پاک فوج کا ایک غیر روائتی امتحان(1)

پاک فوج کا ایک غیر روائتی امتحان(1)
 پاک فوج کا ایک غیر روائتی امتحان(1)

  


دیکھتے ہیں پانامہ لیکس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آتا لوگوں کی اکثریت گومگو کی کیفیت میں رہے گی۔پاکستانی سیاست کا یہ موضوع ایسا ہے کہ گوئم مشکل وگرنہ گوئم مشکل کی ضرب المثل اس پر عین مین صادق آتی ہے۔ پانامہ سے پہلے بھی دھرنوں نے قوم کا ناطقہ بند کر رکھا تھا لیکن اس کے بعد تو صورتِ حال بالکل سیاّل ہو چکی ہے۔ کوئی حتمی پیشگوئی اور کوئی تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا والے ہر روز محفلیں سجاتے ہیں۔ بال کی کھال اُتارنے میں لگے رہتے ہیں لیکن وہ کھال اُترے نہ اُترے قوم کے تابِ شکیبائی کی کھال ضرور اُتر رہی ہے۔ آپ لاکھ غیر جانبداری کا دعویٰ کریں لیکن درمیانِ قعرِ دریا تختہ بندی کی صورت میں دامن خشک نہیں رکھا جا سکتا۔

دشمنوں کا مقصود پاکستان کو داخلی چیلنجوں میں محصور کر کے اس کی مسلح افواج کو ایک غیر روائتی امتحان میں ڈالنا ہے۔۔۔۔کہنے کو ہم کہہ دیتے ہیں کہ پاکستانی افواج آج دنیا کی سب سے زیادہ جنگ آزمودہ افواج ہیں۔ نظر بظاہر گزشتہ دو عشروں سے پاکستان کو دہشت گردوں کی طرف سے جن مشکلات کا سامنا ہے، اور رہا ہے وہ چند در چند ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے ان کا مقابلہ کر کے کوئی ’’عظیم‘‘ جنگی تجربہ حاصل کیا ہے میرے مطابق یہ نظریہ یا خیال موضوع کی Over-Simplification ہے۔ ہم اگرچہ 70 ہزار عسکری اور غیر عسکری افراد کی قربانی دے چکے ہیں لیکن تاریخِ جنگ میں یہ قربانی اصل اور روائتی جنگ کے تجربات کے تناظر میں اُس کسوٹی پر پوری نہیں اُترتی جس کا ہم دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ ہماری افواج نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر ایک بے مثال ’’جنگی تجربہ‘‘ حاصل کیا ہے۔ تاریخِ جنگ میں کسی بھی ملک کی خانہ جنگی جیسی کیفیات کو معروف مفہوم میں اصل جنگ کی کیفیات سے تشبیہہ نہیں دی جا سکتی۔۔۔ آیئے ذرا تاریخ جنگ کے آئینے میں ماضیئ قریب کے معروضی حالات کو دیکھتے ہیں۔

20ویں صدی کی دوسری عالمی جنگ اس حوالے سے تاریخِ جنگ کی ایک ایسی مکمل اور بھرپور جنگ تھی کہ جس میں یورپ، افریقہ اور ایشیاء کے محاذوں پر خونریز ترین معرکے لڑے گئے۔ امریکہ اور آسٹریلیا اگرچہ براہِ راست اس جنگ سے متاثر نہ ہوئے لیکن بالواسطہ ان کی افواج کی شرکت ظاہر و باہر رہی۔ یہ جنگ تینوں مسلح افواج، بری، بحری اور فضائی کی جنگ تھی۔ اس جنگ کے آخری ایام میں جرمنی کی طرف سے وی۔ ون (V-1) اور وی ٹو (V-2) قسم کے راکٹوں کو بعد میں ڈویلپ ہونے والے بین البراعظمی میزائلوں کی اولین فصل کا نام دیا جا سکتا ہے۔ چھ سال بعد اس جنگ کا خاتمہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے ہوا۔ تاہم یہ استعمال یک طرفہ تھا کہ اگر کہیں دو طرفہ ہو جاتا اور جاپان یا جرمنی بھی کہیں اس ایٹم بم کو ڈویلپ کر لیتے تو آج روئے زمین کا بیشتر حصہ ویران، ریگستانوں اور سلگتے صحراؤں پر مشتمل ہوتا!

