80لاکھ تارکین وطن کے لئے 137رکنی اوورسیز پاکستانی ایڈوائزری کونسل

80لاکھ تارکین وطن کے لئے 137رکنی اوورسیز پاکستانی ایڈوائزری کونسل

ایک طویل عرصہ قبل بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن (ا و پی ایف)کا قیام عمل میں لایا گیا ابتدائی ایام میں او پی ایف نے کسی حد تک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی اور پاکستان میں ہنر مندوں کو بیرون ملک بھی وسیع پیمانے پر بجھوایا گیا اس وقت کی حکومت یہ تصور کرتی تھی اور ہے کہ بیرون ممالک پاکستانی ، ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں پاکستانی ایکسپورٹ کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی زر مبادلہ پاکستان بجھوانے کا اہم ترین ذریعہ تھا کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ مرض بڑھتا گیاجوں جوں دوا کی ، حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ پالیسیاں بھی تبدیل ہوتی رہیں اور او پی ایف ایک سفید ہاتھی مانند شکل اختیار کر گیا پاکستان کی ایکسپورٹ دن بدن کم اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے مسائل کو او پی ایف کے ذریعے حل کرنے کی بجائے خود حل کرنے کو ترجیح دینے لگے سفارت خانوں نے ان کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جاتا معمولی سے معمولی کام کے لئے انہیں چکر لگوائے جاتے پاکستان واپسی پر ائیر پورٹ پر ان سے ناروا سلوک میڈیا کی زینت بنتا رہا حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہوتے رہے اور او پی ایف کے اسٹیک ہولڈرز، اپنے دفاتر میں بیٹھ کر ماسوائے تنخواہیں وصول کرنے کے کوئی اور کام کرنے سے قاصر تھے موجودہ حکومت نے او پی ایف کو دوبارہ فعال کرنے کے لئے جو کردار ادا کیا ہے وہ او پی ایف کی تاریخ کا سنہری باب ہے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران تارکین وطن کے ساتھ ان کی احساس محرومی دور کرنے کے لئے جو وعدے کئے ان کو عملی جامہ پہنانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تو او پی ایف کی بھاگ دوڑ ایک ایسے شخص کو دی گئی جو نہ صرف تارکین وطن کا نمائندہ تھا بلکہ پیشے کے اعتبار سے بیرسٹر اور دریار غیر میں بسنے والے پاکستانیوں میں ایک خاص مقام رکھتا تھا بیرسٹر امجد ملک کو او پی ایف کا چیئرمین گزشتہ برس تعینات کیا گیا تو انہوں نے مسائل جاننے کے لئے مشرق وسطی ، سعودی عرب ، کے علاوہ یورپ کے متعدد ممالک کا تفصیلی دورہ کیا اور پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے سفارت خانوں میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کے علاوہ ان ممالک کے سفیروں سے بھی تبادلہ خیال کیا اور اپنی سفارشات براہ راست وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو بجھواتے رہے اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے او پی ایف کے چیئرمین کی طرف سے اٹھائے جانیوالے پاکستانیوں کو پیش مسائل کے حل کے لئے فوری احکامات جاری کئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سب سے زیادہ مسئلہ پاکستان میں ان کی جائیدادوں پر قبضہ ، سفارت خانوں میں ان کے ساتھ روا رکھا جانیوالا غیر مناسب رویہ ، نادرا اور پاسپورٹ کے مسائل سرفہرست تھے بیرسٹر امجد ملک نے سب سے پہلے او پی سی پنجاب کا روڈ میپ مرتب کیا اور اس کے کمشنر مقرر ہوئے، مگر اپنی مصروفیات کی بدولت وہ کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد معذرت کر گئے بعد میں وفاقی حکومت نے ان کی خدمات حاصل کر لیں اور انہیں او پی ایف کا چیئرمین مقرر کیا گیا بلا معاوضہ اپنی خدمات پیش کرنے والے بیرسٹر امجد ملک نے او پی ایف کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے نئے قواعدو ضوابط مرتب کئے اور یہ فیصلہ کیا کہ بیرون ملک مقیم 80لاکھ سے زائد پاکستانیوں سے فردا فردا رابطہ کرنا تو ناممکن ہے لہذا جن ممالک میں پاکستانی