سابق ایم ایس پر الزامات کے حوالے سے محکمہ صحت نے انکوائری رپورٹ جاری کر دی

سابق ایم ایس پر الزامات کے حوالے سے محکمہ صحت نے انکوائری رپورٹ جاری کر دی

چارسدہ (بیورو رپورٹ) ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ کے سابق ایم ایس پر الزامات کے حوالے سے محکمہ صحت نے انکوائری رپورٹ جاری کر دی ۔ سابق ایم ایس ڈاکٹر محمد علی کوذاتی عناد پر ڈپٹی کمشنر چارسدہ نے ایک سیاسی قوت کے ذریعے او ایس ڈی بنایا ۔ڈپٹی کمشنر نے ڈاکٹر محمد علی پر غیر قانونی کام کرنے کیلئے دباؤ ڈالاانکار پر ڈپٹی کمشنر چارسدہ نے کمشنر پشاور کو ڈاکٹر محمد علی کے خلاف بے بنیاد الزامات کی تحریری رپورٹ بھیج دی تھی ۔ وزیر اعلی ایم ایس کے تبادلے کے احکامات پر نظر ثانی کرکے مفاد عامہ کے پیش نظر ڈاکٹر محمد علی کا تبادلہ منسوخ کریں ۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت خیبر پختو ن خوا نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چارسدہ کے سابق ایم ایس ڈاکٹر محمد علی کے خلاف انکوائری رپورٹ جاری کردی ۔ مذکورہ انکوائری محکمہ صحت خیبر پختون خوانے ڈپٹی کمشنر چارسدہ کی شکایت پرشروع کی تھی۔تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی شکایت خود انکے گلے میں پڑ گئی ہے۔ یاد رہے کہ12جولائی کو محکمہ صحت خیبر پختون خوا نے وزیر اعلی خیبر پختو خوا پرویز خٹک کے حکم پر ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈاکٹر محمد علی کوتبدیل کرکے او ایس ڈی بنایا تھا تاہم ڈپٹی کمشنر چارسدہ کی شکایت پر ایم ایس کے خلاف پہلے سے تحقیقات کرنے والے انکوائری آفیسر ڈی ایچ او نوشہرہ ڈاکٹرارشد احمد خان کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایم ایس چارسدہ کے خلاف ڈپٹی کمشنر کا خط بد نیتی پر مبنی تھا ۔ ڈپٹی کمشنر غیر قانونی اور ناجائز مطالبات پورے نہ ہونے پر ایم ایس کے خلاف ذاتیات پر اتر آئے اور ضلع چارسدہ کی ایک سیاسی قوت کا سہارہ لیتے ہوئے ایم ایس ڈاکٹر محمد علی کو تبدیل کرا کے او ایس ڈی بنایا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جناح میڈیکل کالج طلبہ و طالبات کی تربیت کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ساتھ الحاق شدہ ہے اور ڈپٹی کمشنر چارسدہ نے ایم ایس محمد علی پر ایک طالب علم کو جناح میڈیکل کالج میں داخلہ دلوانے کیلئے دباؤ ڈالا۔رپورٹ میں مزیدکہا گیا کہ ڈی سی نے ایم ایس کی رضامندی کے بغیر ہسپتال کا کمرہ مسمار کر کے اپنے گھر کیلئے ہسپتال میں متبادل راستہ بنایا جس کی وجہ سے ہسپتال کے ملازمین میں بے چینی پھیل گئی ۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹروں کی کارکردگی غیر معمولی ہے ۔ایم ایس ڈاکٹر محمد علی نے ہسپتال میں صحت کے سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے انقلابی اقدامات کیئے ۔ سال 2016-17کیلئے کارپارکنگ کے ماہانہ آمدنی کو 39ہزار سے بڑھاکر تین لاکھ تک بڑھایا لیکن ڈپٹی کمشنر طاہر ظفر عباسی نے مذکورہ ٹھیکہ فروری 2017میں منسوخ کر دیا۔تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہسپتال کے سابق ایم ایس محمد علی نے ٹی او آرز کے مطابق اپنے فرائج انجام دیئے ۔ سیکرٹری ہیلتھ خیبر پختون خوا محمد عابد مجید کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک کو بھجوائے گئے سمری کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے سابق ایم ایس ڈاکٹر محمد علی نے ہسپتال کی بہتری کیلئے ذاتی ذرائع سے سی سی یو اور آئی سی یو قائم کیئے۔ ہسپتال میں ہر قسم کے رسیدات کیلئے مرکزی نظام قائم کر کے شفافیت کو یقینی بنایاگیا۔ہسپتال میں عرصہ داراز سے واحد ایکسرے پلانٹ قابل استعمال تھی مگر ایم ایس کی خصوصی دلچسپی سے ایکسرے پلانٹس کی تعداد چار کر دی گئی ۔ اسی طرح آپریشن تھیٹرز کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے۔ڈی ایچ کیو چارسدہ میں لیڈی ریڈنگ اور خیبر میڈیکل کالج کے معیارکے مطابق سی سی یو قائم کیاگیا جہاں مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ۔رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ عوامی مفاد کے پیش نظر ڈاکٹر محمد علی کو ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی حیثیت سے بحال رکھا جائے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...