چولستان ٹوبہ سکول سسٹم میں فنڈز کی وسیع پیمانے پر خوردبرد

چولستان ٹوبہ سکول سسٹم میں فنڈز کی وسیع پیمانے پر خوردبرد

بہاولپور (سپیشل رپورٹر )ٹوبہ سکول پروجیکٹ کا آغاز 24فروری 2016کو ہوا تھا ابتدائی طور پر 10ٹوبہ جات پر ان سکولوں کی (بقیہ نمبر54صفحہ7پر )

منظوری دی گئی تھی جس میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیش (PEF)نے فنڈفراہم کیے تھے اور CDAکی زیر نگرانی یہ پروجیکٹ کام کر رہا ہے۔ تمام فنڈز CDAکو منتقل کر دیے گئے تھے جس میں 4.212383ماہوار کے حساب سے فنڈ CDAکو دیے جارہے ہیں ۔10ٹیچر ابتدائی طور پر بھرتی کئے گئے جن کی بھرتی بھی میرٹ پر نہیں ہوئی ہے 1محمد اسلم طاہر ٹوبہ بجنوٹ تعلیم میٹرک 2 عدنان بشیر ٹوبہ کوٹے والی تعلیم میٹرک 3محمدبشیر ٹوبہ گوپالہ تعلیم M.A 4غلام یسٰین ٹوبہ کسی والا تعلیم F.A 5محمدطاہر صادق ٹوبہ کرواری تعلیم میٹرک 6عرفان حسین ٹوبہ عظیم والی تعلیم F.A 7آصف ندیم ٹوبہ چیدراں والا تعلیم میٹرک 8محمدشہزاد ٹوبہ ڈلو جمال دی سر تعلیم F.A 9محمدایوب ٹوبہ سرن تعلیم میٹرک 10محمددلشاد ٹوبہ کسر سر تعلیم B.A ان تمام اساتذہ کی تنخواہ 20,000/-ماہوار ایک عدد ہنڈا 125اور پانچ ہزار پیٹرول کا خرچہ الگ سے دیا جا رہا ہے۔ رجسٹر طلبا ء کو ماہوار 833روپے دیے جارہے ہیں تمام ٹوبہ جات کے رجسٹر ڈ طلبا کی تعداد CDAکی لسٹ میں شامل ہیں وہ 392ہیں جو کہ بالکل غلط فگر ہیں بڑے پیمانے پر اس سار ے سسٹم میں فنڈز کی خرد برد اور بے قاعدگیا ں ہیں جس کی نشانداہی انٹیلی جنس بیورو بھی اپنی رپورٹ میں کر چکی ہے۔ ان کی رپور ٹ کے مطابق اور آزاد ذریعے سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ فنڈز کی تقسیم میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیا ں ہیں ٹیچر ز کی حاضریا ں بالکل نہ ہونے کے برابر ہیں اور فرضی طلباء کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس پروجیکٹ کا آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے کوئی مانیٹرنگ سسٹم بھی نہیں ہے۔ PEFنے جنوری 2016سے دسمبر 2016تک CDAکو ماہوار4.21238ملین فنڈجاری کیے جبکہ CDAکے ریکارڈ میں 3.811808ملین رسیو ہوئے ہیں اس ریکار ڈ کے مطابق 400575کا ماہوار فرق PEFاور CDAکے درمیان بے قاعدگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ 75000/-فنڈ پر ٹوبہ جات گوپے بنانے کے لیے فنڈ رلیز کیا گیا ہے۔ مگر کسی بھی جگہ پر کوئی گوپہ تعمیر نہیں ہوا ہے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں وزیراعلیٰ پنجاب نے DGM&Eکے زیر 3رکنی کمیٹی تشکیل دی جس میں ان بے قاعدگیوں اور فنڈ ز میں خرد برد کی تحقیقات کیں یہ ٹیم 10اپریل 2017کو بہاولپور پہنچی اس تین رکنی ٹیم میں1 مس آمنہ ابرار ،2محمدعثمان ، 3عنقیر مبین شامل تھے جس کی پیشگی اطلاعCDAکو پہلے سے کردی گئی جس کی وجہ سے CDAنے ان کو وزٹ کروانے اور اپنے گھپلیچھپانے کے مکمل انتظام کر لیے تھے۔ ٹیم نے تمام ٹوبہ جات کا وزٹ کیا جس کی پیشگی اطلاع تمام ٹوبہ جا ت پر کردی گئی تھی اور تمام اساتذہ کو حاضر رہنے اور طلباء کی تعداد کو پورا کرنے کی مکمل کوشش کی گئی تاکہ ٹیم CMپنجاب کو سب اچھا کی رپورٹ دے مگر اس ٹیم نے بھی باوجود CDAکوشش کے بہت سارے معاملات کو مشکوک قرار دیا کیونکہ CDAکو پہلے پتا چل گیا تھا اس وجہ سے بہت سے معاملات کو درست کر لیا گیا مگر ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ حالات یوں کہ توں ہیں اور مزید 30ٹوبہ سکولوں کی بھی منظوری جولائی 2017میں دی جا چکی ہے اگر اس سسٹم کو CDAکی زیر نگرانی ہی کروایا گیا تو حالات میں بہتری ممکن نہیں ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...