ورکرز ویلفیئر بورڈ کا نارروا سلوک کیخلاف صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنے کا اعلان

ورکرز ویلفیئر بورڈ کا نارروا سلوک کیخلاف صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنے کا ...

نوشہرہ(بیورورپورٹ) ورکرز ویلفیئر بورڈ اور ورکزر ویلفیئر فنڈ کا مزدوروں کے ساتھ رکھے گئے ناروا سلوک کے خلاف 21 اگست 2017ء کو پشاور پریس کلب اور صوبائی اسمبلی کے سامنے مسائل کے حل تک دھرنا دیا جائیگادھرنے میں فیڈریشن سے ملحقہ صوبہ بھر کے ہزاروں مزدوروں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے فیڈریشن کے قائدین 11 اگست تک صوبہ بھر کے تمام اضلاع کا دورہ کرکے اجلاس منعقد کریگی۔ اس بات کا فیصلہ فیڈریشن کے صوبائی اجلاس زیر صدارت صوبائی صدر محمد اقبال بمقام شمع گھی ملز امانگڑھ میں کیا گیااجلاس میں صوبہ بھر کے فیڈریشن سے ملحقہ تنظیموں کے قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس سے لیاقت باچہ، فقیر حسین، مسلم خان، محمد نبی، سرتاج خان، عقل باچہ،اجملی خان، امداد حسین، عبدالودود سمیت صوبائی صدر محمد اقبال نے خطاب کیا اور کہا کہ عرصہ ایک سال سے مزدوروں کے بچوں کو فراہم کردہ سہولت ٹرانسپورٹ کی مد میں مزدوروں کو ادائیگی نہیں کرائی جارہی۔ یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم وہ بچے جنھوں نے کورس مکمل کیا ہے، عدم ادائیگی کے وجہ سے اُن کو ڈگریاں نہیں دی جارہیں۔ جہیز گرانٹ، فوتگی گرانٹ کی سہولیات عذاب بن گئی ہیں۔ سالوں ان کی ادائیگیاں نہیں کرائی جاتیں۔ سکالر شپ کی ادائیگی افسرشاہی کے غیرضروری تاخیری حربوں کی نظر ہے۔ بورڈ میں صرف وہی کام ہوتے ہیں جس میں متعلقہ حکام کو کمیشن ملتا ہو۔ جس کام میں کمیشن نہ ہو اُس کام کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگاتاملک کے دیگر صوبوں میں لیبر کالونیاں مزدورں کو مالکانہ حقوق پر ملی ہیں۔ مگر خیبر پختونخوا کے مزدوروں کو اس حق سے یکسر محروم رکھا گیا ہے۔ مسلسل جدوجہد کے بعد پچھلی حکومت میں یہ دیرینہ مسئلہ حل ہوا تھا مگر ایک دو مزدور دشمن صنعتکاروں نے اس عمل کو روکنے کے لیے ہائی کورٹ پشاور سے حکمِ امتناعی حاصل کر رکھا تھا۔ جسے اب ہائی کورٹ پشاور نے خارج کردیا ہے۔ صوبہ بھر کے مزدور ہائی کورٹ پشاور کے انصاف پر مبنی اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ مگر بورڈ کی افسرشاہی اب بھی روڑے اٹکا رہی ہے۔ اگر فوری طور پر لیبر کالونیوں کو مالکانہ حقوق پر دینے کا عمل شروع نہ ہوا، سکالرشپ، ٹرانسپورٹ کی رقم اور دیگر زیرِالتوا مسائل فوری حل نہ ہوئے تو 21 اگست کو خیبر پختونخوا کے ہزاروں مزدور تاریخی دھرنا دینگے اور اس ظلم کے خلاف کسی بھی انتہائی اقدام سے دریغ نہیں کرینگے۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ دھرنا اُس وقت تک جاری رہیگا جب تک مسائل حل نہیں ہوتے۔

مزید : علاقائی


loading...