دوسروں پر الزام عائد کرنے والے ، کپتان کی دستاویزات غیر مصدقہ ، منی ٹریل کا ثبوت بھی موجود نہیں : مسلم لیگ (ن)

دوسروں پر الزام عائد کرنے والے ، کپتان کی دستاویزات غیر مصدقہ ، منی ٹریل کا ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے کہا ہے عمران خان کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں منی ٹریل کا ثبوت موجود اور نہ ہی یہ دستاویزات تصدیق شدہ ہیں ،پہلے کہتے تھے فلیٹ خریدا گیا اب کہہ رہے ہیں بینک سے مورگیج کرایا گیا تھا اور فلیٹ کی خریداری کے ایک لاکھ 17 ہزار پاؤنڈ کا کوئی حساب کتاب موجود نہیں ہے، عمران خان بڑے بڑے جھوٹ بولتے ہیں،وزیراعظم نے اپنے اقامہ کے بارے میں کوئی چیز نہیں چھپائی بلکہ اس کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں فراہم کرتے رہے ہیں، وزیراعظم پر براہ راست اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کا کوئی ثبوت عائد نہیں کیا گیا اور وزیراعظم نے کبھی بھی اپنے منصب سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا، وزیراعظم نے اپنے تین نسلوں کا حساب دیا ہے‘ عمران خان ایک نسل کا اپنا حساب بھی نہیں دے سکے ، ہم پر الزا م ہے کہ ہم 50 سال پرانا ریکارڈ فراہم نہیں کر سکے جبکہ یہ اپنی صرف ایک کمپنی کا حساب بھی نہیں دے سکے،دوسروں پرتنقید کرنیوالے عمران خان اپنا حساب دینے سے بھاگ رہے ہیں،بنیادی طور پر عمران خان سیاسی میدان میں شکست خوردہ ہیں اور آئندہ بھی اپنی شکست دیکھ رہے ہیں ۔اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا اس دن سے لے کر آج تک عمران خان اور تحریک انصاف نے طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے ،اور آج خود سپریم کورٹ کو لکھ کر دے رہے ہیں میرے پاس فلیٹ کی خریداری اور رقوم کی ادائیگی کی تفصیلات اور دستاویزات موجود نہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا تھا وہ حساب دیں گے جو انکی دیانتداری کی مثال ہے۔ عمران خان نے کبھی تسلیم نہیں کیا کہ ان کی کوئی آف شور کمپنی ہے جب یہ کمپنی سامنے آئی تو کہا گیا کہ یہ ٹیکس مینجمنٹ کیلئے بنائی گئی تھی جبکہ ہماری کمپنیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ٹیکس چوری کیلئے بنائی گئیں۔ وزیراعظم قوم کی خدمت کے اپنے وعدے پورے کر رہے ہیں اس لئے پی ٹی آئی سمجھتی ہے وہ سیاسی میدان میں نواز شریف کا مقابلہ نہیں کر سکتی لہٰذا سپریم کورٹ سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔ سپریم کورٹ سے جو بھی فیصلہ آئے گا وہ حق اور سچ کا ہو گا، وزیراعظم سرخرو ہوں گے۔ وزیراعظم کا مقابلہ سیاسی میدان میں کرنا پڑیگا اور مخالفین کو شکست ہو گی۔ عمران خان نے پارلیمنٹ کی عزت و احترام پر بھی مسلسل حملے کئے ہیں،وہ جس شاخ پر بیٹھے ہیں مسلسل اسی کو کاٹ رہے ہیں اور سیاسی ماحول کو گندا کرنے کے علاوہ ان کا کوئی کارنامہ نہیں۔سوشل میڈیا پر عمران خان نوجوانوں کو گمراہ اور انکی اخلاقیات کو تباہ کر رہے ہیں، دعا ہے اللہ تعالی انکو ہدایت نصیب فرمائے۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں ن لیگ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز نے کہا وزیراعظم نے کوئی چیز نہیں چھپائی تمام تفصیلات الیکشن کمیشن میں موجود ہیں ، وزیراعظم پر آف شور کمپنی کا مالک ہونے کی باتیں سراسر غلط ہیں ، عمران خان ایک طرف تو اداروں کے تحفظ کا درس دیتے ہیں اور دوسری طرف خود ہی اداروں پر الزام عائد کرتے ہیں۔ عمران خان کیخلاف دعوی دائر کیا گیا جس کا آج تک جواب نہیں آیا اور نہ ہی اپنے کیسز کے حوالہ سے الیکشن کمیشن میں پیش ہو رہے ہیں۔ عمر ان خان مرد بنیں اور تمام الزامات کا جواب دیں۔ عمران خان نے فنڈز فراہم کرنیوالے لوگوں کا اپنی ٹویٹ میں شکریہ ادا کیا جن میں یہودی اور ہندو لابی کے افراد بھی شامل ہیں۔ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ اس کو غلط ثابت کریں۔ پی ٹی آئی کے جماعتی انتخاب میں غلط ذرائع استعمال کرنے کی رپورٹ دینے پر جسٹس وجیہہ الدین کو جماعت سے فارغ کیا گیا اس کا بھی جواب دینا ہو گا۔ عمران خان نے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے جواب کے 8, 10 پیرا گرافس میں اپنا پرانا بیان ہی دہرا دیا جس کا منی ٹریل سے کوئی تعلق نہیں۔ ان سے جو بھی بات پوچھی جائے تو وہ ہر چیز کا جواب کیری پیکر دیتے ہیں جبکہ کیری پیکر کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں دیا گیا اور سارے جھوٹ بولے گئے، اسی طرح راشد خان کے اکاؤنٹ کے بارے میں بھی کئی بیانات بدلے گئے، عمران خان نے اپنی منی ٹریل دکھانے کی بجائے مشتاق احمد کا 1980ء کا معاہدہ جمع کرا یا ہے اور کہا ہے میرا بھی اسی طرح کا تھا۔ فلیٹ کی خریداری کی تاریخ بھی 1983ء کی بجائے 1984ء کر دی ہے، انہوں نے اپنے جواب میں آسٹریلوی کمپنی کا ایک خط بطور ثبوت پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ 1977ء میں مجھے 25 ہزار پاؤنڈ ملے یہ خط بھی غیر تصدیق شدہ ہے جبکہ آسٹریلیا کی ایس ای سی پی میں اس کمپنی کی رجسٹریشن 1984ء میں ہوئی تھی اور خط 1977 کا دے رہے ہیں۔ عمران خان ہر چیز پر جھوٹ بولتے ہیں اور اس کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں یہ ان کے حربے اور طریقہ کار ہے تاکہ لوگوں کو بے وقوف بنایا جا سکے۔ جب عوام کے سامنے اصل حقیقت آتی ہے تو عمران خان کہتے ہیں کہ مجھ پر دباؤبڑھانے کیلئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔انکا کہنا تھا ہمیں کسی امپائر کی انگلی کا انتظار نہیں ، ہم آئین اور اداروں کے پابند ہیں۔ ملک کا سارا میڈیا گواہ ہے وزیراعظم نے کوئی کرپشن نہیں کی اور اس کا کوئی ثبوت بھی موجود نہیں۔ دانیال عزیز نے کہا کہ وزیر داخلہ جو بھی بات کریں گے خود کریں گے۔

مسلم لیگ ن

مزید : صفحہ اول


loading...