اس جنگ (War) کی چھوٹی بڑی لڑائیوں (Battles) پر جنگ کے دوران ہی بہت سی کتابیں لکھی گئیں لیکن اختتامِ جنگ پر تو بطور خاص انگریزی زبان میں اتنا زیادہ تحریری مواد سامنے آیا کہ عسکری دانش وروں کے ہوش و حواس گم ہوتے رہے۔۔۔۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اس جنگ میں انسان کی جسمانی، روحانی اور نفسیاتی زندگی کا کون سا ایسا حصہ تھا جس پر بھرپور انداز میں تحریری تبصرے نہ کئے گئے اور دستاویزی اور فیچر فلمیں نہ بنائی گئیں۔ جو لوگ اس جنگ میں اعلیٰ عسکری مناصب پر فائز رہے،انہوں نے بھی اپنے ذاتی تجرباتِ جنگ کو جس اسلوبِ تحریر میں پیش کیا، وہ عسکری ادب کا ایک بے مثال کلاسیکی ورثہ ہے۔ مَیں قارئین کی توجہ اس عالمی جنگ کے ایک ایسے پہلو کی طرف مبذول کروانی چاہتا ہوں جو ایک عرصے تک لوگوں کے لئے معمہ بنا رہا۔۔۔۔ یہ پہلو واقعی حیران کن تھا (اور ہے) اور اس کا تعلق میرے آج کے اس کالم سے بھی ہے!

سوال یہ تھا کہ کیا وجہ تھی کہ دونوں عالمی جنگوں میں صرف ایک علاقائی درجے کی قوت (جرمنی) نے پورے براعظم یورپ کو ہلا کر رکھ دیا؟۔۔۔ پھر جب دوسری عالمی جنگ آگے بڑھی تو اس سوال کے اندر سے کئی ذیلی سوال پھوٹنے لگے جو بجائے خود حد درجہ اہم اور قابل توجہ تھے مثلا ۔۔۔ (1) 1919ء کا ایک شکست خوردہ، معاشی طور پر دیوالیہ اور مورال کے اعتبار سے پست ترین حدوں کو چھونے والے جرمنی نے صرف 22 برس بعد 1941ء میں کس طرح پورے بر اعظم یورپ کو زیر نگیں کر لیا؟۔۔۔(2) پہلی عالمی جنگ (1914-18ء) کا ایک لانس کارپورل کس طرح فیوہرر بن گیا۔ بڑے بڑے پروفیشنل سولجر کی پیشگوئیوں کو غلط ثابت کیا، حیرت انگیز فتوحات حاصل کیں، جبر و جور کی بے مثال مثالیں قائم کیں اور ایک شکست خوردہ اور پاتال میں گری ہوئی جرمن قوم کو اوجِ ثریا تک پہنچا دیا؟۔۔۔ (3) صدیوں کی سپر پاور برطانیۂ عظمیٰ کو دیکھتے ہی دیکھتے برطانیۂ ادنیٰ کے مرتبے سے بھی نیچے گرا دیا؟۔۔۔ یہ موخر الذکر سوال کہ برطانیہ جیسی فاتحِ عالم قوم اور اس کی افواجِ ثلاثہ جن کا ڈنکا چار دانگ عالم میں صدیوں تلک بجتا رہا کس طرح ایک ہاری ہوئی اور خانماں برباد جرمن قوم کے ہاتھوں ذلت اٹھانے پر مجبور ہوئی ایک ایسا سوال ہے جس پر عسکری دانشوروں اور مصنفوں نے بہت مغز ماری کی اور آخر وہ نتیجہ نکالا جو آج پاکستان کی تینوں مسلح افواج کی کارکردگی اور اس کی جنگی تجربات کے تناظر میں قابل ِ صد ہزار توجہ ہے۔