وسیع پیمانے پر بسلسلہ روزگار مقیم ہیں وہاں سے کیمونٹی کے نمائندگان پر مشتملOPAC(اوورسیز پاکستانی ایڈوائزری کونسل )تشکیل دی جائے اس مقصد کے لئے انہوں نے تمام سفارت خانوں سے تارکین وطن کے نمائندگان کی فہرستیں منگوائیں اور بڑے مختاط انداز سے او پیک کے ممبران کا اعلان کیا گیا امریکا سے ڈاکٹر نصیر قریشی ، میاں فیاض ، نصیر بٹ،طیبہ ضیا چیمہ،ڈاکٹر آصف ، ڈاکٹر خالد لقمان ، ڈاکٹر جاوید ، ڈاکٹر راحیل ڈار، چوہدری سعید اختر ، محسن ظہیر،بہجات گیلانی، کینیڈا سے شجاع بشیر ، محمد سعید مرزا ، چوہدری بدر منیر ، برطانیہ سے ڈاکٹر عبد الحفیظ ، انیل مسرت ، پادری فلک شیر ، رفیق ملک ، راجہ آفتاب شریف ، شبیر قمر ، ثمینہ خان ، الیاس گوندل ،محترمہ عذرا ، راجہ شیر اکبر ، زبیر گل ، راجہ جاوید اقبال ، زبیر اقبال کیانی ، واجد شمس الحسن ، بیرسٹر شہزادہ حیات ، شمع حسین ، ڈاکٹر سہیل چغتائی ، وجاہت علی خان ، مرزا نعیم الرحمان ، محمد عجیب اور محمد اقبال شامل ہیں سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،جاپان ، کویت اور دیگر ایسے ممالک جہاں پاکستانی وسیع پیمانے پر مقیم ہیں سے تارکین وطن کے137 نمائندگان کو اوورسیز پاکستانی ایڈوائزری کونسل کا ممبر منتخب کیا گیا 2جولائی کو اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں اس سلسلہ میں ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی جس میں سعودی عرب ، میں پاکستانی سفیر منصور الحق، سابق سفیر شاہ جمال ، وزارت خارجہ سے ساجد قاضی ، وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی ، کے علاوہ او پی ایف کے بورڈ آف گورنرز کے ممبران اور اسٹیک ہولڈرز کی بھاری تعداد شریک ہوئی دنیا کے مختلف ممالک سے تقریبا2سو کے قریب نمائندہ افراد نے اس میں شرکت کی او پیک کے نومنتخب ممبران کو ممبر شپ کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کے علاوہ ان کے اعزاز میں پرتکلف ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا اس موقع پر مختلف ممالک کے سفیروں نے خطاب کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ او پیک کے ممبران تارکین وطن کے مسائل کے بارے میں نہ صرف سفارت خانوں سے بلا روک ٹوک اور وقت کی قید سے آزاد ہو کر رابطہ کر سکتے ہیں بلکہ ان کے مسائل کے حل کے لئے تجاویز بھی پیش کریں گے پاکستانی سفیروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق پاکستان کے سفیروں پر بے پناہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کا امیج بہتر کرنے کے لئے ذمہ داریاں ادا کریں تو دوسری طرف تارکین وطن بھی پاکستانی کے سفیر ہیں وہ بھی پاکستان کا تشخص بہتر بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے او پی ایف کے چیئرمین بیرسٹر امجد ملک نے بتایا کہ اب تو غیر ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں میں ہفتہ وار چھٹی بھی ختم کر دی گئی ہے یا سفیروں نے پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کے لئے رضا کارانہ طور پر چھٹی کو ختم کیا ہے چوبیس گھنٹے کوئی بھی اپنے مسئلے کے حل کے لئے سفارت خانوں سے رابطہ کر سکتا ہے تو دوسری طرف او پی ایف کا ٹول فری نمبر چوبیس گھنٹے کا م کرتا ہے تارکین وطن اپنے مسائل کے حل کے لئے ہر وقت رابطہ کر سکتے ہیں او پی ایف پنجاب پہلے ہی تارکین وطن کی جائیدادوں پر قبضہ ختم کرانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہے جس کا تمام تر سہرا وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف اور اسکے کمشنر محمد افضل بھٹی کے سر ہے انہوں نے بتایا کہ ہر ضلع میں اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات کے ازالے کے لئے عدالتوں کا قیام اور ان کے مقدمات کا فوری فیصلہ ان کی اولین ترجیح ہے جبکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے پاکستانیوں راغب کیا جانا بھی ان کے مشن میں شامل