پاناما کیس سے بڑا مسئلہ: انتخابی اصلاحات

پاناما کیس سے بڑا مسئلہ: انتخابی اصلاحات
 پاناما کیس سے بڑا مسئلہ: انتخابی اصلاحات

  


پاناما کیس کی سرد و گرم فضا میں ایک اور مسئلہ جو سر ابھار رہا ہے اور جس کی طرف وہ توجہ نہیں دی جا رہی، جس کی ضرورت ہے، وہ انتخابی اصلاحات سے تعلق رکھتا ہے۔ سبھی سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابی اصلاحات کے بغیر آئندہ انتخابات کا انعقاد ہوا تو انہیں قبول نہیں کریں گے۔ شنید ہے کہ انتخابی اصلاحات کے مسودے پر تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے سوا سبھی جماعتوں نے دستخط کر دیئے ہیں، اس کا مطلب ہے ابھی تک اسے متفقہ نہیں بنایا جا سکا۔ گویا پاناما کیس کے بعد بھی کوئی سکھ چین کی گھڑی نظر نہیں آتی کیونکہ تحریک انصاف ہی سب سے زیادہ انتخابی اصلاحات پر زور دیتی رہی ہے۔ پاناما کیس کی سرد و گرم فضا میں ایک اور مسئلہ جو سر اُبھار رہا ہے اور جس کی طرف سنجیدہ توجہ نہیں دی جا رہی، وہ انتخابی اصلاحات سے تعلق رکھتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو صوبائی الیکشن کمشنروں کی نسبت کلیدی اختیارات دیئے جائیں۔ اب اُن کی حیثیت الیکشن کمیشن کے دیگر چار ممبران کے برابر ہے،یعنی جو فیصلہ صوبائی الیکشن کمشنر بطور ممبر الیکشن کمیشن کر سکتا ہے، وہی فیصلہ چیف الیکشن کمیشنر بھی کرے،اُسے نظرثانی یا نگرانی کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ جب2013ء کے انتخابات ہوئے تھے تو چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم اسی لئے مستعفی ہو گئے تھے کہ وہ صوبائی الیکشن کمشنروں کے سامنے خود کو بے بس پاتے تھے۔ صوبائی الیکشن کمشنروں پر دھاندلی کو تحفظ دینے کی بابت کئی الزامات بھی لگے اور انہیں برطرف کرنے کے مطالبات بھی کئے گئے،مگر کچھ نہ ہو سکا، تاوقتیکہ وہ اپنی مدت پوری کر کے گھر نہیں چلے گئے۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ جب آئین میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ رکھا گیا ہے تو پھر اُسے الگ اختیارات کیوں نہیں دیئے گئے۔وہ کمیشن کے ایک ممبر کے طور پر ہی کیوں کام کرتا ہے،وہ انتظامی طور پر صوبائی الیکشن کمشنروں کے کام کی نگرانی اور اُن کے فیصلوں کے خلاف اپیل کیوں نہیں سُن سکتا؟

انتخابات کے موقع پر الیکشن کمیشن میں دو عہدے ہی اہم ہوتے ہیں۔ایک صوبائی الیکشن کمشنر اور دوسرا ریٹرننگ آفیسر، سب کچھ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور یہ جو چاہیں نتیجہ جاری کر دیں،اُسے کوئی نہیں روک سکتا،بعد میں چاہے انتخابی عذر داریاں داخل کر کے جو مرضی ہوتا رہے۔2013ء کے انتخابات کو آصف علی زرداری نے بھی ریٹرننگ افسران کے انتخابات قرار دیا تھا۔ کراچی میں ایم کیو ایم نے ضمنی انتخاب میں دھاندلیوں کی شکایت کی اُدھر بلوچستان میں ایم این اے کی نشست پر حال ہی میں ہونے والا ضمنی انتخاب اِس لحاظ سے متنازعہ ہو گیا کہ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے امیدوار کے حق میں پرچیوں پر ٹھپے لگا کر جعلی ووٹ ڈالنے کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی۔ اب کوئی اس سوال کا جواب دے کہ جو الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات کی ایک دو نشستوں پر بھی فول پروف انتخابات نہیں کرا سکتا،وہ قومی انتخابات میں شفافیت کو کیسے یقینی بنائے گا؟حالت یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں انتخابی دھاندلی کا اتنا طویل کیس چلنے کے باوجود الیکشن کمیشن نے اصلاحات کے ضمن میں کچھ نہیں کیا،نہ ہی حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر کوئی متفقہ انتخابی اصلاحات کا بل تیار کیا ہے۔اب ایسی صورتِ حال میں کیسے ممکن ہو گا کہ 2018ء کے انتخابات کو شفاف بنایا جا سکے؟

