جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 39

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 39
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 39

  



رادھا کے جانے کے بعد مجھے عمران کے ساتھ اپنے رویے کا احساس ہوا۔ میں نے چپراسی کو بلا کر اسے کہا عمران کومیرے پاس بھیجے۔ تھوڑی دیر میں عمران اندر آیا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی طاری تھی۔

’’ہوسکتا ہے تم مجھ سے ناراض ہو لیکن بیماری نے مجھے کچھ چڑا چڑا بنا دیا ہے۔‘‘ میں نے معذرت آمیز لہجے میں کہا۔ میری اتنی سی بات سے اس کے چہرے پر روشنی پھیل گئی۔

’’خان بھائی! میں تو سوچ رہا تھا نہ جانے مجھ سے کونسی غلطی ہوگئی جس کی وجہ سے آپ مجھ سے ناراض ہیں۔ اگر انجانے میں کوئی بھول کر بیٹھا ہوں تو آپ جو چاہے سزا دیں لیکن خدارا مجھ سے ناراض نہ ہوں‘‘ اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔

’’ارے۔۔۔ارے یہ کیا۔۔۔؟ اتنی سی بات پر تم رونے لگے‘‘ مجھے دلی طور پر افسوس ہو رہا تھا کہ میرے رویے نے اس شریف آدمی کا دل دکھایا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 38 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’پیار کو ترسا ہوا ایک تنہا انسان ہوں۔ والدین بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے۔ چاچا۔ چاچی نے پالا ۔ بھائی بہن بھی کوئی نہیں آپ ملے تو سمجھا میرا بھی کوئی اس دنیا میں ہے‘‘آنکھوں میں آئی نمی کو چھپانے کے لیے اس نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی پھر وہ بولا۔’’میں معذرت چاہتاہوں نہ جانے کیوں دل بھر آیا۔‘‘

’’معافی نہیں ملے گی تمہارے اس قصور کی سزا یہ ہے کہ تم لوگ آج رات کا کھانا ہمارے گھر کھاؤ گے‘‘ میں نے چہرے پر مصنوعی سنجیدگی طاری کر لی۔

’’خان صاحب! کیوں پٹوانے کا ارادہ ہے ،نازش کا حکم ہے آج آپ لوگوں کو جیسے چاہے گھر لے کر آؤں میں تھوڑی دیر قبل یہی بات کہنے آیا تھا لیکن آپ۔۔۔خیر چھوڑیں اگر آپ اس لاچار بے یارو مددگار فقیر پر تقصیر کو بیوی کے ظلم و ستم سے بچانا چاہتے ہیں تو براہ کرم ٹھیک آٹھ بجے میرے غریب خانے پر تشریف لے آئیں ورنہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔‘‘ اس کی وہ شوخی لوٹ آئی تھی جو اس کی فطرت کا حصہ تھی۔

’’ٹھیک ہے مابدولت تمہارے غریب خانے کو رونق ضرور بخشیں گے‘‘ میں نے کسی بادشاہ کے انداز میں کہا۔ وہ کونسا کم تھا۔ جھک کر کورنش بجا لایا۔ میرے دل پر چھایا ہوا غبار ہلکا ہوگیا تھا۔ آج صبح میرا رویہ صائمہ کے ساتھ بھی کچھ اچھا نہ تھا۔ میں جانتا تھا وہ میرے جانے کے بعد خوب روئی ہوگی۔ وہ ایسی ہی تھی میری ذرا سی بات اس کا دل دکھا دیتی تھی۔ میں نے اسی وقت گھر فون کیا۔ گھنٹی بجتی رہی میں حیران تھا کہ صائمہ فون ریسیو کیوں نہیں کر رہی؟ طرح طرح کے اندیشے میرے دل کو گھیر رہے تھے۔ کیا دیر بعد ریسور اٹھایا گیا۔

’’ہیلو‘‘ میں نے دوسری طرف آواز آنے سے پہلے کہا۔

’’جی فرمائیے‘‘ صائمہ کی خفا خفا سی آواز میرے کان میں پڑی۔

’’کیا آپ مسز فاروق بات کر رہی ہیں؟‘‘ میں نے شوخی سے پوچھا۔

’’آپ کو کس سے بات کرنا ہے؟‘‘ صائمہ کا رویہ ویسا ہی رہا۔

’’اس گھر میں ایک بہت پیاری سی خاتون رہتی ہیں سارے جہاں میں ان جیسا حسن اس بندہ نا چیز نے کہیں نہیں دیکھا۔ جب سے انہیں دیکھا ہے دل قابو میں نہیں‘‘

