مختلف ادبی وفلمی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 159

مختلف ادبی وفلمی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 159
مختلف ادبی وفلمی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 159

  


پتن کی شوٹنگ کے زمانے کا ایک اور واقعہ بھی یاد آگیا۔ اسٹوڈیو کے نزدیک ہی ایک کھلے میدان میں بستی کا سیٹ تعمیر کیا گیا تھا۔ چند جھونپڑیاں، چند پکے مکان اور دکانیں۔ چند ریڑھے، کچھ گائیں بھینسیں اور بکریاں۔ آوارہ کتے خود ہی چلے آتے تھے۔ لیجئے بستی کا ماحول تیار ہوگیا۔ وہی سردی کا موسم تھا اور شوٹنگ بھی رات کے وقت ہو رہی تھی۔ کھلے آسمان تلے ساری رات لاہور کی کڑکڑاتی سردی میں شوٹنگ کرنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ مگر فلم والے بے چارے یہ سب مشکل کام کرتے ہیں اور فلم دیکھنے والوں کو لمحہ بھر کیلئے بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ جو منظر چند لمحے میں ان کی نظروں کے سامنے سے گزر جاتا ہے اسے فلمانے کیلئے اداکاروں اور فلم یونٹ کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ شدید گرمی ہو یا شدید سردی۔ ہر موسم میں دن رات فلم بندی جاری رہتی ہے۔ جون جولائی کی چلچلاتی دھوپ میں ہیروئن بڑے مزے سے ننگے پاؤں محبت بھرا گیت گاتی ہوئی نظر آتی ہے مگر یہ گانا فلماتے وقت اس پر اور یونٹ کے لوگوں پر کیا گزری تھی اس کا فلم دیکھنے والوں کو اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ اس طرح ٹھٹھراتی ہوئی سردی میں کھلے آسمان کے نیچے پانی میں بھیگتے ہوئے جب گانا فلمایا جاتا ہے تو سارے یونٹ والوں پر تو خیر جو بیتتی ہے وہ بیتتی ہے لیکن غریب ہیروئن کی تو جان پر ہی بن جاتی ہے۔

مختلف ادبی وفلمی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 158 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پتن کی شوٹنگ کے زمانے میں دہلی سے مشہور و معروف فلمی ماہنامہ ’’شمع‘‘ کے ایڈیٹر ادریس دہلوی صاحب بھی لاہور آگئے۔ ادریس صاحب کے لقمان صاحب سے بہت اچھے مراسم تھے۔ ہم سے بھی ملاقات ہوگئی۔ ہمارے ہم عمر ہی ہوں گے۔ ان سے خاصی دوستی اور بے تکلفی ہوگئی۔ ادریس صاحب تو فلموں کے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کیلئے ہی آتے تھے۔ وہ ’’مسافر‘‘ کے نام سے ہر مہینے ’’شمع‘‘ میں اپنی روداد بھی لکھتے ہیں اور اس کے لئے ہر جگہ گھوم پھر کر مواد جمع کرتے رہتے ہیں۔

ادریس صاحب شام کو اسٹوڈیو آئے۔ چائے کافی سے ان کی تواضع کی گئی۔ لقمان صاحب نے انہیں رات کی شوٹنگ دیکھنے کی دعوت دی تو وہ رضامند ہوگئے۔ جاڑوں میں لاہور میں پانچ بجے ہی رات ہو جاتی ہے۔ کھلے میدان میں بستی کے سیٹ پر شوٹنگ کا اہتمام شروع ہوگیا۔ انسان اور جانور ہر قسم کے اداکار فراہم کردیے گئے۔ دوسرے اداکاروں کے علاوہ مسرت نذیر سے بھی ادریس صاحب کی ملاقات کرائی گئی۔ سب نے مسرت کی منت سماجت کی اور درخواست کی خدارا ادریس صاحب کے سامنے ذرا ہیروئن بن کر رہنا۔ ایسا نہ ہو وہ واپس جاکر پاکستانی ہیروئنوں کے بارے میں اچھے تاثرات کا اظہار نہ کریں۔ مسرت نذیر کیلئے تکلف کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور بات چیت کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا مگر انہوں نے اس قدر تکلف اور رکھ رکھاؤ کا مظاہرہ کیا کہ ہم سب حیران رہ گئے۔ سب نے انہیں چپکے چپکے مبارک باد دی کہ شاباش۔ ادریس دہلوی کو بہت اچھا امپریشن دیا ہے۔

سات بجے تو سردی میں اضافہ ہوگیا اور دھند بھی چھانے لگی۔ ادریس صاحب نے واپسی کا ارادہ کیا تو سنتوش صاحب کو شرارت سوجھی۔ انہوں نے مسرت نذیر سے کہا ’’مسرت۔ اگر تم ادریس دہلوی کو شوٹنگ پر روک لو تو تمہیں مان جائیں‘‘۔

مسرت نذیرنے فوراً کہا ’’شرط لگائیں‘‘۔

’’لگالوشرط‘‘۔

لیجئے، سو سو روپے کی شرط ہوگئی۔

ادریس صاحب ابھی جانے کا ارادہ ہی کر رہے تھے کہ مسرت نذیر انتہائی اخلاق کے ساتھ ہیروئنوں والی مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئیں۔ وہ اخلاقاً کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔

’’بیٹھے بیٹھے تکلف کیوں کرتے ہیں، کافی پئیں گے؟‘‘

’’شکریہ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ابھی کچھ دیر پہلے پی ہے‘‘۔

’’تو پھر کیا ہوا۔ سردی کا موسم ہے۔ ابلے ہوئے انڈے اور کافی کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘

’’آپ کہتی ہیں تو انکار نہیں کرسکتا‘‘ انہوں نے مسکرا کر کہا۔

’’شکریہ۔ ابھی آپ کیلئے کافی منگاتی ہوں۔ میں خود بناکر پلاؤں گی‘‘۔

ادریس صاحب انتظار میں بیٹھ گئے اور مسرت شوٹنگ میں مصروف ہوگئیں۔ مگر ادریس صاحب کی خاطرداری کی طرف سے بھی غافل نہیں تھیں۔

ایک دو گھنٹے اور گزرگئے تو ادریس ساحب پھر واپسی کیلئے پر تولنے لگے۔ مسرت پھر مسکراتی ہوئی ان کے پاس گئیں۔

’’ارے ادریس صاحب، آپ بور تو نہیں ہورہے؟‘‘

’’بالکل نہیں۔ مجھے تو بہت اچھا لگ رہا ہے، یہ ماحول، گانے کی فلم بندی اور پنجابی میوزک‘‘۔

’’شکریہ۔ بمبئی میں آپ کو پنجابی فلموں کی شوٹنگ دیکھنے کا بھلا کب موقع ملتا ہوگا‘‘۔

ادریس صاحب نے کہا ’’ہاں یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں‘‘۔ اور بمبئی کی فلموں اور فنکاروں کے بارے میں باتیں شروع ہوگئیں۔

سنتوش صاحب نے مسرت کے کان میں کہا ’’مسرت۔ اب یہ جانے ہی والے ہیں‘‘۔

’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘ مسرت نے بڑے وثوق سے اور اعتماد سے کہا ’’جب تک ہماری شوٹنگ ہوتی رہے گی یہ سیٹ پر ہی رہیں گے اور ہمارے ساتھ ہی جائیں گے‘‘۔

’’سوچ لو، کہیں شرط ہار نہ جانا‘‘۔

مسرت ایک بار پھر ادریس صاحب کے پاس پہنچ گئیں۔ ’’ادریس صاحب، آپ کو تو سردی لگ رہی ہوگی؟‘‘

’’نہیں۔ زیادہ تو نہیں لگ رہی‘‘ انہوں نے جواب دیا۔

’’لاہور کی سردی بہت سخت ہوتی ہے۔ اور رات کے وقت آؤٹ ڈور میں تو قلفی جما دیتی ہے‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنی گرم شال ادریس صاحب کو دے دی‘‘۔ آپ یہ شال اوڑھ لیں۔ سردی کم ہوجائے گی‘‘۔

ادریس صاحب ’’نہیں نہیں‘‘ کہتے رہے مگر مسرت نذیر نے شال ان کے حوالے کردی جو انہوں نے فوراً ہی اوڑھ لی۔ اس طرح بے چارے کو سردی کا مقابلہ کرنے میں آسانی ہوگئی۔

مسرت نے واپس آکر کہا ’’اب یہ صبح تک نہیں جائیں گے‘‘۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا۔ صبح کے چار بجے تک شوٹنگ جاری رہی۔ مسرت تھوڑی تھوڑی دیر بعد شوٹنگ کے وقفوں میں ادریس صاحب کے پاس جاکر ان سے گپ شپ کرتی رہیں اور ادریس صاحب مزے سے شوٹنگ دیکھتے رہے۔

’’آپ کو سردی تو نہیں لگ رہی؟‘‘ وہ ان سے پوچھتیں۔

’’جی نہیں۔ آپ کی یہ شال بہت گرم ہے‘‘۔

’’کشمیری اون کی ہے۔ اسے اوڑھ کر تو سخت سردی میں بھی پسینہ آجاتا ہے‘‘۔

ادریس صاحب کہتے ’’آپ اپنی شال واپس لے لیجئے۔ ایسا نہ ہو آپ کو ٹھنڈ لگ جائے؟‘‘

مسرت مسکرائیں ’’بالکل نہیں۔ ہمیں تو عادت ہے۔ میں نے دوسری شال منگالی ہے۔ یہ دیکھئے، یہ بھی بہت گرم ہے‘‘۔

صبح چار بجے شوٹنگ پیک اپ ہوئی تو سردی کے مارے سب کانپ رہے تھے۔ ادریس صاحب نے مسرت نذیر کا بہت شکریہ ادا کیا اور ان کی شال انہیں واپس لوٹا دی۔

مسرت نذیر سب سے پہلے اپنی کار میں بیٹھ کر رخصت ہوئیں۔ دوسرے لوگ بھی روانہ ہوگئے۔ لقمان صاحب ادریس صاحب نے مسرت نذیر کا بہت شکریہ ادا کیا اور ان کی شال انہیں واپس لوٹا دی۔

دوسرے دن مسرت حسبِ معمول ہنستی مسکراتی ہوئی شوٹنگ پر آئیں اور آتے ہی سنتوش صاحب کے پاس پہنچ گئیں۔

’’سنتوش صاحب، سو روپے نکالیے‘‘۔

’’کس بات کے سو روپے؟‘‘

’’بھول گئے، رات آپ شرط ہار گئے‘‘۔

’’ارے ہاں۔ واقعی مسرت تمہیں مان گئے‘‘۔ انہوں نے جیب سے سو روپے کا نوٹ نکال کر مسرت کے حوالے کردیا۔ سو روپے ان دنوں ایک معقول رقم ہوتی تھی۔ اور پھر یہ تو شرط میں جیتی ہوئی رقم تھی۔ مسرت نذیر نے فخریہ انداز میں سب کو سو روپے کا نوٹ دکھایا اور اس رات سیٹ پر خشک میوے اور پھلوں سے سب کی تواضع کی، یقین کیجئے۔ سو روپے میں سیروں پھل اور میوہ آگیا۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا۔(جاری ہے)

مختلف ادبی وفلمی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 160 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ


loading...