دُنیا کی صدیوں کی تسلیم شدہ سپر پاور یعنی برطانوی قوم اور اس کی افواج کی ہزیمت کا ’’سہرا‘‘ اس ’’غلط زعم‘‘ کے سرباندھا گیا جس میں مبتلا ہو کر انگریزوں نے جرمنوں سے شکست فاش کھائی (یہ موضوع الگ ہے کہ انجام کار زخم زخم ہونے کے بعد بھی یہ برطانوی فاتح کیوں کہلائے)۔۔۔ برطانیہ کی تاریخِ جنگ بہت عظیم الشان ہی ہے۔ اس قوم نے ایک محدود سے رقبے پر مشتمل جزائر سے باہر نکل کر ساری دنیا کو فتح کر لیا۔ایک طرف سپین کے کولمبس نے 15 ویں صدی میں (1492ء میں) امریکہ ضرور دریافت کیا تھا لیکن 16 ویں اور 17 ویں صدی میں برطانیہ نے کینیڈا اور شمالی امریکہ پر حملہ کر کے اس پر تسلط حاصل کر لیا۔ اور دوسری طرف مشرق میں پرتگال کے واسکوڈے گاما نے (1498)ء میں ہندوستان کا نیا بحری راستہ دریافت کیا لیکن برطانیہ نے افریقہ اور ایشیاء کے درجنوں ممالک پر قبضہ کر لیا، بحر منجمد شمالی تک مار دھاڑ کی اور آسٹریلیا (اور نیوزی لینڈ) دریافت کئے۔یہ مسلسل اور طویل سلسلہ فتوحات اس لئے ممکن ہوا کہ برطانوی قوم کے سامنے جو اقوام و افواج صف آراء تھیں ان کا انتظام و انصرام اور مورال گردش ایام سے گرہن شدہ (Eclipsed)ہو چکا تھا۔ مسلمانوں کا دورِ عروج روبہ زوال تھا اور منگول افواج کا شہاب ثاقب اپنی چکا چوند کھو چکا تھا۔ امریکہ، افریقہ اور ایشیاء میں جو بادشاہتیں قائم تھیں یا جو حکمران برسر اقتدار تھے ان کے مقابلے میں اہلِ برطانیہ زیادہ عاقل دلیر، طباّع اور جنگ آزمودہ لوگ تھے۔لیکن اس کے بعد 17ویں صدی عیسویں کے آغاز سے لے کر 19ویں صدی عیسوی کے اختتام تک اڑھائی تین سو برسوں کا عرصہ ایک ایسی مدت تھی جس میں برطانوی قوم کا مقابلہ کسی ایسے دشمن سے نہ ہوا جو ان کے مقابل کا حریف ہوتا۔ مثلاً انڈیا کی مثال لیں تو برٹش آرمی ایک طویل عرصے تک سنٹرل انڈیا اور نارتھ ویسٹرن انڈیا میں ایسی اقوام اور قبائل سے لڑتی رہی جو سلاحِ جنگ اور طریق جنگ و جدال میں برطانوی افواج کے ہم پلہ نہ تھے۔۔۔۔ حریف اگر کمزور یا غیر منظم ہو تو اس پر طاقتور اور منظم فریق غلبہ پا ہی لیتا ہے۔لیکن خود اس طاقتور اور منظم فریق کی قوت و اہلیتِ انتظام بھی اس وقت روبہ زوال ہونے لگتی ہے جب اس کا حریف کمزور ہو۔ تاریخِ فلم کا سبق یہ ہے کہ اگر ولن کمزور ہو تو فلم باکس آفس پر ہٹ(Hit) نہیں ہوتی!

