ملکتی اراضی چھیننے کیلئے مسلح افراد مکان میں گھس آئے

ملکتی اراضی چھیننے کیلئے مسلح افراد مکان میں گھس آئے

ڈیرہ اسماعیل خان (بیورو رپورٹ)ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروآ میں 1878کی بندوبست میں موضع جندہ،موضع کانی کھور،موضع کہیری،موضع بھوئی،موضع جال والاجنوبی،موضع بموں شاہ اور موضع میانی جو دریا کے آر پار ڈیرہ غازی خان لیہ اور بھکر کی سرحد پر واقع ہیں سے زمینیں کٹوتی کر کے راکھ ماہڑہ ،راکھ لکڑی اور راکھ گھاس کے نام سے پراونشنل لینڈ قرار دی گئی ،1961-62میں مذکورہ مواضعات دریا برد ہوئے تو صوبائی حکومت نے سکنی آبادی کو ایک ایک مربع زمین دے کر انہیں دوبارہ دریا کے غربی کنارے آباد کیا اور آراضیات کو لیز پر دیا گیا یہی پراونشنل لینڈ تھی جسکی ایم ایم اے دور میں بند بانٹ ہوئی اور مقامی باشندوں کو بے دخل کر کے غیر مقامی باشندوں کو نوازا گیا ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی موومنٹ کے مرکزی جنرل سیکرٹری سیف اللہ بیقرارنے پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر ضلعی نائب صدر مہربان مکل ،مرکزی جائنٹ سیکرٹری ملک بلال احمد سپرااور مبارک خان بلوچ موجود تھے انہوں نے کہا کہ دریا برد زمینوں کو مقامی زمینداروں نے آباد کیا تو انکی ملکیتی اراضی واس اراضی کو جس کا انہیں عدالت عالیہ نے ریلیف دے رکھا ہے کو زبردستی ہتھیانے کیلئے عرصہ دو سال سے زائد کے دوران ان علاقوں میں لینڈ مافیا سرگرم ہے درجن بھر مسلح غیر مقامی اشخصاص جنکی قیادت جمشید نامی شخص کر رہا ہے جو کبھی مغل اور کبھی گنڈہ پور بنا رہتا ہے انکی سرپرستی پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی پوری ماما گنی پیش پیش ہے پر امن شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کر چکا ہے اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے حال ہی میں مبارک شاہ نامی شخص سے انکی ملکیتی اراضی چھیننے کیلئے اسکے رہائشی مکان کے تالے توڑ کر درجن بھر مسلح اشخاص اسکے مکان میں گھسے ہوئے ہیں اور اسکی منقولہ و غیر منقولہ اشیاء پر قبضہ کر رکھا ہے مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے اوپر سے منع ہے ،پٹواری ،تحصیلدار اور تھانے دار ان سے ملے ہوئے ہیں قانون کی جگہ کلاشنکوف نے لے رکھی ہے خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے اسکی انکوائری ہونی چاہیے بصورت دیگر احتجاج کا راستہ اختیار کرینگے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...