99فیصد آئی ٹی کمپنیاں انٹرنیشنل بزنس پر انحصار کرتی ہیں

99فیصد آئی ٹی کمپنیاں انٹرنیشنل بزنس پر انحصار کرتی ہیں

مجیب قیوم پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری کا ایک معتبر نام ہے اور وہ ان پاکستانیوں میں شامل ہیں جنھوں نے دیار غیر میں آئی ٹی کنسلٹنٹ کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور پھر پاکستان میں آکر اس شعبے میں کاروبار کا آغاز کرکے نہ صرف پاکستان کو دنیا بھر میں متعارف کروایا بلکہ نوجوان پاکستانیوں کیلئے پرکشش نوکریوں کا اہتمام بھی کیاہے۔

مجیب قیوم نے کینیڈا سے آئی ٹی میں گریجوایشن کی ہے ۔ وہ سعودی عرب اور امریکہ میں ایک کامیاب آئی ٹی کنسلٹنٹ کے طور پر کرتے رہے۔ وہ امریکہ میں فورڈ موٹرز کمپنی سے پانچ سال تک منسلک رہے ۔ اس کے علاوہ بھی وہ بہت سی کمپنیوں میں فرائض سر انجام دیتے رہے اور بالآخر 2004میں پاکستان واپس لوٹ آئے۔ ان کی پاکستان واپسی کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے ۔ امریکہ سے انہوں نے پاکستان کی نامور آئی ٹی کمپنی NetSolمیں آن لائن اپلائی کیا تو کمپنی کے سی او او نے ٹیلی فون پر ان کا انٹرویو کیا اور انہیں پاکستان بلا لیا۔ یہاں انہوں نے کمپنی میں کنسلٹنگ سروس ڈویژن قائم کی اور بینکنگ سیکٹر سے لے کر بہت سے حکومتی اداروں میں آئی ٹی سے متعلق پراجیکٹس کی تکمیل کی اور یوں اس انٹرنیشل کمپنی کی پاکستان کے اندر برانڈنگ کے حوالے سے بے پناہ کام کیا۔

2011میں مجیب نے ZealSoft Business Relationsکے نام سے اپنی کمپنی رجسٹر کروائی اور امریکی اور سعودی پارٹنرز کی مدد سے باقاعدہ کام شروع کردیا۔ پہلا پراجیکٹ سعودی عرب سے ملا اور وہ لگ بھگ ڈیڑھ برس تک سعودی عرب میں مقیم رہے ۔ پراجیکٹ کی تکمیل پر وہ پاکستان واپس آگئے اور یہاں بہت سے پراجیکٹس پر کام شروع کردیا۔

2014میں انہوں نے امریکہ میں مقیم پاکستانی شاد خان کے ساتھ مل کر سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اینڈ سروس کمپنی کی بنیاد رکھی جو آج کامیابی سے چل رہی ہے اور امریکی کلائنٹ کی ایماء پر پروکیورمنٹ کا سافٹ ویئر پاکستان سے تیار کرکے ایکسپورٹ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس سافٹ ویئر کا مکمل لائف سائیکل تیار کیا جاتا ہے جو آئی ٹی کے شعبے میں پاکستانی ٹیلنٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پاکستان میں آئی ٹی شعبے کے سکوپ کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی کا سکوپ بہت زیادہ ہے کیونکہ ابھی پاکستان میں آٹومیشن کا کام پوری طرح مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ تاہم انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر ابھی بھی آٹومیشن کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہا ہے اور ہر ایک نے اپنے آفس میں چھوٹے چھوٹے سافٹ ویئر ہاؤس قائم کرلئے ہوئے ہیں اور بزنس کی آٹو میشن کے حوالے سے ضروریات کو ان ہاؤس پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ دوسری جانب وہ کمپنیاں جنھیں آٹومیشن کی اہمیت کا اندازہ ہے وہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے بین الاقوامی سطح پر مشہور آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جن میں Oracle, MicroSoft, IBMوغیرہ شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ صورت حال ان پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لئے تشویش کی باعث ہے جو پاکستان میں کام کرتے ہوئے growکرنا چاہتی ہیں کہ ایک طرف تو انہیں کام نہیں ملتا اور دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر مشہور آئی ٹی کمپنیوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے اسے ایک challengingسچوایشن قرار دیا ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں آئی ٹی شعبے کے آغاز پر گورنمنٹ سیکٹر سے کام ملنا شروع ہوا تھا لیکن بعد ازاں PPRAرولز کی وجہ سے خوامخواہ کے آڈٹ کے ڈر سے حکومتی اداروں نے آئی ٹی کمپنیوں کو کام دینا بند کردیا کیونکہ آئی ٹی کمپنیاں ٹینڈر کے عوض بھاری معاوضہ طلب کرتی تھیں ۔ حکومتی اداروں نے حل یہ نکالا ہے کہ انہوں نے بھی ان ہاؤس سافٹ ویئر ہاؤسز بنالئے ہیں اور جس طرح بن پڑتا ہے کام چلا تے ہیں۔اس کی مثال ایک پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ یعنی PITBکی ہے ۔یہ ادارہ حکومت پنجاب کے لئے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کا کام کرتا ہے اور آٹو میشن سے متعلق تمام امور سرانجام دیتا ہے۔ اس ادارے کو PPRA رولز کا جھنجٹ اس طرح برداشت نہیں کرنا پڑتا جس طرح پرائیویٹ شعبے میں چلنے والی آئی ٹی کمپنیوں کو کرنا پڑتا ہے۔ اس میں لگ بھگ 600افراد حکومت پنجاب کے لئے کام کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا PITBنے Plan9, PlanXاور TechHubجیسے conceptsکو فروغ دے کر پاکستان سے