برطانوی قومی ایک طویل مدت تک ایسے حریف سے نبرد آزما رہی جو قوت و انتظام میں اس سے کمتر درجے کا تھا۔ اگر برابر کی چوٹ ہوتی تو بات اور تھی۔لیکن اگر آپ کا دشمن کمزور ہے تو آپ کی تاب و تواں کا تجربہ بھی کمزور رہتا ہے۔ہندوستان میں انگریز کو جن نوابوں، راجاؤں اور بادشاہوں سے پالا پڑا وہ عسکری اعتبار سے برابر کی چوٹ نہیں تھے۔شمال مغربی سرحدی صوبے میں برٹش آرمی(یا برٹش انڈین آرمی) کے مقابل وہ لوگ تھے جو اس آرمی کے سامنے دوسرے اور تیسرے درجے کے حریف تھے اور جن کو زیر نگیں لانا اس آرمی کے لئے کچھ ایسا مشکل نہ تھا۔امریکہ اور افریقہ میں بھی یہی کچھ ہوا۔امریکہ اور کینیڈا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔وہاں برطانوی تسلط اس وقت تک قائم رہا جب تک ان کے حریف (امریکی آباد کار) عسکری اعتبار سے کمزور رہے لیکن جونہی وہ برطانویوں کے برابر ہوئے برطانوی اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔لیکن امریکہ کے برعکس ایشیاء اور افریقہ کے بیشتر ممالک میں انگریزوں (Britishers) کو جن حریفوں سے پالا پڑا وہ(جیسا کہ مَیں نے پہلے عرض کیا) غیر منظم اور ضعیف تھے۔یہی وجہ تھی کہ ان پر قابو پانا ممکن ہوا۔لیکن یہاں ذرا رک کر سوچئے کہ اس ’’قابو پانے‘‘ کے بعد ایک طویل عرصے تک انگریز کو وہ حریف نہ مل سکا جو اس کی تیغِ آبدار کی آب و تاب قائم رکھنے کا سامان کرتا۔اگر کسی پہلوان کے سامنے ہمیشہ کمزور و ناتواں جسم و قوت کے پہلوان اکھاڑے میں اُتریں گے تو وہ پہلوان ان کو پچھاڑتا ضرور جائے گا لیکن مرورِ ایام سے ایک وقت آئے گا جب اس کی قوت کے اظہار کا وہ کڑا امتحان نہیں ہو سکے گا جو اس کو کبھی باقیوں سے ممتاز اور رستمِ زماں رکھتا تھا!

دوسری جنگِ عظیم کے تجزیہ نگاروں نے تاریخِ جنگ و جدل کے اسی پہلو کا مطالعہ کیا اور یہ نتیجہ نکالا کہ برطانیہ جو کئی صدیوں تک دُنیا کی واحد سپر پاور بنا رہا اس کی شمشیرو سناں عالمی جنگوں میں صرف اس لئے زنگ آلود ہو گئیں کیونکہ ان کو سان پر چڑھانے اور صقیل زدہ کرنے کے لئے وہ ماحول میسر نہ تھا جو ان کو ایسا کرنے کی اجازت دیتا۔برطانیہ کے مقابلے میں جرمنی کے سمندر پار مقبوضات نہ ہونے کے برابر تھے۔ جرمنوں کے حریف ان کی کالونیوں کے ننگ دھڑنگ اور کمزور قبائل نہ تھے، نہ ایسی اقوام تھیں جو اگرچہ کبھی عظیم تھیں لیکن اب گردشِ ایام سے تھک ہار کر دوسرے درجے کی قوتیں بن چکی تھیں۔

جرمنوں کا مقابلہ ہمیشہ فرانسیسیوں سے رہا جو ایک تو خود استعماری قوت تھے اور ان کی کالونیوں میں ان کے حریف چونکہ زیادہ طاقتور نہیں تھے اِس لئے وہ خود کمزور ہو گئے اور دوسرے فرانس کی جنگیں جب بھی جرمنی کے ساتھ ہوئیں، فرانس کے ساتھ برطانیہ اور امریکہ وغیرہ بھی آ شریک ہوئے۔ دوسرے لفظوں میں جرمنی کا مقابلہ ایک حریف سے نہیں، بلکہ کئی حریفوں سے رہا۔ اس سے جرمنوں کی تابِ مقابلہ زیادہ قوی ہو گئی اور ان کی تلواریں اور ڈھالیں زیادہ مضبوط اورکاٹ دار بن گئیں۔۔۔۔ برطانوی فوج چونکہ ایک طویل عرصے تک اپنی کالونیوں میں مقامی لڑائیوں اور جھڑپوں کی عادی ہو چکی تھی اِس لئے وہ ایک پروفیشنل فوج کی بجائے ایک پروفیشنل پولیس بن گئی۔ یہی وجہ تھی کہ اُس نے دوسری عالمی جنگ میں جرمنی سے شکست کھائی۔۔۔ پاکستان آرمی کا سامنا دو عشروں سے چونکہ دہشت گردوں سے رہا ہے(اور ہے) اس لئے اس کو تجربۂ جنگ سے مال مال آرمی ہونے کا ’’لقب‘‘ دینا میرے مطابق محلِ نظر ہے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم


loading...