قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 21

قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 21
قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 21

  


میرے ڈسٹری بیوٹرز

ادب میں ادیبوں کے ساتھ جو سلوک پبلشر کرتا ہے یا جو حیثیت پبلشر کی ہوتی ہے فلم لائن میں وہی حیثیت ڈسٹری بیوٹر کی ہوتی ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ ڈسٹری بیوٹر کا پیسہ بھی فلم میں خرچ ہوتا ہے لیکن سب کوششیں پروڈیوسر کی اپنی ہوتی ہیں۔ ابتدائی پیسہ پروڈیوسر کا اپنا ہی ہوتا ہے لیکن جب ڈسٹری بیوٹر اس میں داخل ہوتا ہے تو فلمساز رفتہ رفتہ پیچھے چلا جاتا ہے اور ڈسٹری بیوٹر آگے آجاتا ہے ۔ جب فلم مکمل ہوجاتی ہے تو اس کا مالک ڈسٹری بیوٹربن جاتا ہے ۔ حسابات اور بکنگ اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور جس طرح پبلشر کا پہلا ایڈیشن کبھی ختم نہیں ہوتا اس ڈسٹری بیوٹر کا دیا ہوا روپیہ بھی فلمساز کے سر سے نہیں اترتا اور وہ جو کچھ شروع میں لے چکا ہوتا ہے اس پر اکتفا کرتا ہے ۔ اس کے بعد اگر کوئی پیسے آجائیں تو یہ اس کی خوش قسمتی ہے ۔

میں شاعر کے علاوہ فلمساز بھی بنا ہوں اور اس سلسلے میں میرے تجربے اتنے تلخ ہوئے کہ میں نے توبہ کر لی کہ آئندہ فلم پروڈیوس نہیں کروں گا۔ شاعری کا مسئلہ تو یہ ہے کہ وہ تو مجبور ی ہے اور وہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہو چکی ہوتی ہے اس لئے اندر جو شاعر بیٹھا ہوتا ہے وہ باہر کے آدمی کو لکھنے پر مجبور کرتا رہتا ہے ۔چنانچہ شاعری پبلشرز کے رویے کو دیکھ کر چھوڑ ی نہیں جا سکتی۔ بہرحال میں نے فلمساز چھوڑ دی کیونکہ اس کا تعلق ذوق سے نہیں بلکہ صنعت اور کاروبار سے تھا۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 20 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہوا یوں کہ میں نے ’’اک لڑکی میرے گاؤں کی‘‘ کے نام سے ایک اُردو فلم شروع کی۔ یہ پکچر اپنے وقت میں تیسری رنگین فلم تھی کیونکہ ان دنوں ابھی رنگین فلموں کا زمانہ شروع ہو ا ہی تھا ۔ اس پکچر میں اس وقت کی بہت بڑی کاسٹ تھی ۔ فلم اناؤنس کی تو اچھا رسپانس ملا اور اس کے گاہک بھی آگئے۔ فلم کا افتتاح بے نظیر تھا کیونکہ میرا حلقہ احباب فلم کے علاوہ ادب اور صحافت سے بھی تھا اور اس زمانے میں وزراء‘ بڑے بڑے افسران ‘ادیب اور اخبار نویس سب اس میں شامل ہوئے تھے۔

ہم نے فلم کی شوٹنگ شروع کر دی ۔ میرے ڈائریکٹر ایک ایسے بدنام زمانہ ڈائریکٹر تھے جن کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ شخص اپنے باپ کا بھی لحاظ نہیں کرتا اور اس سے بھی دھوکا کرتا ہے۔ میں نے سوچا کہ میرے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں ہو سکتا ہے کہ کسی اور کے تلخ تجربات ہوں اس لئے میں تو انہیں ہی ڈائریکٹرلوں گا۔ چنانچہ میں نے پے منٹ کا جو پہلا چیک کاٹا وہ ان ڈائریکٹر کا تھا۔ جب کام شروع ہوا تو پہلے دن کی شوٹنگ ہی میں انہوں نے میرے ساتھ جو کیا اسے میں زندگی بھر نہیں بھلا سکوں گا۔

