یمنیوں کی لْوٹی ہوئی تنخواہیں حوثی باغیوں کے گھروں میں پہنچ گئیں

یمنیوں کی لْوٹی ہوئی تنخواہیں حوثی باغیوں کے گھروں میں پہنچ گئیں

صنعاء(این این آئی)یمن میں ایک طرف باغیوں نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں سرکاری ملازمین کو دس ماہ سے ان کی تنخواہوں سے محروم کر رکھا ہے تو دوسری جانب انٹرنیٹ پر پھیلی تصاویر شرم ناک انداز میں اْس دولت اور عیش و عشرت کو ظاہر کر رہی ہیں جن کا مزہ حوثی عناصر 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر قبضے کے بعد سے لْوٹ رہے ہیں۔حوثی کمانڈروں اور نگرانوں کی جانب سے دولت کے حیران کن اور غیر قانونی مظہر لاکھوں غریب یمنیوں اور دس ماہ سے تنخواہوں سے محروم سرکاری ملازمین کو مشتعل کر رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق حال ہی میں ایک حوثی نگراں کی تصویر نے جس میں وہ اربوں یمنی ریالوں میں گِھرا ہوا نظر آ رہا ہے ، سوشل میڈیا پر اْن باغیوں کے خلاف غم و غصے کی شدید لہر دوڑا دی ہے جو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی رقم اور عوام کا مال لْوٹنے میں مصروف ہیں۔

باغیوں کی جانب سے شہریوں بالخصوص کاروباری افراد پر غیر قانونی ٹیکس اور بھتے عائد کیے جا رہے ہیں جب کہ تنخواہوں کی ادائیگی کے واسطے مرکزی بینک کی سپورٹ کے نام پر عطیات بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔ادھر حوثیوں کے ہمنوا رکن پارلیمنٹ احمد یسف نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان (باغیوں) نے ہماری تنخواہیں اور عوامی رقوم کو لوْٹ لیا ہے اور اب وہ ہماری حب الوطنی بھی غصب کرنا چاہتے ہیں۔حوثیوں سے منحرف ایک کمانڈر عبدالوہاب قطران کا کہنا تھا کہ باغی اس حد تک گر چکے ہیں کہ انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی لوٹ لی ہیں کیوں کہ ان کو اطمینان ہے کہ کوئی بھی اپنے بچوں کی روٹی کے واسطے باہر نہیں آئے گا اور نہ ہی باغیوں سے لڑے گا۔قطران نے حوثی باغیوں اور معزول صدر صالح کی جماعت پر اربوں یمنی ریال لوٹ لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...