اس وقت انتخابات کے لئے جو طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے،وہ کاغذی طور پر بڑا فول پروف نظر آتا ہے، لیکن عملاً اس کے ساتھ جو کچھ ہوتا،اس کی مثالیں ماضی میں سامنے آ چکی ہیں۔ہر پولنگ سٹیشن کو وہاں درج ووٹروں کی تعداد کے مطابق ووٹ پرچیاں جاری کی جاتی ہیں جو تعداد سے سو سوا سو زیادہ ہوتی ہیں،تاکہ خراب ہونے کی صورت میں استعمال کی جا سکیں۔پولنگ کا عملہ شناخی کارڈ اور تصویر دیکھ کر ووٹر کو پرچی جاری کرتا ہے اور اُس کے پیچھے مہر اور اسسٹنٹ پریذائیڈنگ آفیسر کے دستخط بھی موجود ہوتے ہیں۔پریذائیڈنگ آفسیر دن بھر کاسٹ ہونے والے ووٹوں کا گوشوارہ تیار کرتا ہے اور ووٹر لسٹوں کی تفصیل بھی دیتا ہے۔ جاری ہونے والے ووٹوں کی کاؤنٹر فائلز بھی اُسے فراہم کرنا ہوتی ہیں، پھر وہ پولنگ سٹیشن میں موجود امیدواروں کے نمائندگان کو نتیجے کی شیٹ بھی جاری کرتا ہے۔دیکھا جائے تو اس سارے عمل میں کہیں کوئی خلاء نظر نہیں آتا اور دھاندلی کے امکانات کی کوئی وجہ بھی دکھائی نہیں دیتی،مگر اس کے باوجود دھاندلی ہوتی ہے۔2013ء کے انتخابات کو چیلنج کرتے ہوئے تحریک انصاف نے جن حلقوں میں انتخابات کو چیلنج کیا تھا،اُن میں یہ ہوشر با حقائق سامنے آئے کہ اکثر پولنگ سٹیشنوں کی کاؤنٹر فائلز کا ریکارڈ بھی موجود نہیں تھا۔بہت سے ووٹ شناختی کارڈز نمبروں کے بغیر تھے۔ ہزاروں ووٹ ایسے بھی تھے، جن کا اندراج اُس حلقے میں تھا ہی نہیں،مگر انہیں ڈلوایا گیا۔ایسے شناختی کارڈ نمبر لکھے گئے، جو دوسرے حلقوں یا شہروں کے تھے، یہ سب کچھ کیسے اور کس سطح پر ہوا، بدقسمتی سے اس کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔الیکشن کمیشن نے ذمہ داری نادرا پر ڈالی اور نادرا الیکشن کمیشن کو موردِ الزام ٹھہراتا رہا۔اس سے یہ واضح ہو گیا کہ موجودہ انتخابی طریقۂ کار میں بہت سے ایسے چور دروازے ہیں جن سے فائدہ اُٹھا کر کالے کو سفید اور سفید کو کالا کر کے دکھایا جا سکتا ہے۔ اس میں آر او یعنی ریٹرننگ آفیسر کا کردار بہت اہم ہے۔اگر وہ پولنگ کے دوران اور پولنگ کے بعد گنتی کے موقع پر فول پروف انتظامات کو یقینی بنا دے،نیز پریذائیڈنگ افسروں کی طرف سے آنے والے نتائج کو مرتب کرتے ہوئے اُن تمام ضابطوں اور اعداد و شمار کا خیال رکھے جو انتخابات کو شفاف بنانے کے لئے وضع کئے گئے ہیں تو شاید یکطرفہ نتائج سامنے نہ آئیں، مگر ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ گڑ بڑ ہوتی ہی آر اوز کی سطح پر ہے۔ نتائج وہیں تبدیل ہوتے ہیں،جیتنے والے راتوں رات ہار جاتے ہیں اور ہارنے والے جیت جاتے ہیں۔

اب سب سے اہم ٹاسک تو یہی ہے کہ آر اوز کی سطح پر انتخابی نتائج کو فول پروف کیسے بنایا جائے؟ 2013ء کے انتخابات نے آن لائن رزلٹ اکٹھے کرنے کی کوشش کی تھی اور ہر ریٹرننگ افسر کے دفتر میں آئی ٹی کا عملہ بھی تعینات کیا گیا تھا، جو ہر پریذائیڈنگ افسر کے ہاتھ سے بنی رزلٹ شیٹ کو سکین کر کے الیکشن کمیشن کو فوری بھجواتا تھا۔ یہ سسٹم اُس رات 12بجے پورے مُلک میں حیران کن طور پر خراب ہو گیا، جس کے بعد رزلٹ آر اوز کے پاس جمع ہونے لگے اور بعدازاں وہ صرف نتائج الیکشن کمیشن کو بھجواتے رہے۔ گویا وہ ڈیٹا جو فوری طور پر پریذائیڈنگ افسران کے دستخطوں سے الیکشن کمیشن کو موصول ہونا چاہئے تھا،وہ ریٹرننگ افسروں کے پاس رُک گیا اور دھاندلی کے لئے ایک طرح سے گنجائش پیدا ہو گئی۔اس بات کو تو ایک عام آدمی بھی سمجھتا ہے کہ جب تک انتخابات کو صاف شفاف نہیں بنایا جاتا، جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی،کیونکہ اگر عوام کی حقیقی رائے کے مطابق نمائندے سامنے نہیں آتے اور مختلف حربوں اور نتائج میں ہیرا پھیری سے وہ لوگ جیت جاتے ہیں، جنہیں حقیقت میں عوام نے مسترد کیا ہے تو حقیقی نمائندگی کے تقاضے کیسے پورے ہو سکتے ہیں؟ انتخابی اصلاحات کا جو بل منظور کیا گیا ہے تحریک انصاف نے اس کا بائیکاٹ کر دیا ہے اب اگر یہی بل پارلیمنٹ سے منظور ہوا تو کیا تحریک انصاف اس کے تحت انتخابات میں حصہ لے گی؟

مزید : کالم


loading...