انویسٹی گیشن افسران کی محکمہ اینٹی کرپشن میں رہنے کیلئے پراگرس دکھانا ہو گی : مظفر علی

انویسٹی گیشن افسران کی محکمہ اینٹی کرپشن میں رہنے کیلئے پراگرس دکھانا ہو گی ...

لاہور(عامر بٹ سے)ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کی سخت ہدایات اور ڈائریکٹر لاہور ریجن کی جانب سے مقدمات ،انکوائری اور دائر درخواستوں کو بروقت نمٹانے کے لئے کی جانے والی میٹنگ نے انوسٹی گیشن افسران کو محکمہ اینٹی کرپشن میں رہنے کے لئے پراگرس دکھانے پر مجبور کر دیا ،لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر مقبول احمد دھاولہ اور اے ڈی سی آر قصور کی گرفتاری سے شہرت پانے والے عمر مقبول کارکردگی میں سب سے آگے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ،مزید معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ روز چیف سیکریٹری پنجاب کیپٹن(ر)زاہد سعید کی جانب سے محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کے ڈی جی بریگیڈئر(ر)مظفر علی رانجھا کو سرکاری ملازمین کی گرفتاری کے لئے پراگرس دکھانے پر زور دیا گیا اور ہدائت کی کہ کرپٹ سرکاری ملازمین کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں جائیں،جس پرڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب مظفر علی رانجھا نے اینٹی کرپشن کے تمام ڈائریکٹرز کوو اضع ہدائت کی کہ پراگرس دکھانے والے افسر ہی محکمہ میں رہیں گے،بصورت دیگر افسران محکمہ اینٹی کرپشن کو چھوڑسکتے ہیں یا نکالے جاسکتے ہیں ،ڈی جی اینٹی کرپشن کی جانب سے سخت ہدایات نے تمام افسران کو اپنا مستقبل واضح کر دیا ،ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور عدنان اولکھ نے اس ضمن میں لاہور ریجن کے تمام انوسٹی گیشن افسران پر قبل از وقت ہی چیک اینڈ بیلنس کا انتہائی سخت سسٹم نافذ کر کررکھا ہے اور ہفتہ وار بنیادوں پر انوسٹی گیشن افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیا جارہا ہے لاہور ریجن کے انوسٹی گیشن آفیسروں میں عمر مقبول مقدمات کو نمٹانے ،انکوائریوں کو ختم کرنے اور پراگریس دیکھانے میں سب سے نمایاں طور پر دیکھائی دیتے ہیں ،اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق رواں سال 68مقدمات میں سے 50مقدمات نمٹاتے ہوئے فیصلے کئے ہیں جبکہ محکمہ ریونیو ،پولیس ،کوآپریٹو ،ایریگشن ،صحت ،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ٹاؤن انتطامیہ میں تعینات 35سے زائد افسران و ملازمین کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جاچکی ہے ،روزانہ کی بنیاد پر 15سے 20انکوائریوں کی سماعت کی جارہی ہے جبکہ 330انکوائریوں کو 3ماہ میں نمٹانے کے لئے متحرک بھی ہو چکے ہیں مذکورہ انوسٹی گیشن آفیسر عمر مقبول اس وقت محکمہ ریونیو ،صحت،کوآپریٹو اور ایل ڈی اے کے لئے خوف کی علامت بن چکا ہے اور اپنی کارکردگی اور برق رفتاری سے کیسز نمٹانے کی وجہ سے محکمہ اینٹی کرپشن میں آنے والے سائلین اور متاثرہ افراد میں بھی مقبولیت اختیارکر چکا ہے دوسری جانب عمر مقبول انوسٹی گیشن آفیسر کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈیئر (ر)مظفر علی رانجھا اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور عدنان ارشد اولکھ کے ویژن کے مطابق کام کر رہا ہوں اس لئے کسی بھی سفارش کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے 100فیصد میرٹ پر فیصلہ کرتا ہوں اس کے علاوہ میرے ساتھ کام کرنے والے سٹاف کی محنت بھی شامل ہے جو کہ میرے ساتھ سائلین کو بروقت انصاف مہیا کرنے کے لئے بھرپور کوشاں ہیں ،اس ضمن میں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن میں صرف کارکردگی دیکھانے والے افسران ہی رہ سکتے ہیں بصورت دیگر لسٹ مرتب کی جاچکی ہے کارکردگی میں غفلت برتنے والے کو کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ کے لئے گنجائش نہ ہے یہی وجہ ہے کہ لاہورریجن صوبے بھر کے ریجن میں کارکردگی دیکھانے میں سب سے آگے ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...