ایک نہیں مائنس چار دیکھ رہا ہوں,چوہدری نثار پارٹی نہیں چھوڑیں گے : جاوید ہاشمی

ایک نہیں مائنس چار دیکھ رہا ہوں,چوہدری نثار پارٹی نہیں چھوڑیں گے : جاوید ...
 ایک نہیں مائنس چار دیکھ رہا ہوں,چوہدری نثار پارٹی نہیں چھوڑیں گے : جاوید ہاشمی

  


ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوزایجنسیاں) تحریک انصاف کے سابق صدر اور ملک کے سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے عمران کو ہمیشہ کہا کسی کے کہنے پر چڑھائیاں نہ کریں ،نواز شریف کو پیسہ باہربھیجنے سے منع کیا تھا، خان صاحب مائنس ون کی بات کرتے ہیں مگر مجھے مائینس چار نظر آ رہے ہیں ,چوہدری نثار پارٹی نہیں چھوڑیں گے ،انھیں وزارت چھوڑ دینی چاہیے ،نثار جس طرح چاہتے ہیں حکومت چلا نے کا طریقہ وہی ہے وہ اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہتے،محنت سے سیاست میں راستہ بنانا جانتے ہیں ۔پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے ضلعی نائب صدر خواجہ رضوان کی والدہ کی قرآن خوانی کے موقع پر مخدوم جاوید ہاشمی کا میڈیا سے گفتگومیں مزید کہنا تھا چوہدری نثار سمجھدار اور عملی سیاست کے طالبعلم ہیں جن کی سوچ کو اچھی طرح جانتا ہوں، مجھے اندر کی بات کا علم نہیں تاہم چوہدری نثار اندر کے آدمی رہے ہیں اور وہ پارٹی کا سرمایہ ہیں ۔ ادارے حکومت میں مداخلت نہ کریں جب بھی حکومت آتی ہے تو سارا کرپشن کا مواد جمع کر لیا جاتا ہے اور 15دن بعد پتہ لگتا ہے حکومت کی جڑیں ختم ہو چکی ہیں۔ میں کسی بھی سیاسی جماعت میں فارورڈ بلاک کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ فارورڈ بلاک بنانا سیاسی سازش ہوتی ہے،چوہدری نثار کوئی فارورڈ بلاک نہیں بنائیں گے۔ مجھے بھی پی ٹی آئی میں فاروڈ بلاک بنانے کا کہا گیا ، پاناما پر تو فٹی فٹی ہے مگر عمران خان تو سو فیصد اپنی سیاست فارغ کر چکے ہیں۔ میری سیاست کی لائن تھوڑی سخت ہے، مجھے کہا جاتا تھا اختلاف رائے عوام کے سامنے نہ کروں جبکہ میں کبھی بھی اندر کا آدمی نہیں رہا اور میں کسی کو بھی پسند نہیں تھا۔چوہدری نثار اندر کے اور میں سڑک کا آدمی ہوں، میں نظریاتی سیاست پر یقین رکھتا ہوں اور ایم این اے کی نشست بھی اسی لیے چھوڑی تھی۔

جاوید ہاشمی

سکھر (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے استعفیٰ دینا یا نہ دینا وزیراعظم کی مرضی اور سیاست ہے تاہم 62،63کے تحت نواز شریف نے کئی چیزیں چھپائی، غلط بیانی پر نہیں جا ئید ا د چھپانے پر نہیں بچ سکتے، دستاویزات میں ردوبدل بھی کریمنل ایکٹ ہے اور کریمنل ایکٹ بھی پھنس رہے ہیں۔ اگر نواز شریف جاتے ہیں تو عمران خان اْن کے پیچھے ہیں ، پیسوں کی ٹرا نز یکشن اور عطیہ کی رقم ڈکلیئر نہیں ، کس نے دی کہاں سے آئی،پانامہ کیس کا فیصلہ پیر یا منگل تک آ جائے گا، حکومت کا پریشر چودھری نثار کیلئے اینٹی بائیوٹک ہے، اللہ چودھری نثار کو درد سے نجات دلائے۔ دھرنوں میں عمران خان ایجنسیوں کے مہرے کا کردار ادا کررہے تھے،14ء میں ایجنسیوں کا کردار تھا اب نہیں ہے،ہم خود غلط کام کرتے ہیں پھر الزام ایجنسیوں پر لگاتے ہیں، یہ جو سب کچھ ہورہا ہے وہ میاں صاحب کی غلطیوں، نااہلیوں اور وزیراعظم ہاوس میں بننے والی میڈیا ٹیم کے سبب ہورہا، چوہدری نثار استعفیٰ دے سکتا ہے ، ن لیگ کو الوداع کہہ سکتا ہے مگر کوئی گروپ بنا کر دھوکہ نہیں دے سکتا۔ نوا ز شریف کے جانے سے سی پیک پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔پاناما معاملہ پر ہم مانتے ہیں عمران خان نے رسک لیا لیکن آج کل کے جو حالات ہیں اس میں ایجنسیوں کو کوئی کردار نہیں، جب جے آئی ٹی بنی تھی تو ہم اس کے حق میں بھی نہیں تھے کیونکہ ماضی کا ریکارڈ بہتر نہیں، ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنی زندگی میں بھٹو کو قاتل کہنے والوں کو آج اسکی شہادت کی مثالیں دیتے دیکھ رہے ہیں ۔ نواز شریف کی ٹیم نے ملکی حالات اور اپنی غلطی کا تجزیہ درست طور پر نہیں کیا۔سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا وزیراعظم کا استعفیٰ پوری قوم کا مطالبہ ہے،جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد 10 میں بہت کچھ ہے، بولنا اور اسے ثابت کرنا الگ الگ چیز ہے جبکہ سپریم کورٹ کے نیب سے متعلق ریمارکس موجود ہیں، نیب کے جتنے کیسز ہوتے ہیں وہ سندھ میں ہوتے ہیں، پنجاب میں نیب چپ ہے، سیاستدان آج کرپشن کی وجہ سے بدنام ہورہے ہیں، پاناما کیس کا فیصلہ آنے تک کچھ بھی کہنا نہیں چاہیے کیونکہ فیصلہ آنے تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوتا ہے اسلئے تحریک انصاف کو بھی یہی کہتے ہیں فیصلہ آنے دیں اس کے بعد بات کریں۔سیاستدانوں کو عوام کیلئے رول ماڈل ہونا چاہیے، ان کا کام صرف ووٹ مانگنا نہیں ہوتا، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو دونوں قوم کے رول ماڈل تھے۔ گورنر سندھ کو نیب قانون کے بل کی منسوخی کا اختیار حاصل ہے تاہم تین مرتبہ گورنر ہاؤس کو بل پیش ہونے کی صورت میں یہ از خود قانونی شکل اختیار کرجائے گا، خیبرپختونخوا میں نیب نہیں اب سندھ میں بھی ایسا ہی ہوجائے گا۔ آجکل کے دور میں سیاست میں سوائے لڑائی جھگڑے کے کچھ نہیں، ہماری سیاست تفریق میں تبدیل ہو گئی ہے، ہم حالات کو کسی ایک سمت میں لے جانا ہی نہیں چاہتے۔ ریلوے ہڑتال میں کوئی سیاست نہیں چاہتے، ریلوے ڈرائیورز اپنی ہڑتال 3 دن تک مؤخر کریں اور عوام کو ان کے گھروں تک پہنچائیں جبکہ حکومت سے بھی درخواست ہے کہ ڈرائیوروں سے مذاکرات کرے ۔

خورشید شاہ

مزید : صفحہ اول


loading...