افغان طالبان کا صوبہ غور کے 2ضلعی ہیڈ کوارٹر ز پر قبضہ ، 46پولیس اہلکار ہلاک کئی زخمی کرنے کابھی دعویٰ

افغان طالبان کا صوبہ غور کے 2ضلعی ہیڈ کوارٹر ز پر قبضہ ، 46پولیس اہلکار ہلاک ...

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)افغان طالبان جنگجوؤں نے گزشتہ دو روز کے دوران مغربی صوبہ غورکے2 ضلعی ہیڈ کواٹرز پر قبضہ جبکہ مشرقی صوبے قندھار میں 70 دیہاتیوں کو اغوا کرلیا جبکہ اغوا ہونیوالے 7 افراد کی لاشیں بھی مل گئیں،صوبہ غورمیں طالبان کیخلاف جاری مختلف کارروائیوں کے دوران افغان پولیس کے آٹھ اہلکار ہلاک ہو گئے ،تفصیلات کے مطابق صوبہ غور کے پولیس سربراہ محسنی نے کہا کہ طالبان نے صوبہ غور کے تیوارا ضلع کے صدر مقام پر اتوار کی صبح چار حملے کیے ،حملے اتنے شدید تھے کہ ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کے سوا کوئی ر استہ نہیں تھا۔انھوں نے کہا پولیس اہلکار ضلعی صدر مقام سے آٹھ کلومیٹر دور موجود ہیں اور وہ جوابی حملے کرنے سے پہلے کمک پہنچنے کا انتظار کر رہے ہیں۔طالبان نے میڈیا کے نام جاری ایک بیان میں تیوارا ضلع پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بیان میں افغان سکیورٹی فورسز کی 46 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن آزادانہ ذرائع سے اس دعویٰ کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔شمالی صوبے فریاب کے پولیس سربراہ کے ترجمان عبدل کریم یورش نے کہا کہ لولاش ضلع میں دو پولیس اہلکار اس وقت ہلاک ہو گئے جب طالبان عسکریت پسندوں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ضلعی صدر مقام پر حملہ کر کے ایک کمپاؤنڈ میں واقع پولیس ہیڈکواٹرز کی عمارتوں کو نذر آتش کر دیا۔حالیہ دنوں میں طالبان جنگجوؤں نے شمالی افغانستان میں درجنوں حملے کیے اور انہوں نے دارالحکومت کابل اور شمالی افغانستان کو جوڑے والی ایک شاہراہ کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا۔ادھرطالبان نے افغان صوبے قندھار کے نواحی علاقے سے 70 دیہاتیوں کو اغوا کرلیا جب کہ اغوا ہونے والے 7 افراد کی لاشیں مل گئیں۔قندھار پولیس کے سربراہ عبدالرازق کے مطابق قندھار ترین کوٹ ہائی وے کے قریب گاؤں میں کارروائی کرتے ہوئے طالبان نے گزشتہ روز 70 افراد کو اغوا کیا جن میں سے 7 کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ تمام لاشیں گاؤں کے مقامی افراد کو ملیں۔قندھار پولیس سربراہ کے مطابق طالبان نے ہائی وے سے قریبی گاؤں سے اغوا کئے گئے 70 میں سے 30 افراد کو رہا کردیا تاہم دیگر افراد اب بھی ان کے قبضے میں ہیں۔دوسری جانب پولیس نے مغویوں کی بازیابی کیلئے صوبے بھر میں سرچ آپر یشن شروع کردیا جبکہ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے تعاون نہ کرنے پر دیہاتیوں کو اغوا کیا تاہم سرکاری طور پر اب تک اغوا کی وجوہات سے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔

افغان طالبان

مزید : علاقائی


loading...