وزیر اعلٰی کی سرکاری ملازمین کے اپ گریڈ یشن کیس فوری نمٹانے کی ہدایت

وزیر اعلٰی کی سرکاری ملازمین کے اپ گریڈ یشن کیس فوری نمٹانے کی ہدایت

پشاور (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے کہا ہے کہ نہ صرف ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل برادری بلکہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و الاؤنسز کو حقیقت پسندانہ بنیادپر بڑھانے، ترقیوں اور اپ گریڈیشن کے کیس جلد از جلد نمٹانے اور خالی اسامیاں پر کرنے پر پوری تندہی سے غور کیا جا رہا ہے ہم سرکاری ملازمین کا معیار زندگی اور حالات کار ترقیافتہ ممالک کے برابر لانے کیلئے بھی پوری سنجیدگی سے کوشاں ہیں تاکہ وہ پوری دلجمعی کے ساتھ عوامی خدمت کا فرض کر سکیں۔وہ اپنے دفتر سی ایم سیکرٹریٹ پشاور میں سیدو میڈیکل کالج سوات میں درکار عملے اور آلات کی فراہمی ، باغ ڈھیری نہر مٹہ اور سوات میں آبپاشی کے دیگر مسائل کے حل کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں صوبائی وزیر کھیل محمود خان، ارکان صوبائی اسمبلی فضل حکیم، ڈاکٹر حیدر علی، محکمہ خزانہ، مواصلات و تعمیرات، آبپاشی کے اعلیٰ حکام، سیدو میڈیکل کالج کے پرنسپل اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اور ضروری فیصلے کئے گئے۔ سوات سے تعلق رکھنے والے ناظمین اور دیگر عوامی نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیدو میڈیکل کالج کے اکیٖڈمک بلاک، ہاسٹل،لیکچر تھیٹرز اور لیبارٹریز کا افتتاح انہوں نے اپنے حالیہ دورہ سوات میں کیا ہے اور اسکی ضروریات کی تکمیل کیلئے بجٹ میں 80 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت کی ہے انہوں نے کہا کہ باغ ڈھیری آبپاشی سکیم کے ساتھ ساتھ پورے ضلع سوات میں آبپاشی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائینگے کیونکہ اس کا تعلق زراعت جیسے اہم ترین شعبے سے ہے انہوں نہ کہا کہ سوات نہ صرف سیاحت بلکہ کھیلوں اور اجناس کے حوالے سے بھی انتہائی زرخیز خطہ ہے اسلئے آبپاشی اور زراعت دونوں شعبوں کیلئے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے پرویز خٹک نے کہا کہ ہماری حکومت اپنے تمام انتخابات وعدوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اپنے منشور پر پوری کامیابی کے ساتھ قدم آگے بڑھا رہی ہے۔ترقیاتی عمل میں ہر ضلع کا حصہ ہے اور جو علاقے زیادہ پسماند ہ رہے ہیں ان کو زیادہ توجہ دیں گے انہوں نے یقین دلایا کہ سوات کے عوام کو مایوس نہیں کریں گے اور انہیں تمام سہولیات کی فراہمی کیلئے وسائل فراہم کریں گے ۔