ہے اور اس امر کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے تمام سرکاری ادارے 8ملین تارکین وطن کو جواب دہ ہوں انہوں نے اس سلسلہ میں متعدد انتظامی دورے کئے ہیں اور سفارت خانوں کے ساتھ تجاویز کا تبادلہ کیا جا رہا ہے او پیک میں ایسے نمائندہ تارکین وطن کو بھی شامل کیا جائے گا جن کا نام رہ گیا ہو انہوں نے کہا کہ سال 2015.16میں 660پاکستانی تارکین بیرون ملک کسی حادثے کا شکار ہو کر وفات پا گئے جبکہ 262 معذور ہوئے اسی طرح 2015.16ء میں 1125پاکستانی تارکین وطن جو بیرون ملک وفات پا گئے تھے کی ڈیڈ باڈیز کو بغیر کسی چارجز کے ان کے گھر تک پہنچایا گیا اور ایسے ممالک جہاں پر جنگی ماحول پیدا ہوا اور پاکستانی پھنس گئے ان کو نکالنے کے لئے او پی ایف نے مرکزی کردار ادا کیا وزیر اعظم کی طرف سے ان تارکین وطن کو پچاس ہزار روپے فی کس کے حساب سے امداد بھی دی گئی لیبیا سے 8758تارکین وطن کو حکومت کے خرچ پر پاکستان پہنچایا گیا انہوں نے بتایا کہ جو تارکین وطن پروٹیکٹر کرا کے بیرون ملک جاتے ہیں اور اسکی ممبر شپ حاصل کرتے ہیں وہ خدانخواستہ بیرون ملک وفات پر جائیں تو کمپنی سے اسکے بقایاجات وصول کرنے کے علاوہ او پی ایف نے چار لاکھ روپے فی کس کے حساب سے ان کی امداد کی جارہی ہے اور معذوری کی شکل میں تین لاکھ روپے فی کس کے حساب سے دیا جا رہا ہے اس تقریب میں ڈاکٹر سعید الٰہی ، سیف الرحمان ڈائریکٹر جنرل ٹریننگ او پی ایف نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی بیرسٹر امجد ملک نے تارکین وطن کے نمائندہ وفد او پیک سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ برطانیہ میں تقریبا15لاکھ تارکین وطن مقیم ہیں یورپ اور برطانیہ میں دہشت گردی کی لہر نے پاکستانیوں کو تفکرات کا شکار کر دیا ہے پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہیں اور اس مسئلے پر کافی حد تک لازوال قربانیاں دینے کے بعد قابو پا لیا گیا ہے کسی نے انفرادی فعل پر پاکستانیوں کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہم پاکستان کا تشخص بیرون ملک بہتر بنانے کے لئے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کوبھی استعمال کر رہے ہیں اور قابل فخر ہیں وہ پارلیمنٹرین جو پاکستانی نژاد ہونے کے علاوہ ان ممالک کی شہریت بھی رکھتے ہیں اور ان ممالک کی پارلیمنٹ میں ڈبل نیشنلٹی ہولڈر ہونے کے باوجود پاکستان کا موقف پیش کرتے ہیں بیرون ملک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں سے قونصلر رسائی بھی طلب کی جاتی ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ ان کے مسائل حل کر کے انہیں ریلیف پہنچایا جائے سابقہ دور حکومت میں برطانیہ سے غیر قانونی تارکین وطن کی چارٹرڈ فلائٹیں دھڑا دھڑ پاکستان پہنچائی گئیں اور اس دوران ایسے افراد کو بھی پاکستان پہنچا دیا گیا جو افغانی حتی کہ ہندوستانی تھے موجودہ حکومت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے اس مسئلے پر دو ٹوک موقف اختیار کیا اور کسی حد تک چارٹرڈ فلائٹوں کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے اب غیر ملکی ذرائع ابلاغ پاکستان کا موقف بہتر انداز سے پیش کرتے ہیں وگرنہ اس سے قبل یورپ اور برطانیہ میں مسلمان کیمونٹی مسائل کا شکار تھی اب ایسے واقعات کے باوجود پاکستانی کیمونٹی اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہے حتی کہ لندن میں ایک بڑی عمارت میں آتشزدگی کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں اور اس موقع پر مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں نے جو کردار ادا کیا اسے غیر ملکی میڈیا نے زبردست خراج تحسین پیش کیا ایریا سنٹر دھماکے میں بھی پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں نے مفت اپنی سروس پیش کی جسے زبردست پزیرائی حاصل ہوئی ۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...