شانگلہ میں خواتین بلدیاتی کو نسلران سے امتیازی سلوک‘اختیارات سے محروم

شانگلہ میں خواتین بلدیاتی کو نسلران سے امتیازی سلوک‘اختیارات سے محروم

ا لپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)شانگلہ میں خواتین بلدیاتی کو نسلران سے امتیازی سلوک، خواتین بلدیاتی کونسلرز فنڈز اور اختیارات سے محروم، بلدیاتی نظام کا چارسال گزرنے کے باوجود نہ تو خواتین کونسلروں کو اجلاسوں میں مدعو کیا جاتا ہے ، خواتین کی حقوق ان کے مسائیل ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاٹ،شانگلہ جیسے پسماندہ ضلع میں خواتین کی شمولیت ایک بہت بڑا سوال،فنڈز کی تقسیم اور اختیارات میں ان خواتین کونسلروں کومسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے،صوبائی حکومت کے ہر یونین کونسل ، تحصیل کونسل، ضلع کونسل اور یہاں تک کہ ویلج کونسلوں میں بھی خواتین کو برائے نام نمائندگی تو ملی مگر ان کو حقیقت میں ان کے جائیز اختیارات اور فنڈز کی فراہمی سمیت دیگر امور سے بے خبر رکھا گیا ہے ، یہاں تک کہ بجٹ اجلاسوں میں بھی خواتین اراکین کو مدعو نہیں کیا جاتا۔ اس تمام تر صورتحال میں محکمہ بلدیات ، میونسپل ایڈمنسٹریشن اور ضلعی ایڈمنسٹریشن رکاوٹیں ڈال رہی ہے، شانگلہ میں ایک سو پانچ ویلج کونسلوں ، اٹھائیس ضلعی کونسلوں اور اٹھائیس تحصیل کونسلوں میں تو خواتین کی نمائندگی موجود ہیں مگر صرف سرکاری کاغزات میں،شانگلہ کے دو سب ڈویژن الپوری اور پورن جس میں نو یونین کونسل پورن اور انیس یونین کونسل الپوری تحصیل میں آتے ہیں میں کسی بھی خاتون کونسلر کو نہ تو اجلاس کیلئے مدعو کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان سے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کام کیلئے کوئی ڈیمانڈ کی جاتی ہے ۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ خواتین کونسلروں کے نام سے نکالے جانے والا اے ڈی پی فنڈ متعلقہ پارٹی کے با اثر شخصیات اپنے حلقے میں استعمال کر رہے ہیں ، جس سے خواتین کونسلر کو خبر تک نہیں ہوتی، صوبائی حکومت نے تو اپنے ذمے کا م کردیا اور خواتین کو نمائندگی دی مگرمحکموں میں وہ کالی بھیڑیاں اس نظام کو ناکام بنانے کیلئے پر عزم دکھائی دے رہے ہیں،شانگلہ جیسے پسماندہ علاقوں میں اگر خواتین کونسلروں کو ان کے اختیارات ، فنڈز کے استعمال کا جائز اور قانونی مواقع دی جائے تو اس علاقے کے خواتین ان سے مستفید ہوسکتی ہیں، صوبائی حکومت اور خاص طورپر محکمہ بلدیات کو اس صورتحال پر اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ بلدیاتی نظام کی اصل معنوں میں نیچلی سطح پر منتقلی عوام تک ان کے دہلیز پر ریلیف فراہم کی جاسکے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...