چینی مصنوعات کی دنیا بھر میں مقبولیت کیوں؟

چینی مصنوعات کی دنیا بھر میں مقبولیت کیوں؟

اب ہر جا نب چین ہے ۔ معاشی ترقی میں اپنی مثال آپ چین کا اقتصادی راہداری منصوبہ ہی نہیں مستقبل کی نو ید ہے بلکہ ’میڈ ان چائنہ ‘ میں روزافزوں اضافہ ہو تا جا رہا ہے ۔ لوگ چین کی اشیا کی ترجیح دیتے ہیں انہیں سکہ بند مانتے ہیں ...چلتے تو چین چلئے ..اب زبان زد عام ہو چکا ہے ۔ چین نے پاکستان ہی نہیں دوسرے ممالک کو اپنی مصنو عات سے فتح کر لیا ہے اور اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے ۔ آپ کے اردگرد اگر جمہوریہ چین میں بنی ہوئی مصنوعات نے گھیر ا تنگ کیا ہوا ہے تو آپ اکیلے نہیں ، دنیا کے سب سے امیر ملک امریکہ کے شہری بھی آپ کے ساتھ ہیں۔رواں سال چین امریکہ کو اس کی تمام درآمدات کا چودہ فیصد فراہم کر چکا ہے۔جس کے پیش نظر امریکہ میں یو ایس اے’ دھندلا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔دوسری جانب پاکستان میں ہر دوسری دوکان پرچائنہ کی اشیا ء موجو د ہیں اور ان کے خریدار ترجیحی بنیا دوں پرچائینہ کی اشیاء کو ہی پسند کرتے ہیں جو قیمت میں نہایت کم جبکہ کوالٹی جیسی بھی ہوچل ہی جاتی ہے اس لیے پاکستان میں فروخت ہونے والی ہر اشیائے ضروریہ پرکثیر تعداد میں ’میڈ ان چائنہ ‘ ہی لکھا ہوا ہے۔

اگر آپ نے اپنا فرنیچر ’میڈ ان یو ایس اے‘ خرید ہی لیا تو کیا ہوا اس کے لیے استعمال ہونے والا فوم ’میڈ ان چائنا‘ ہوگا۔ اگر آپ نے جاپان کی گھڑی تلاش کر ہی لی تو اس کا باکس یا یہاں تک کہ پٹہ چین میں بنا ہوگا۔سوئی میں دھاگہ ڈالنے والی مشین ہو یا کمپیوٹر، اوڑھنے کے لیئے کمبل یا پہننے کے لیئے کپڑے، سننے کے لیئے ریڈیو یا دیکھنے کے لیے ٹیلیویژن، آپ کو بس ایک ہی نام لکھا ملے گا ’میڈ ان چائنا‘۔اوڑھنے کے لیئے کمبل یا پہننے کے لیئے کپڑے بس ایک ہی نام لکھا ملے گا ’میڈ ان چائینہ ۔اس سے بھی کچھ آگے بڑھیں تو چین اب امریکہ کو سویلین جہازوں کے پرزے، انجن اور کچھ جوہری سامان بھی فروخت کر رہا ہے۔ دیکھا جائے تو چین کینیڈا کے بعد امریکہ کو اشیاء فروخت کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے جبکہ امریکی مال کے خریداروں کی فہرست میں اس کا نام کینیڈا، میکسیکو اور جاپان کے بعد چوتھے نمبر پر آتا ہے۔امریکہ کے ساتھ تجارت کرنے والے پندرہ بڑے ممالک میں بھارت اور پاکستان کا نام شامل نہیں۔گزشتہ سال امریکہ کو چین کے ساتھہ تجارت میں قریباً دو کھرب ڈالر کا خسارہ ہوا یعنی چین نے امریکہ سے جتنے داموں کی اشیاء خرید کیں اس سے دو کھرب مالیت کا زیادہ مال بیچا۔اِس سال صرف اپریل میں امریکہ کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ پندرہ اعشاریہ چھ ارب ڈالر سے بڑھ کر سترہ ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اسی ایک ماہ میں چین نے اکیس اعشاریہ چار ارب ڈالر کی مصنوعات امریکہ کو فروخت کیں اور صرف چار اعشاریہ تین ارب ڈالر کا مال خریدا۔

