سرینگر ، ناکے پر روکنے کا غصہ ، بھارتی فوج کا تھانےپر حملہ ، 4اہلکار زخمی ، ریکارڈ نذر آتش

سرینگر ، ناکے پر روکنے کا غصہ ، بھارتی فوج کا تھانےپر حملہ ، 4اہلکار زخمی ، ...

سرینگر(اے این این) مقبوضہ کشمیر میں شہری تو کجا پولیس بھی بھارتی فوج کے ہاتھوں محفوظ نہیں ،ناکے پرروکنے کی پاداش میں بھارتی فوجیوں کا کیپٹن کی قیادت میں تھانے پر حملہ ،ایک افسر سمیت 8اہلکاروں کی درگت بنا دی،4اہلکار زخمی،ریکارڈ نذر آتش،سامان تہس نہس،گاڑیوں کی توڑ پھوڑ، مقدمہ درج ،زخمی اہلکار ہسپتال منتقل۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات گیارہ بجے کے قریب سادہ لباس میں ملبوس 24آ رآ ر سے وابستہ اہلکار امرناتھ یاترا سے واپس لوٹنے کے بعدچار سومو گاڑیوں میں سوار ہو نے کے بعد سونہ مرگ پہنچے جہاں پر یا ترا ڈیوٹی دینے والی پولیس کی ایک ناکہ پارٹی نے ان سے کہا کہ شام کے وقت کسی بھی یاتری گاڑی کو سر ینگر کی طرف روانہ ہونے کی اجازت نہیں ہے لہذا انہیں سونہ مرگ میں ہی رات کیلئے ٹھہرنا پڑے گا ۔ فوجی ا ہلکاروں نے اپنی شناخت ظاہر کرنے کے بجائے پولیس ہدایات کی پروانہیں کی اور آ گے نکل گئے۔اس موقعہ پر پولیس ناکہ پارٹی نے کنٹرول روم گاندربل کو مطلع کیا کہ چار پرائیویٹ گاڑیوں میں یاتری پولیس ہدایات کی برعکس گنڈ کنگن کی طرف جارہے ہیں ۔ پی سی آ ر کی نوٹس میں معاملہ آ نے کے ساتھ ہی گنڈ پولیس کو اس بارے میں اطلاع دی گئی ۔ سو مو گاڑ یوں میں سوار فوجی اہلکار جب گنڈ پہنچے تو پولیس نے ناکہ لگایا تھا جہاں گاڑیوں کو روکا گیااور انہیںآ گے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔اس موقعہ پر فوجی اہلکار طیش میں آ گئے اور انہوں نے سومو گا ڑیوں سے نیچے اترکر اند ھا د ھند طریقے سے وہاں ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو پیٹنا شروع کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق فوجی اہلکار وں نے وحشیا نہ طریقہ سے پولیس اہلکاروں کو زدوکوب کیا جس کے نتیجے میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹرغلام رسول سمیت2اہلکاروں کوشدید چوٹیں آئیں۔پھر تھانے میں آکر توڑ پھوڑ شروع کر دی،ادھر حریت کانفرنس (ع) نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی سطح پر کشمیر ی عوام کیخلاف اختیار کی جارہی پالیسیوں کو حد درجہ جارحانہ اور معاندانہ رویہ سے عبارت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں نام نہاد جمہوری حکومت کا وجود محض برائے نام ہے اصل میں جموں وکشمیرمیں فوج اور فورسز کی حکمرانی ہے ، یہی وجہ ہے کہ آئے روز نہتے عوام کے قتل و غارت کے واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ جس ریاست میں پولیس کے اہلکاربھی فوج کے عتاب سے محفوظ نہ ہوں وہاں عام لوگ خود کو کس حد تک محفوظ تصور کرسکتے ہیں اسکا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔دریں اثناء سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کار گزار صدر عمر عبداللہ نے فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں پولیس اہلکاروں کی مارپیٹ کے واقعہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی او ر معاملے کی فوری وضاحت ہونی چاہئے کہ ایساواقعہ رونما کیوں ہوا؟۔

سری نگر/توڑ پھوڑ

مزید : صفحہ اول


loading...