57تھانوں میں تعینات تحقیقاتی افسرا ن کی اکثریت نکھٹو اور سفارشی ، خفیہ رپورٹ میں کارروائی کی سفارش

57تھانوں میں تعینات تحقیقاتی افسرا ن کی اکثریت نکھٹو اور سفارشی ، خفیہ رپورٹ ...

لاہور(لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت کے 86 تھانوں میں تعینات 57 تحقیقاتی افسروں اور قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے 10 انچارج افسروں پر مقدمات میں ناقص کارکردگی د کھا نے اور کرپشن کے الزامات پر محکمانہ کارروائیاں کی گئیں۔ سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ڈویژنل ایس پیز اور قائم ’’ویجیلینس سیل‘‘ کی روزنامہ پاکستان کو حاصل ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز کے بعد متعد د انچارج انویسٹی گیشن، انچارج ہومی سائیڈ اور انویسٹی گیشن ونگ کے افسروں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں پائی گئی ،سب سے زیادہ سٹی ڈویژن اور کینٹ ڈویژن کے انچارج انویسٹی گیشن افسران کی کارکردگی ناقص رہی ، صدر ڈویژن اور ماڈل ٹاؤن ڈویژن کے تھانوں میں تعینات انچارج انویسٹی گیشن افسران دوسرے نمبر پر رہے۔ انویسٹی گیشن کے شعبہ سے ملنے والی معلومات کے مطابق انچارج انویسٹی گیشن تھانہ فیکٹری ایریا سب انسپکٹر محمد نصراللہ خاں ایک اعلیٰ پولیس افسر اور ایک سیاسی شخصیت کی سفارش پر تعینات ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تعیناتی کے آٹھ ماہ کے دوران انتہائی ناقص کارکردگی پائی گئی۔ ایس پی کینٹ انویسٹی گیشن ندیم عباس متعدد بار نااہلی کی رپورٹ بھجوا چکے، ایس ایس پی انویسٹی گیشن مبشر میکن کی جانب سے نوٹس نہیں لیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انچارج انویسٹی گیشن غازی آباد محمد عباس اور سب انسپکٹر قیوم خاں پر ڈکیتی اور منشیات کے مقدمات میں اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزامات ہیں۔ ایس پی کینٹ نے تبدیلی کے لئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو لکھ رکھاہے۔ انچارج انویسٹی گیشن ڈیفنس سی محمد عابد اور انچارج انویسٹی گیشن ڈیفنس بی صفدر گوندل کی بھی کارکردگی ناقص رہی، مبینہ کرپشن میں ملوث پائے گئے۔ انچارج انویسٹی گیشن تھانہ ہیئر ملک محمد نذیر احمد کی تعیناتی کے ایک سال کے دوران نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ۔ قبضہ گروپ کی سرپرستی پر تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انچارج انویسٹی گیشن شمالی چھاؤنی انسپکٹر حسنین حیدر مختلف تھانوں میں بطور انچارج انویسٹی گیشن اختیارات سے تجاوز کرتے رہے ہیں، تبدیل بھی ہوئے۔ انچارج انویسٹی گیشن ہربنس پورہ فاروق افتخار کھارا کو مختلف تھانوں میں ایس ایچ او تعینات رہنے کے دوران ناقص کارکردگی پر فارغ ہوئے ۔ انچارج انویسٹی گیشن باٹا پور ملک عابد اور انچارج انویسٹی گیشن مناواں طارق پرویز بھی انچارج انویسٹی گیشن کے طور پرناقص کارکردگی کے حامل پائے گئے ۔ انچارج انویسٹی گیشن باغبانپورہ توقیر انجم کو ناقص کارکردگی پر لاہور پولیس سے بدر کیا گیا۔انچارج انویسٹی گیشن جنوبی چھاؤنی میاں یونس اور انچارج انویسٹی گیشن ڈیفنس اے میاں عدنان احمد کی کارکردگی تسلی بخش پائی ئی ہے۔ انچارج انویسٹی گیشن ہڈیارہ کے ایک سابق ایس ایس پی انویسٹی گیشن سفارشی جبکہ انچارج انویسٹی گیشن برکی ایک ایس ایس پی کے چہیتے بتائے جاتے ہیں۔ اسی طرح ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں تعینات انچارج انویسٹی گیشن گرین ٹاؤن شرجیل احمد کی ناقص کارکردگی پر انکی ایک سال تین ماہ کی سروس ضبط کی گئی ہے، جبکہ انچارج انویسٹی اچھرہ انسپکٹر غلام عباس پر اختیارات سے تجاوز اور ناقص تفتیش پر دو الگ الگ کیسوں میں ایک ایک سال سروس ضبط کی گئی اور نوکری سے جبری ریٹائر کرنے کے لئے شوکاز نوٹس بھی جاری کئے گئے ہیں۔ انچارج انویسٹی گیشن تھانہ گلبرگ اصغر بھٹی اور انچارج انویسٹی گیشن لیاقت آباد محمد اسلم کی کارکردگی خفیہ رپورٹ میں تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔ انچارج انویسٹی گیشن نشتر کالونی اور انچارج انویسٹی گیشن کوٹ لکھپت کو اعلیٰ ترین پولیس افسروں کی سفارش پر تعینات کیا گیا ہے۔ اسی طرح تھانہ قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ کے انچارج انویسٹی گیشن محمد اسلم ، تھانہ ستوکتلہ کے انچارج انویسٹی گیشن محمد سرور کی بھی ناقص کارکردگی کا ذکر کیا گیا ہے اور ایس ایس پی کے حکم پر ان کی ایک ایک سال کی سروس ضبط اور نوکریوں سے معطل کرنے جیسے سزا دینے کے لئے شوکاز نوٹس بھی جاری کئے گئے ہیں ، انچارج انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن اور انچارج ہومی سائیڈ ماڈل ٹاؤن سرکل سب انسپکٹر محمد رفیق کی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔ انچارج ہومی سائیڈ ماڈل ٹاؤن پر ایک ارب پتی پراپرٹی ڈیلر کے قتل میں ناقص تفتیش ، حقائق چھپانے اور کرپشن کے الزامات پائے گئے ہیں۔ سابق انچارج انویسٹی گیشن شاہدرہ ذوالفقار چیمہ کو ناقص کارکردگی اور مبنیہ طور پر کرپشن کے الزامات پر تبدیل کیا گیا ہے۔ اسی طرح انچارج انویسٹی گیشن گجر پورہ عبدالوہاب پر بطور انچارج انویسٹی گیشن شالیمار ناقص کارکردگی کے الزامات ہیں، سفارش پر سول لائن ڈویژن کے تھانہ گجر پورہ میں بطور انچارج انویسٹی گیشن کام کر رہے ہیں۔ سابق انچارج انویسٹی گیشن مغل پورہ نواز چیمہ پر دھمکیاں دینے کے ایک مقدمہ میں ایک ملزم کو پانچ روز تک بغیر گرفتاری کے حوالات میں رکھنے اور گرفتاری ظاہر کرنے پر ایس پی انویسٹی گیشن سول لائن کی رپورٹ پر انکوائری چل رہی ہے ۔ انچارج انویسٹی گیشن سول لائن اور انچارج انویسٹی گیشن پرانی انارکلی اور انچارج انویسٹی گیشن قلعہ گجر سنگھ کے خلاف بھی خفیہ رپورٹ میں غیر تسلی بخش کارکردگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انچارج انویسٹی ہنجروال ، انچارج انویسٹی گیشن نواب ٹاؤن، انچارج انویسٹی گیشن مصطفیٰ ٹاؤن محمد اسلم کی کارکردگی بھی غیر تسلی بخش پائی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس کے ساتھ انچارج ہومی سائیڈ برکی عرفان الحق ، انچارج ہومی سائیڈ شمالی چھاؤنی سرکل محمد خالد ، انچارج انویسٹی گیشن باغبانپورہ ملک مشتاق، انچارج انویسٹی گیشن مغل پورہ سرکل محمد عاشق اور انچارج انویسٹی گیشن پرانی انارکلی سرکل انسپکٹر ندیم کی بھی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے حکم پر انچارج انویسٹی گیشنز اور انچارج ہومی سائیڈ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے خفیہ طور پر ’’ ویجیلینس سیل ‘‘ قائم کیا گیا ہے جبکہ اس کے علاوہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن مبشر میکن کو ناقص کارکردگی کے حامل انچارج انویسٹی گیشنز کو عہدوں سے ہٹانے کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...