سیاسی تماشہ لگانیوالے فیصلہ کریں ملک کو کہاں لیکر جانا ہے: اسحاق ڈار

سیاسی تماشہ لگانیوالے فیصلہ کریں ملک کو کہاں لیکر جانا ہے: اسحاق ڈار

لاہور( این این آئی)وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے سیاسی تماشہ لگانے والے فیصلہ کر لیں ملک کو کہاں لے کر جانا ہے ،جے آئی ٹی نے جو تفتیش کی اس سے بہتر تو ایک ایس ایچ او کر سکتا تھا،اسی لئے ہم کہتے ہیں جے آئی ٹی نے قوم کا وقت اور پیسہ ضائع کیا ،جے آئی ٹی نے خود مہر ثبت کر دی ہے کہ نواز شریف کیخلاف ریاست کی ایک پائی کی خرد برد،کرپشن، کک بیکس ثابت نہیں ہوئی،میرے دونوں بیٹے 03ء سے خود مختار ہیں، ان کے پاکستان میں کاروبار کرنے پر اس لئے پابندی لگائی تاکہ کوئی الزام نہ لگے ۔ ایک قومی جریدے کو انٹر ویو میں اسحا ق ڈارکا مزید کہنا تھا وزیر اعظم نواز شریف کیوں مستعفی ہوں، انہوں نے کیا جرم کیا ہے ۔ نواز شریف کیخلاف یہ سازش نئی اور نہ ہی آخری ہے ، سازشوں کے عنوان اور کرنیوالے بدلتے رہتے ہیں۔ دھرنا تھری کی تیاری ہو رہی ہے لیکن اس بار بھی مخالفین نہ صرف ناکام ہوں گے بلکہ سازش کرنیوالے بھی بے نقاب ہوں گے ۔ سپریم کورٹ جے آئی ٹی کے جھوٹ کے پلندے کو آئین و قانون کے مطابق مسترد کر دے گی ۔ جے آئی ٹی کے ارکان جانبدار تھے ، انہیں کس نے اجازت دی کہ وہ کسی کو جھوٹا ،فریبی کہیں۔ سوال یہ ہے کہ 256صفحات کی رپورٹ کس نے لکھی ، رپورٹ میں تو صاف طور پر عمران خان کا بیان رکھ دیا گیا ہے اسی لئے تو ہم کہتے ہیں رپورٹ میں سے عمران خان اور شیخ رشید نکلے ہیں ۔رپورٹ سے خدشہ، امکان، توقع اور اندیشے کے الفاظ نکال دیں تو خیالات کامجموعہ رہ جاتا ہے۔ عوام کی تقدیر پاکستان کے اندر یا باہر سازشی عناصر کو ٹھیکے پر نہیں دی جا سکتی ،اپوزیشن نے پانامہ لیکس کو سیاسی بیساکھی کے طو رپر استعمال کیا ۔ میں پیشہ ور تاجر ہوں مجھے ٹیکس بچانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔سوئی سے مرسٹڈیز تک ہر چیز کا حساب دیا ،میں خیرات کھانے والوں میں سے نہیں بلکہ دینے والوں میں سے ہوں ۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بہت سے کاغذات پر دستخط نہیں ، بہت سے ایسے ہیں جو پڑھنے کے قابل نہیں ، جے آئی ٹی والے جلدی میں تھے یا بالکل ہی پیدل تھے ۔ 13معزز ججز حدیبیہ پیپر ملز معاملے کو نمٹا چکے ہیں، عدالتی حکم ہے کیس کو ری اوپن نہیں کیا جا سکتا۔جے آئی ٹی نے یکطرفہ ٹریفک چلائی اس نے جو کام کیا وہ دو ماہ میں نہیں ہو سکتا، یہ سال ڈیڑھ سال کی تیاری لگتی ہے۔ رپورٹ پر ٹھمکے لگانے کی ضرورت نہیں۔ بتایا جائے سول حکمرانوں میں کیا مینو فیکچرننگ ڈیفکٹ ہے ،ملکی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہر سیاسی حکومت کیخلاف ایک مقدمہ دائر کیا جاتا ہے ، اگر موجودہ حکومت کو نہ روکا گیا تو اگلے دس برسوں میں پاکستان ایشیاء کا مرکزی ملک ہوگا۔

مزید : علاقائی


loading...