آئی ٹی کے شعبے میں ٹیلنٹ کی دریافت کے عمل کو بہت موثر بنایا ہے جس کے لئے یہ ادارہ مبارکباد کا مستحق ہے۔

اپنی کمپنی کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ان کی کمپنی چونکہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں کام کرتی ہے اس لئے انہیں اپنی پراڈکٹس کی اچھی قیمت ملتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں 99.9فیصد آئی ٹی کمپنیاں انٹرنیشنل بزنس پر انحصار کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سے آئی ٹی ایکسپرٹ انفرادی سطح پر آن لائن فری لانسر کے طور پر کام کر رہے ہیں جو انٹرنیٹ پر کام لیتے ہیں اور گھر پر رہ کر کام کرتے ہیں اور یوں اوور ہیڈز کے جھنجھٹ سے بچ جاتے ہیں۔

جب ان سے پوچھاکہ پاکستان میں آئی ٹی ڈویلپرز کام تو بین الاقوامی پراجیکٹ پر کرتے ہیں لیکن انہیں معاوضہ پاکستانی معیار کا ملتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک اور پاکستانی قوانین میں فرق ہے ، اس لئے دونوں میں افراد پر ذمہ داریوں کا معاملہ بھی مختلف ہے۔ وہاں چونکہ فرد کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں اس لئے اسے ادائیگی بھی زیادہ ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں کم ذمہ داریوں کی بنا پر کم تنخواہیں ملتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہاں اور یہاں کے اخراجات زندگی میں بھی بہت فرق ہے ۔ اس لئے اگر ایک آئی ٹی ایکسپرٹ امریکہ میں سالانہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر کماتا ہے تو اسے کل آمدن کا 52فیصد ٹیکس میں ادا بھی کرنا پڑتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مہنگے اخراجات زندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر پاکستانی آئی ٹی ایکسپرٹ سالانہ پچاس ہزار ڈالر کماتا ہے تو امریکہ میں کام کرنے والے سے بہتر ہے کیونکہ اخراجات زندگی اس حد تک بڑھے ہوئے نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا Unique Selling Pointہی یہ ہے کہ یہاں ٹیلنٹ بہت زیادہ ہے اور اس کی قیمت کم ہے۔

بھارتی آئی ٹی انڈسٹری سے مقابلے کی بات ہوئی تو انہوں نے کہا بھارت کچھ معاملوں میں ہم سے بہتر ہے اور کچھ میں نہیں ہے ۔ اصل مقابلہ پراڈکٹ کی ڈیلیوری اور کوالٹی کا ہے اورپاکستان اس حوالے سے روز بروز بہتر ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اول درجے کی آئی ٹی کمپنیوں میں ہزاروں کی تعداد میں آئی ٹی گریجوایٹس کام کرتے ہیں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق آمدن کماتے ہیں ۔

پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے میں چلنے والے تعلیمی اداروں پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اچھے اور برے دونوں طرح کے ادارے اس وقت کام کر رہے ہیں اور اس ضمن میں اہم بات یہ ہوتی ہے کہ حکومت کسی شعبے کے فروغ کے لئے کیا اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عمومی طور پر اچھے آئی ٹی کے شعبے میں تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں اور آئی ٹی کمپنیاں بہترین ٹیلنٹ حاصل کر رہی ہیں جو تکنیکی اعتبار سے بہت اچھے ہیں لیکن پیشہ وارانہ طور پر قدرے کمزور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر تعلیمی ادارے مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق طلباء کی کھیپ تیار کر رہے ہیں جس کا مارکیٹ ، بچوں اور تعلیمی اداروں سب کو فائدہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کو کاپی رائٹس کے قوانین کو مضبوط بنانے کی طرف توجہ کرنی چاہئے تاکہ اچھی کاروباری روایات کو فروغ حاصل ہواور ایسی پراڈکٹس بن سکیں جو معیار کے اعتبار سے عالمی نوعیت کی ہوں۔

انہوں نے حکومت پنجاب کی لیپ ٹاپ سکیم کو سراہا اورکہا کہ اس سے نوجوانوں میں آئی ٹی شعبے سے آگاہی میں اضافہ ہوا ہے ۔ پاکستانی نوجوانوں کے نام اپنا پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ کامیابی صحیح فیصلے کی محتاج ہوتی ہے ، صحیح فیصلہ تجربے کا محتاج ہوتا ہے اور تجربہ غلطیوں کا....اس لئے ہمیں اپنی ہی نہیں دوسروں کی غلطیوں سے بھی سیکھنا چاہئے اور پہئے کو ازسرنو ایجاد کرنے کے بجائے کام کو اس نقطے سے آگے بڑھانا چاہئے جہاں کسی نے غلطی کی وجہ سے ادھورا چھوڑ دیا تھا۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...