امریکی ٹیکسٹائل کمپنیوں کی ایک نمائندہ تنظیم امریکن ٹریڈ ایکشن کولیشن کا کہنا ہے کہ چین، بھارت اور پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی بہت زیادہ درآمد کی وجہ سے مقامی صنعت مسائل سے دوچار ہے۔گزشتہ چھ سال میں ٹیکسٹائل شعبے سے پانچ لاکھ سے زائد آسامیاں ختم ہو چکی ہیں‘۔اب امریکہ کی زیادہ تر کمپنیاں چین میں سرمایہ کاری کرنے لگی ہیں۔ جہاں چینی مصنوعات کی بھرمار ایک باعث فکر بات ہے وہاں ایک اچھی بات بھی۔ وہ یہ کہ اب امریکہ کی زیادہ تر کمپنیاں چین میں سرمایہ کاری کرنے لگی ہیں۔ جو کمپنیاں یہاں خسارے میں جا رہی ہیں ان کو چین میں مالی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔کیمرہ اور ڈیجیٹل فوٹوگرافی کے ایک بڑے نام ’رٹز کیمیرہ‘ کے ایک سیلزمین سے پوچھا گیا کہ نائکون جیسے بڑے برانڈ کیمرہ کے لینسز ’میڈ ان جاپان‘ کیوں نہیں تو اس نے کہا کہ جاپانی لینسز مہنگے ہونے کی وجہ سے اب وہ چین اور دیگر ممالک میں بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ کیمرہ کے اہم اندرونی اجزاء جاپان میں جبکہ بیرونی زیادہ تر چیزیں چین میں بن رہی ہیں۔ٹیکسٹائل مصنوعات فروخت کرنے والی ایک بڑی کمپنی ’جے سی پینی‘ کا کہنا ہے کہ ان کی دوکان کے اندر اسی فیصد مصنوعات چین سے ہی درآمد شدہ ہیں۔ انہوں نے اِن اشیاء کو سستی کہنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ چین اپنے صارفین کو ایک قدر فراہم کر رہا ہے۔ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ چینی اشیاء خرید کرنا اس کی مجبوری تھی کیونکہ زیادہ تر دوکانوں پر صرف وہی نظر آرہی ہیں ورنہ وہ جاپان اور امریکہ میں بننے والی مصنوعات کو ترجیح دیتی ہیں۔جنھوں نے چینی مصنوعات کے بارے میں اپنا ایک خراب تجربہ بیان کیا کہ ان کے پاس دو سائیکلیں ہیں۔ ایک جاپان اور دوسری ’میڈ ان چائنا‘۔ جب یکے بعد دیگرے دونوں سائیکلیں خراب ہوگئیں تو انہوں نے یکمشت دونوں کی مرمت کروانا چاہی۔ میکینک نے چند سال پرانی جاپانی سائیکل کی مرمت تو کردی لیکن ایک سالہ چینی سائیکل کی مرمت کرنے سے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ اس کے دیگر کمزور پرزے بکھر جائیں گے۔

پاکستان میں چینی مصنوعات انتہائی مقبول ہیں اسی طرح عوامی جمہوریہ چین میں بھی پاکستانی مصنوعات کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے کثیر طلباء و طالبات پاکستان اور چین میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان میں چینی زبان سیکھنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے اور سیر و سیاحت کے لئے بھی بڑی تعداد میں دونوں ملکوں کے عوام پاکستان اور چین کے دورے کرتے ہیں۔ٹیکنالوجی ڈیویلپمنٹ کے لئے بھی تعاون بڑھایا جا رہا ہے۔ سائنس ، ٹیکنالوجی اور انجینئر نگ کے شعبوں میں بھی دو طرفہ تعاون کو فروغ حاصل ہورہا ہے اور متعلقہ ادارے اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کے دورہ چین کے موقع پر باہمی تعاون بڑھانے کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ بھی تشکیل دینے کا فیصلہ کیاگیا ہے جو مختلف ایسے شعبوں کی نشاندہی کریں گے جن میں تعاون کو فروغ دے کر نئے منصوبے شروع کئے جاسکیں گے۔ پاکستان عوامی جمہوریہ چین کی بے مثال ترقی کو مشعل راہ بنائے ہوئے ہے اور گذشتہ چند برسوں میں پاکستان میں چین کی امداد ، تعاون اور سرمایہ کاری سے مختلف شعبوں میں قابل فخر ترقی کی ہے جس کے قومی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف کے دورہ چین پر ان کے پرتپاک استقبال اور اسی طرح چینی قیادت کے دورہ پاکستان کے موقع پر پرجوش خیرمقدم اور سربراہان ملاقات میں طے پانے والے فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان اور چین کے درمیان دوستانہ تعاون اور اقتصادی ترقی کی رفتار میں اضافہ دونوں ملکوں کے عوام کے لئے خوش آئند اور قابل فخر ہے اور دوستی اور باہمی تعاون کی اس فضاء میں پاکستان انشاء اللہ جلداپنے ان مقاصد میں کامیاب ہو گا جن کا مقصد ملک سے غربت ، جہالت ، پس ماندگی اورمحرومی دور کرکے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں جگہ بنانا ہے۔

