دبئی کا اقامہ ، ملازمت کا غذات نامزدگی میں ظاہر کی ، نواز شریف کا جلد 9میں اٹھائے گئے نکات سپریم کورٹ میں جواب

دبئی کا اقامہ ، ملازمت کا غذات نامزدگی میں ظاہر کی ، نواز شریف کا جلد 9میں ...
 دبئی کا اقامہ ، ملازمت کا غذات نامزدگی میں ظاہر کی ، نواز شریف کا جلد 9میں اٹھائے گئے نکات سپریم کورٹ میں جواب

  


اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک 228 نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم نواز شریف نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی)کی رپورٹ کی جلد9میں اٹھائے گئے نکات پر جواب سپریم کورٹ میں داخل کرادیا ہے۔ جواب میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ رپورٹ میں آمدن اور اثاثہ جات سے متعلق پیرا قیاس آرائیوں پرمبنی ہے، تمام رقوم اور اثاثہ جات ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ظاہرکرچکا ہوں،جے آئی ٹی کی سفارشات کاکوئی قانونی پہلو نہیں، ایف زیڈ ای کی ملازمت چھپانے کا الزام درست نہیں ، یو اے ای کا اقامہ 2013کے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیاگیا۔ وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کی جلد9میں اٹھائے گئے نکات پر تحریری جواب داخل کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے وزیراعظم کے آمدن سے زائد اثاثوں کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں دیئے ۔ وزیراعظم نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ انہوں نے اقامہ اورایف زیڈ ای میں ملازمت کاغذات نامزدگی میں ظاہرکی، کاغذات نامزدگی میں ایسی معلومات فراہم کرنے کیلئے کوئی الگ خانہ نہیں، ایس ای سی پی کے ریکارڈ سے واضح ہے۔ وزیراعظم نے جواب میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی کے الزام کی تردید کرتا ہوں کہ یو اے ای کی ملازمت چھپائی۔ جواب میں کہا گیا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت اقا مہ ‘ ملازمت کو پاسپورٹ کی کاپی میں ظاہر کیا۔ کاغذات نامزدگی میں کوئی خصوصی کالم نہیں اس لئے الگ سے ظاہر نہیں کیا گیا وزیراعظم کبھی چو دھری شوگر ملز کے سی ای او نہیں رہے، وزیراعظم چو دھری شوگرملزکے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایڈوائزریکم کتوبر2009کو بنے، وزیراعظم کی جلا وطنی کے دوران اخراجات چو دھری شوگرملز نے برداشت کئے، وزیراعظم نے 2010کے اختتام میں چودھری شوگر ملز سے لی گئی رقم واپس کر دی، 2015میں چودھری شوگر ملز کی جانب سے بڑی رقم کی ادائیگی کی غلطی کا احساس ہوا، وزیراعظم 2016تک چودھری شوگرملز کے شیئر ہولڈر رہے جبکہ شیئر ہولڈرہونے کا مطلب چیف ایگزیکٹو ہونا نہیں۔ واضح رہے کہ پاناما عمل درآمد بنچ نے 21جولائی کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔آخری سماعت کے موقع پر خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ تحریری جواب جمع کرانا چاہتے ہیں جس پر عدالت نے انہیں ایک دن کی مہلت دی تھی۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم کے کا غذات نامزدگی کے صفحہ نمبر 87پر وزیر اعظم نے اقامہ ظاہر کیا ، اقامہ میں وزیراعظم نے خود کو ایف زیڈ ای کیپٹل کا چیئرمین آف دی بورڈ بھی ظاہر کیا ہے۔ ایف زیڈ ای کی چیئرمین شپ سفری ریکارڈ میں ظاہر کی گئی جب کہ کاغذات نامزدگی پر سجاد احمد ریٹر ننگ افسر این اے 120کے دستخط بھی موجود ہیں۔ کاغذات نامزدگی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے 18جنوری 2008 کو جاری کردہ پاسپورٹ پر اقامہ ظاہر کیا، وزیر اعظم کو اقامہ 5/6/2012 کو جاری کیا گیا جس کے ختم ہونے کی مدت 4/6/2015 تھی۔

نوازشریف۔ جواب

مزید : صفحہ اول


loading...