83ہزار بچے چائلڈ لیبر پر مجبورکارروائی کیلئے صرف 6اسسٹنٹ ڈائریکٹر

83ہزار بچے چائلڈ لیبر پر مجبورکارروائی کیلئے صرف 6اسسٹنٹ ڈائریکٹر

لاہور(خبرنگار) صوبائی دارالحکومت میں قائم فیکٹریوں ، کارخانوں ، ورکشاپوں، ریسٹورنٹس اور دکانوں پر 9 سال سے 15 سال کی عمر کے بچوں سے چائلڈ لیبر کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے صرف 6 اسسٹنٹ ڈائریکٹروں، محکمہ لیبر نے خلاف قانون لیبر افسروں اور لیبر انسپکٹرز سے چائلڈ لیبر کے خلاف کارروائی کروانا شروع کر رکھی ہے جس کے باعث چائلڈ لیبر کے خلاف جاری مہم ناکام ہو کر رہ گئی ہے۔ ’’ روزنامہ پاکستان‘‘ کو محکمہ لیبر کے ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق شہر میں 70 ہزار سے زائد ایسی فیکٹریاں، کارخانے اور ورکشاپس اور ریسٹورنٹس اور دکانیں ہیں جہاں پر 83 ہزار سے زائد بچوں سے چائلڈ لیبر لی جا رہی ہے جن کی عمریں 8 سال سے 15 سال کے درمیان ہیں اور بعض بچے 6، 6 سال سے کارخانوں، ورکشاپوں اور ریسٹورنٹوں سمیت دکانوں پر کام کر رہے ہیں جن کو سات ہزار سے ساڑھے گیارہ ہزار تک تنخواہ دی جا رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر محنت نے چائلڈ لیبر کے خلاف لاہور زون کے دونوں ڈائریکٹروں کوالگ الگ کارروائی کر نے کا حکم دے رکھا ہے جس پر ڈائریکٹر ساؤتھ چودھری نصراللہ اور ڈائریکٹر نارتھ چودھری محمد نعیم نے الگ الگ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چائلڈ لیبر کے خلاف نئے قانون ممانت چائلڈ لیبر2016 ء کے تحت صرف اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر عہدہ کا افسر مجاذ ہے اور ان کے پاس صرف تین تین اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر ہیں اور لیبر افسروں اور لیبر انسپکٹروں سے چائلڈ لیبر کے خلاف کاروائی کروانے پر مجبور ہیں جس پر چائلڈ لیبر کے خلاف جاری مہم کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ذ رائع نے بتایا ہے کہ محکمہ لیبر لاہو ر کے دونوں ڈائریکٹروں کی رپورٹ پر وزیر محنت راجہ اشفاق سرور نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ اور سیکرٹری محنت اور ڈی جی لیبر سے الگ الگ رپورٹ طلب کرلی ہے۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر لیبر چوہدری محمد نصر اللہ نے بتایا کہ دونوں زون میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی شدید کمی ہے۔ جس کے باعث لیبر افسروں اور لیبر انسپکٹروں کو احکامات دے رکھے ہیں۔ ڈائریکٹر لیبر نے بتایا کہ یہ قانونی طور پر خلاف ورزی ہے۔ اس کے باوجود لاہور میں گذشتہ 8دنوں کے دوران 10کارخانوں اور ورکشاپوں میں چھاپے مار رہے ہیں۔ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ ہر لیبر افسر اور لیبر انسپکٹر کو روزانہ کم سے کم دو فیکٹریوں، کارخانوں اور ورکشاپوں میں چھاپے مارنے کا حکم دے رکھا گیا ہے۔اور لاہور کو جلد چائلڈ لیبر کے دھندے سے پاک کرکے دم لیا جائے گا۔انھوں نے مزید بتایا کہ فی الحال 25سے 30ہزار نو عمر بچوں کی فہرست تیار کی گئی ہے جن سے ورکشاپوں، کارخانوں اور ریسٹورنٹس سمیت دکانوں پر چائلڈ لیبر لی جاری ہے ۔ جبکہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے بچوں کو مقرر کردہ تنخواہ 15ہزار سے کم تنخواہ دینے پر مقدمات درج کیے جارہے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...