بات ڈسٹری بیوٹر کی ہو رہی تھی۔ اسے تو پیسے روک لینے اور کم پیسے دینے کا کوئی نہ کوئی بہانہ چاہیے ہوتا ہے ۔ چنانچہ جب ڈائریکٹر صاحب کا ریشہ دوانیاں شروع ہوئیں تو ڈسٹری بیوٹر نے پیسے روکنے شروع کر دیئے۔ ڈائریکٹر صاحب کے بھی کچھ مقاصد تھے۔ انہوں نے میرے ساتھ دوستی کے پردے میں جن روابط کی ترویج کی اور میرے ساتھ اپنا وہ سلسلہ شروع کیا جو ان کی فطرت میں تھا تو ان کے مقاصد ظاہر ہونے لگے۔ انہوں نے اپنی ایک الگ پلاننگ شروع کر دی اور اس کے ساتھ ہی ڈسٹری بیوٹر سے مل کر ساتھ ساتھ ایک اور فلم بنانا شروع کر دی ۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

میں نے ڈائریکٹر صاحب کو پہلے وارننگ دی اور پھر انہیں علیحدہ کر دیا۔ پھر انہوں نے معافی مانگی تو میں نے انہیں معاف کر دیا۔ بعد میں پتا چلا کہ انہوں نے معافی اس لئے مانگی ہے کہ وہ دوبارہ فلم میں آکر فلم کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ میں نے انہیں دوبارہ الگ کر دیا ۔ اب یہاں سے فلم کے ڈسٹری بیوٹر صاحب کا سلسلہ چلا ۔

یہ صاحب فلم کی ہیروئن کے عاشق تھے اور جب ہیروئن کا تھوڑا سا التفات ہوتا تھا اور وہ انہیں تھوڑا سا پچکار دیتی تھی تو وہ فلم کی سپیڈ تیز کر دیتے تھے اور جب اس طرف سے تھوڑا سا Discourage ہوتے تھے تو فلم بند کر دیتے تھے اور ہیروئن کو طوائف کہہ کر بُرا بھلا کہتے تھے ۔ پھر ڈسٹری بیوٹر صاحب اس فلم کے ہیرو کے بھی دوست تھے جن کی ایکسٹریس بیوی میری فلم کی ہیروئن سے اختلاف رکھتی تھی اور چاہتی تھی کہ یہ ہیروئن ان کے شوہر کے ساتھ کام نہ کر سکے کیونکہ اس ہیروئن کی وجہ سے وہ ہیروئن متاثر ہو چکی تھی اور فلموں میں اس کی مانگ کم ہو گئی تھی۔

ایک طرف تو میری فلم کے ڈسٹری بیوٹر صاحب تازہ تازہ میری فلم کی ہیروئن سے ستائے گئے تھے اور دوسری طرف انہوں نے ہیرو کی بیوی کو اپنی بہن بنا رکھا تھا اس لئے سازش یہ ہوئی کہ اگر میری فلم کی ہیروئن بدلی جائے تو فلم بنے گی ورنہ فلم نہیں بنے گی ۔ جب ہمارا آپس میں پہلی مرتبہ جھگڑا ہوا تھا تو مرحوم آغا گل نے جو میرے ساتھ بہت تعاون کرتے تھے ۔ یہ معاہدہ کروایا تھا کہ باقی کی فلم ڈسٹری بیوٹر بنائے گا اور اس فلم پر میرا جو پیسہ لگا ہے وہ سٹودیو سے فلم کے پرنٹ اٹھاتے وقت مجھے واپس کر دے گا چنانچہ ان صاحب نے تھوڑی سی فلم بنائی تھی لیکن ہیرو کی بیوی کے کہنے میں آکر انہوں نے فلم بند کر دی ۔ اب ہمارے معاہدے میں میعاد نہیں لکھی ہوئی تھی اور ایسی کوئی شق نہیں تھی کہ اگر وہ فلم نہیں بنائیں گے تو کیا ہو گا‘ اس لئے میں نے مجبوراً خاموشی اختیار کر لی کیونکہ اگر میں مقدمہ دائر کرتا تو یہ مقدمہ دیوانی عدالت میں دس سال چلتا اور جتنا روپیہ فلم پر لگا ہوا تھا اتنا روپیہ میں اس پر بھی لگاتا ۔ چنانچہ وہ روپیہ ڈسٹری بیوٹر صاحب کی مہربانی سے ان کے مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 22 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے


loading...