پشاور (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے سمال انڈسٹریل بورڈ کے ملازمین کے سروس سٹرکچر اور ایک بونس دینے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سمال انڈسٹریل بورڈ کے تمام سنٹروں کے تمام اخراجات اور بیلنس شیٹ سے مشروط ہو گی ۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ایس آئی ڈی بی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 100 ویں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ انتظامی سیکرٹریز، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران حاجی افضل اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں سمال انڈسٹریل بورڈ کے مختلف سنٹرز کی کارکردگی پر بحث ہوئی اور ان کی کارکردگی میں شفافیت لانے،بورڈ کے مقاصد برائے تربیت اور وسائل پیدا کرنے سے متعلق متعدد فیصلے کئے گئے ۔ اجلاس میں بورڈ کے بجٹ اور سابقہ میٹنگ کے منٹس کی منظوری دی گئی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بورڈ کے مختلف سنٹروں میں پرانی مشینوں کی جگہ نئی مشینوں کی تجویز مانگی تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو اور بجلی کے بلوں میں کمی لائی جا سکے ۔انہوں نے کہاکہ جس کو بھی صنعتی پلاٹ الاٹ کیا گیا ہے اور اگر اُس نے اُس پر اُسی مقصد کے تحت کام نہ کیا تو اُس کو مزید ایکسٹینشن نہ دی جائے جو قواعد و ضوابط ہیں اُس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تاہم بورڈ خصوصی حالات میں صنعتی پلاٹس سے جڑا ہوئی اضافی زمین لیز کر سکتی ہے ۔ انہوں نے ایس آئی ڈی بی کے مختلف کمرشل پلاٹس پر پلازے تعمیر کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ ایس آئی ڈی بی نے وقت کا بہت ضیاع کیا ہے ۔جو ملازمین کارکردگی نہیں دکھا سکتے اُن کو نکالیں اور اُن کی جگہ ایسے لوگوں کو ہائر کریں جو ڈیلیو رکرسکتے ہوں۔انہوں نے بنوں، کرک ، ایبٹ آباد ، چارسدہ وغیرہ میں چھوٹے صنعتی پلاٹوں پر فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کی تاکہ کمرشل اغراض و مقاصد کا حصول ممکن ہو ۔ انہوں نے کہاکہ انہیں سمری بھیجی جائے جس میں مختلف تجاویز ہوں تاکہ کس طرح بورڈ کے مختلف پراپرٹیز کو کمرشل مقاصد میں استعمال میں لایا جا سکے ۔ بورڈ اپنے تمام پراپرٹی کی نشاندہی کرے اُن پر کمرشل سرگرمیاں پلان کرے تاکہ بورڈ کیلئے منافع بخش کمرشل سرگرمیاں شروع کرنے کا پلان دیا جا سکے ۔انہوں نے پرائیوٹ سیکٹر کو بھی کمرشل سرگرمیوں میں بی اوٹی یا شیئر نگ فارمولہ کے تحت شامل کرنے کی ہدایت کی تاکہ پرائیوٹ سیکٹر کی بہترین کارکردگی کو حکومتی کمرشل سرگرمیوں میں بہتر نتائج میں استعمال میں لایا جا سکے۔ مختلف انڈسٹریل زونز میں اضافی زمین کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے سفارشات مانگیں تاکہ انہیں کھلی نیلامی کے ذریعے لیز آؤٹ کیا جا سکے ۔بورڈ کے ملازمین کی مجوزہ سروس سٹرکچر اور پروموشن فارمولہ کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ سب کچھ اُن کی کارکردگی سے مشروط ہو گا۔ ملازمین کو اپنی کارکردگی کے ذریعے بورڈ کے مختلف سنٹرز کو وسائل پیدا کرنے کے سنٹر بنانے ہوں گے اور بونس بھی اُسی قواعد و ضوابط کے تحت دیا جائے گا جس میں اخراجات اورمنافع سمیت کارکردگی کا ایک وسیع بیلنس شیٹ ہو ۔درگئی میں چھوٹے صنعتی بستی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہاں پر جو پہلے آئے اُس کو پلاٹ لیز پردیئے جائیں اور وہاں بجلی کے سٹرکچر کی اپ گریڈیشن کیلئے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے ۔یہی طریقہ کار کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کی چھوٹی صنعتی بستیوں کیلئے بھی بروئے کار لایا جائے ۔چارسدہ کے چھوٹے صنعتی بستی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس کا مقصد چارسدہ کے نوجوانوں کو تربیت دینا ہے جبکہ ایبٹ آباد اور چارسدہ کے صنعتی پلاٹس کو کھلی نیلامی کے ذریعے سرمایہ کاروں کو دینے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔چھوٹی صنعتوں کی ترقی اور صوبے میں صنعتکاری ڈرائیو کے پیچھے مقاصد کو اُجاگر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہماری تمام کوششوں کا محور سی پیک سے متعلق صنعتی اور کمرشل سرگرمیوں کیلئے تربیت یافتہ فورس تیا رکرنی ہے ۔کاٹیج انڈسٹری کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور یہ سارے اقدامات سی پیک کے تناظر میں دیکھنے اور پلان کرنے کی ضرورت ہے ۔صوبہ سرمایہ کاری کا حب بننے جارہا ہے اس کیلئے ضروریات پوری کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ تمام پراجیکٹس میں شفافیت چاہتے ہیں۔ حکومت ایک سہولت پیدا کرے گی اور اُسے اہل لوگوں کے ذریعے چلانے کی کوشش کرے گی جوسب سے زیادہ اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ وسائل کا بے جا اصراف نہ ہو اور صوبے کے خزانے پر بوجھ نہ ہو۔ انہوں نے ایس آئی ڈی بی سے کہاکہ اُس کے دو مقاصد ہیں ایک تربیت یافتہ ورک فورس پید اکرنا اور دوسرا منافع بخش سرگرمیوں کے ذریعے وسائل پیدا کرنا۔اسلئے ادارے کو اپنی کارکردگی جدید خطوط پر استوار کرنی ہوگی اُن کی پلاننگ اور عمل درآمد جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت بورڈ کی سفارشات کو عملی شکل دے گی انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں صوبے کے پورے سٹرکچر کو تباہی کے دہانے لاکھڑا کیا جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو ہم نے خرابیوں کی تشخیص کی اور کمزوریوں کو ختم کیا کیونکہ ہمیں آئندہ 10 سال کیلئے سی پیک کے تناظر میں صوبے کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے ضروریات کو پلان کرنا تھا اور ہم اس میں کافی حد تک کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ انہوں نے کرک ، پشاور میں ارمڑ اور ایبٹ آباد میں بند سنٹروں کو ٹیوٹا کے حوالے کرنے کی ہدایت کی انہوں نے ادارے کیلئے گاڑی کی منظوری بھی دی ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...