پاکستان کا ساتھ دینے پر بھارت میں چین کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم شروع کر دی گئی، بھارتی صارفین سے چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور ٹریڈرز کے مطابق اس بائیکاٹ کے اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔پاکستان کی مسلسل حمایت کرنے اور اقوام متحدہ میں بھارتی مفادات کے خلاف ووٹ دینے پر بھارت میں چین کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں۔ چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد بھارت میں ان سستی مصنوعات کی فروخت میں 10 سے 20 فیصد کمی ہوئی ہے۔علی بابا کا شمار دنیا کی چند بڑی ای کامرس کمپنیوں میں ہوتا ہے جو ہر سال اربوں ڈالرز کا بزنس دنیا بھر میں کرتی ہے۔اس کمپنی کو 2015 کے آخر میں بھی پاکستان میں کام کرنے کی دعوت دی گئی تھی جس کے لیے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے انہیں پاکستان میں سر مایہ کاری کے لیے خیر مقدم کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں اس نے چین میں ایک دن میں 7.8 ارب ڈالرز (اٹھارہ کھرب پاکستانی روپے سے زائد) کی مصنوعات فروخت کرکے ایک ریکارڈ ہی قائم کردیا تھا۔

وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے عوامی جمہوریہ چین کے کامیاب ترین حالیہ دوروں کے دوران ملک کی تیز رفتار ترقی اور انرجی بحران سمیت درپیش دیگر مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے چینی قیادت اور چین کی معروف کمپنیوں سے لا تعداد معاہدے کئے جن سے قومی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ترقی کے لئے متعین اہداف کے حصول میں مدد ملے گی اور ان منصوبوں کی تکمیل سے ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ اپنے دورے کے دوران وزیر اعلی پنجاب نے ایک ایک لمحہ بامقصد اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے چینی کے مختلف علاقوں اور اداروں کا دورہ کرکے پاکستان میں چینی تعاون اور سرمایہ کاری سے جاری ترقی کا عمل تیز کرنے کیلئے نئے معاہدے کئے اور چینی قیادت سے مفید بات چیت کی۔ انہوں نے چین کے صوبے شین ڈونگ کے شہر جنان میں پنجاب شین ڈونگ بزنس کانفرنس میں شرکت کی جس میں چین کی صف اول کی سرکاری کمپنیوں کے سربراہان ، کیمونسٹ پارٹی کے وزرائاعلی عہدیداران اورچینی سرمایہ کاروں کی بڑ ی تعداد شریک ہوئی۔ پاکستان کے ممتاز سرمایہ کاروں ، صنعتکاروں اور بزنس مینوں نے بھی شرکت کی اور انہیں اس موقع پر پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے لئے دستیاب کی گئی سہولیات اور پر کشش مراعات سے آگاہ کیاگیا تاکہ وہ کئی دیگر اداروں کی طرف سرمایہ کاری کے لئے پاکستا ن کا رخ کر سکیں۔وزیر اعلی پنجاب نے اس موقع پر کہا کہ چین کے 46 ارب ڈالر کے عظیم سرمایہ کاری پیکج پر ایک برس کے عرصے میں عظیم الشان کام ہو چکا ہے اور اس تاریخی ساز پیکج کے تحت لگائے جانے والے منصوبے کسی ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے طول و ارض پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کے نمائندوں نے اپنے تجربات سے سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا اور انہیں ان سہولیات سے آگاہ کیا جن سے فائدہ اٹھا کر وہ پاکستان میں محفوظ سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے پاکستان چین لازوال دوستی کے عظیم رشتے کا بھی ذکر کیا جو وقت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط اور مستحکم ہو رہا ہے۔ وزیر اعلی نے اپنے خطاب کے دوران چینی کی طرف سے پاکستان کی ہر موقع پر بھر پور امداد اور مختلف شعبوں میں خصوصی تعاون کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خصوصا پنجاب میں زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے میں چینی سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعلی پنجاب اور شین ڈونگ کے نائب گورنر جی ڑاہ زنگ کے مابین مفاہمت کی کئی یاداشتوں پر بھی دستخط ہوئے۔ اس موقع پر پنجاب اور شین ڈونگ کے درمیاں تعلیم ، صحت ، توانائی ، انفراسٹرکچر ، ٹرانسپورٹ ، ثقافت اور زندگی کے دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے صوبہ شین ڈونگ کے اعلی چینی حکام پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ دورے کے دوران وزیر اعلی پنجاب اور کیمونسٹ پارٹی کے سیکریٹری کی موجودگی میں پنجاب حکومت اور چنگ ڈاو کے مابین معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر بھی دستخط ہوئے۔ وزیر اعلی پنجاب کے کامیاب ترین دورے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مجموعی طور پر دورے کے دوران 45 معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط ہوئے جس سے پاکستان میں چینی اداروں کی ریکارڈ سرمایہ کاری ہوگی اور ہر شعبہ زندگی میں بہتری آئے گی۔ دورے کے دوران وزیر اعلی پنجاب نے چین کے بڑے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری پر مفت اراضی دینے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت چینی سرمایہ کاروں کی دل و جاں سے قدر کرتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کام کرنے والے چینی ماہرین پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کی ترقی پوری دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں اس وقت چین دنیا کی ایک عظیم معاشی سپرور بن چکا ہے اور دنیا کے کئی بڑے ملک بھی اقتصادی ترقی کی وجہ سے چین کے مرہون منت ہیں۔ پاکستانی قیادت نے چین سے اپنی روائتی دوستی اور محبت کے رشتوں کو سود مند معاشی فواد میں تبدل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور یہ امر خوش آئند ہے کہ چین کی طرف سے بھی پاکستان سے دوستی کے انمول رشتے کو نئی جہتوں سے ہمکنار کرنے کے لئے پاکستان کی طرح ہی گرمجوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ سماجی ، معاشی اور اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبوں میں بھی چین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیاہے۔ قومی سلامتی کے امور پر چین نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ پاکستان کی سلامتی ، خودمختاری اور آزادی کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دے گا اور جب بھی ایسا موقع آیا اور کسی ملک کی طرف سے کوئی ایسی سازش سامنے آئی تو چین نے نہ صرف واشگاف الفاظ میں اس کی مذمت کی بلکہ عملی طور پر بھی یہ ثابت کیا کہ چین سے اپنی دوستی کا دم بھرنے والا ملک پاکستان عالمی برادری میں تنہا نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اعلی سطح پر رابطوں سربراہان ملاقاتوں اور وفود کے تبادلوں سے اپنے میں دوستانہ روابط مزید گہرے ہوئے ہیں اور ان روابط کی وجہ سے پاکستان اور چین کے درمیان معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہواہے۔ پاکستان میں گودار کی بندر گاہ پر چین کی طرف سے کی جانے والی سرمایہ کاری اس کی واضح مثال ہے۔ پاکستان میں لا تعداد ایسے میگا پراجیکٹس ایسے جن پر چینی تعاون سے کام زورو شور سے جاری ہے اور ان میں توانائی کے منصوبے سر فہرست ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بھی چینی ماہرین کی طرف سے ان منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جن کی تکمیل سے پاکستان کے عوام میں خوشحالی لائی جا سکتی ہے۔ چین پاکستان کا ایک ایسا قابل اعتماد دوست ہے جس کی دوستی آزمائش کے ہر معیار پر ہمیشہ پوری اتری ہے۔ پاکستان میں قدرتی آفات ہوں یا کوئی معاشی بحران چین نے پاکستانی عوام کی مدد اور تعاون میں پہل کی ہے اور اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اس کی بہترین مثال ہے۔ 46 ارب ڈالر کے اس عظیم منصوبے سے پاکستان کی کایہ پلٹ جائے گی اور دنیا و بلخوص پاکستان کے مخالفین اس چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری پر انگشت بداں ہیں۔حکومت سطحی کے علاوہ عوامی سطح پر بھی پاک چین روابط قائم ہیں۔ بڑی تعداد میں تجارتی گروپ دونوں ملکوں کے دورے کرتے ہیں اور باہمی تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...