوہ ہے۔مَیں نے بھی اپنی بساط کے مطابق کچھ سوالات اٹھائے تو مجھے جواب دینے کی بجائے خوش کرنے کی کوشش کی گئی۔خوش کرنے کی اس ناکام کوشش نے مجھے ناراض تو نہیں کیا البتہ خبردار ضرور کر دیا اور جب مَیں نے مزید سوالات اٹھانے شروع کئے تو پھر جو ہُوا وہ ایک لمبی کہانی ہے۔مَیں بہت گناہ گار بندہ ہوں۔ کبھی دیانت و امانت کا پیکر بننے کی کوشش نہیں کی، لیکن جو خریدنے آئے انہیں یہ ضرور بتا دیا کہ ہر صحافی قابلِ فروخت نہیں ہوتا۔خرید و فروخت کی یہ منڈی ان لوگوں نے سجائی تھی جنہیں عرفِ عام میں درباری کہا جاتا ہے۔ ذرا سوچئے کہ اگر ایک صحافی کا منہ بند کرنے کے لئے اتنے حربے آزمائے جا سکتے ہیں تو جے آئی ٹی کے ارکان کو قابو کرنے کے لئے کیا کچھ نہ ہُوا ہو گا‘‘۔

حامد میر کا یہ کالم پڑھ کر مجھے سخت صدمہ پہنچا۔مَیں نے کبھی حزب اختلاف کی طرف سے نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف کرپشن کے الزامات کی حمایت نہیں کی،لیکن میرا دُکھ یہ ہے کہ حامد میر کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کے بجائے اس کو خریدنے کی کوشش کیوں کی گئی۔میرے نزدیک یہ جرم کرپشن سے بھی کہیں بڑا ہے کہ آپ کسی کو سچ کے اظہار سے روکنے کے لئے اُسے اخلاقی طور پر اتنا گِرا ہوا سمجھ لیں کہ اس کو رشوت کی پیشکش کر دیں اور اسے خریدنے کی کوشش کریں۔مقام شکر ہے کہ حامد میر نے درباریوں کی پیشکش کو ٹھکرا دیا اور کسی طمع، حرص اور لالچ کا شکار ہونے سے انکار کر دیا،لیکن حامد میر کے انکشاف سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ حکمران طبقے پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو ترغیب اور تحریص کے ذریعے حکومت نے اپنے ڈھب پر لانے کی کوشش کی۔ حامد میر نے اپنے حوالے سے تو یہ پیغام دے دیا کہ ہر صحافی قابلِ فروخت نہیں ہوتا،لیکن اِس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ کچھ صحافیوں نے حکومتی مراعات اور حکومت کی طرف سے دیا گیا لالچ قبول بھی کر لیا ہو گا۔حامد میر کے کالم سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ جب اس نے حکومت کے درباریوں کی مالی پیشکش (رشوت) قبول نہیں کی تو پھر اُسے ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش بھی کی گئی۔حکمرانوں کے پاس کئی حربے ہوتے ہیں جسے استعمال کر کے سچ بولنے والے صحافیوں کو(اُن کے) فرائض کی ادائیگی سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔کسی صحافی کے خلاف سب سے بڑی کارروائی یہ ہو سکتی ہے کہ جس ادارے میں وہ کام کر رہا ہو، اُس کو وہاں سے نکلوا دیا جائے۔ممکن ہے حامد میر کے ساتھ ایسا عمل کر گزرنے کے لئے بھی کوئی قدم اٹھایا گیا ہو۔سب کو رزق دینے والا تو اللہ ہے،لیکن اختیارات اور اقتدار کے نشے میں چور حکمرانوں کو یہ زعم بھی ہوتا ہے کہ وہ اگر کسی صحافی سے ناراض ہو جائیں تو وہ اسے مالی پریشانیوں میں بھی مبتلا کروا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی آزمائشوں اور مشکلات سے محفوظ رکھے۔

نواز شریف کے خلاف جب سے پاناما کیس شروع ہُوا ہے، بہت سے ممتاز صحافی دیانتداری سے یہ رائے رکھتے ہیں کہ نواز شریف اس سارے معاملے میں یکسر بے قصور ہے اِس لئے صحافیوں کا یہ گروپ مسلسل نواز شریف کی حمایت میں لکھ اور بول رہا ہے۔اِسی طرح معروف صحافیوں، کالم نگاروں اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد نواز شریف کے خلاف کھل کر اپنے نقطہ نظر کا اظہار کر رہی ہے۔مَیں نہ تو نواز شریف کی حمایت کرنے والے صحافیوں کی دیانتداری پر شک و شبہ کا اظہار کرتا ہوں اور نہ ہی نواز شریف پر تنقید کرنے والے صحافیوں کے بارے میں اپنے دِل میں ایسا کوئی شک رکھتا ہوں کہ اِن صحافیوں کو حزب اختلاف نے خرید رکھا ہے،لیکن حامد میر کے کالم سے یہ ضرور ظاہر ہو گیا ہے کہ حکومت نے کچھ حرف فروشوں کو خرید رکھا تھا اور جو باضمیر صحافی تھے۔ انہوں نے بکنے سے انکار کر دیا۔عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں بھی پاناما کیس سے دستبردار ہونے کے لئے دس ارب روپے کی پیشکش ہوئی تھی۔حکومت نے فی الفور عمران خان کے اس سنگین الزام کی تردید کر دی تھی اور اب شہباز شریف نے اس ہتک آمیز الزام لگانے پر عمران خان کے خلاف دس ارب روپے ہرجانہ کا دعویٰ بھی دائر کر دیا ہے۔ عدالت میں اِس دعوے کے حوالے سے بھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا کہ عمران خان کا الزام درست تھا یا ہر جانے کا دعویٰ کرنے والے میاں شہباز شریف کا موقف صحیح ہے،لیکن حامد میر کے اس الزام کی تردید حکومت کی طرف سے نہیں کی گئی کہ پاناما کیس کی سماعت کے دوران میڈیا سے منسلک افراد یا اداروں کو خریدنے کی کوشش کی گئی اور میرا یہ یقین ہے کہ حامد میر کے اِس الزام کی تردید کوئی کرے گا بھی نہیں۔لامحالہ پھر حامد میر کے الزام کو درست تسلیم کرنا پڑے گا اور یہ الزام اگر صحیح ہے تو میری نظر میں حکومت ایک سنگین جرم کی مرتکب ہوئی ہے۔

حامد میر ہو یا کوئی اور صحافی اس کی نیک نامی کو نقصان پہنچانا اور اُسے خریدنے کی کوشش میرے خیال میں کرپشن سے بھی بڑا جرم ہے۔کسی شخص کو بدعنوان اور بددیانتی کے لئے آمادہ کرنا اور ترغیب دینا اور ایسی ترغیب دینے والا شخص اگر وفاقی وزیر یا کوئی بڑا سیاست دان ہو تو پھر اخلاقی اور قانونی اعتبار سے جرم کی نوعیت اور زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔ میرا مشورہ یہ ہو گا کہ جس طرح شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا ہے۔ اسی طرح کا ایک دعویٰ حامد میر کی طرف سے حکومت کے اس درباری کے خلاف بھی ضرور دائر ہونا چاہئے جس نے حامد میر کو خریدنے کی کوشش کر کے ایک صحافی کی عزت اور شہرت کو داغدار کرنے کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔حامد میر کو اس شخص کو ضرور بے نقاب کرنا اور عدالت کے کٹہرے میں ایک ملزم کے طور پر کھڑا کرنا چاہئے، جس نے حامد میر کو بدنام کرنے اور اس کی شہرت و عزت کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔اگر کوئی وفاقی وزیر یا کوئی بڑا حکومتی عہدیدار کسی صحافی کے پاس یہ نیت اور پیشکش لے کر پہنچ جاتا ہے کہ وہ اس صحافی کو خریدنے کے لئے حاضر ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے تو اس صحافی کو بکنے والی جنس سمجھ لیا ہے۔اگرچہ وہ صحافی ایسا ہر گز نہیں تھا،لہٰذا ضروری ہو گیا ہے ہتکِ عزت کا دعویٰ اس صحافی کی طرف سے بھی دائر ہو، جس نے بکنے سے انکار کر دیا ہو، مگر اسے خریدنے کی کوشش کی گئی تھی۔حامد میر نے اگر یہ دعویٰ کر دیا تو آئندہ کے لئے حکومت کے درباری بھی محتاط اور خبردار ہو جائیں گے کہ کن صحافیوں کو ’’خوش‘‘ کرنا ہے اور کن صحافیوں کو ’’دام و درھم‘‘ کی پیشکش نہیں کرنی۔حکمرانوں کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ہر صحافی قابلِ فروخت نہیں ہوتا۔میڈیا سے وابستہ اکثریت ایسی نہیں ہے۔ بکنے والے لوگ چند ہی ہوتے ہیں،جنہیں نہ اپنی عزت پیاری ہے اور نہ قلم کی حُرمت۔

مزید : کالم


loading...