’’بڑے خراب ہیں اور زمانے بھر کے چالاک بھی‘‘ صائمہ کی مدھر ہنسی سنائی دی۔

’’تعریف کا شکریہ خاتون کیا آپ اس بندہ ناچیز کے ساتھ کچھ دیر پیار محبت کی باتیں کر سکتی ہیں؟‘‘

’’ہمارے پاس فضول باتوں کے لئے وقت نہیں ہے کسی اور نمبر پر ٹرائی کیجیے؟‘‘

’’ٹھیک ہے متحرمہ جو حکم‘‘ میں نے ایک مصنوعی آہ بھر کر کہا۔

’’وہ بات کیجئے جس کے لیے فون کیا تھا‘‘ وہ بولی۔

’’حال دل سننانے کے لیے کیا تھا فون،آپ نے کر دیا اس غریب کے دل کا خون‘‘میں نے مزاخیہ انداز سے کہا۔

’’بڑی شاعری ہو رہی ہے کوئی حسینہ تو سامنے نہیں بیٹھی؟‘‘ صائمہ کی مسکراتی آواز آئی۔

’’حسینہ تو ہر وقت آنکھوں کے سامنے رہتی ہے پر ہے اس کے سینے میں دل کی بجائے پتھر ‘‘ میں نے آہیں بھرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

’’یہ پتھر آپ کے پیار کی آنچ سے ایک پل میں پگھل سکتا ہے لیکن جناب کے پاس غریب بندی کے لیے وقت ہی نہیں ہے‘‘ شکوہ اس کے ہونٹوں پر آہی گیا۔

’’تھوڑی دیر بعد مابدولت آپ کی ساری شکایات دور کرنے آرہے ہیں‘‘ مزید کچھ دیر ہنسی مذاق کرنے کے بعد میں نے فون رکھ دیا۔

’’اگر اجازت ہو تو میں بحکم، گھر سرکار المعروف ہوم گورنمٹ، چھٹی کرکے امور خان داری انجام دینے چلا جاؤں‘‘ عمران نے اندر آکر کہا۔

’’یار! تم کوئی آسان زبان نہیں بول سکتے؟‘‘ میں نے اسے گھورا۔

’’جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں؟‘‘ وہ مستی کے موڈ میں تھا۔ میرے رویے نے اس کا دل صاف کر دیا تھا۔

’’جاؤ بچو جی! تمہیں معطل کیا جاتا ہے کل صبح تک‘‘ میں نے اسی کے انداز سے کہا۔ وہ ہنستا ہوا چلا تھا۔

اسے گئے ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ محمد شریف نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔

’’آؤ آؤ محمد شریف‘‘ میں اس کے احترام میں کھڑا ہوگیا۔ وہ اپنے والد صاحب کی وفات کی وجہ سے چھٹیوں پر تھا۔ جب وہ اندر آیا تو اس کے چہرے پر مخصوص شفیق مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔ اس نے کچھ کہے کے لیے ہونٹ کھولے پھر یکدم بری طرح چونک گیا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی۔ اب وہ لمبے لمبے سانس لے کر کچھ سونگھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں یک بیک سرخ ہوگئیں۔اس چانک تغیر کی وجہ سے میں پریشان ہوگیا۔ کچھ دیر وہ اسی انداز میں کھڑا رہا۔ دم بدم اس کا چہرہ سرخ ہوتا جا رہا تھا۔ پھر اس نے آنکھیں بند کر لیں اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔ چہرے پر جلال چھا گیا۔ میں ششدر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی حالت میری سمجھ سے باہر تھی دروازہ کھلا ہوا تھا جسے نے بند کردیا اور اس کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کی حالت میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ وہ سرخ چہرہ لئے آنکھیں بند کئے ساکت کھڑا تھا۔ میں کچھ کہنے والا تھا کہ اس نے آنکھیں کھول دیں۔ اس کی آنکھوں میں جیسے آگ کے الاؤ روشن تھے۔

’’یہ بدبخت ایسے باز نہیں آئے گی؟‘‘ وہ بڑبڑایا۔

’’تم نے مجھ سے کچھ کہا؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ اس نے ایک جھرجھری سی لی۔

’’آں۔۔۔‘‘ وہ جیسے نیند سے جاگا۔ آہستہ آہستہ اس کا چہرہ نارمل ہوگیا۔ لیکن سنجیدگی برقرار رہی۔ چند لمحے وہ خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھتا رہا۔

’’میں معذرت چاہتا ہوں جناب‘‘ کچھ دیر بعد اس کی آواز آئی۔

’’کیا بات ہے محمد شریف تم کچھ پریشان ہو؟‘‘ میں نے اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی بیٹھ گیا۔

’’میں اس لئے حاضر ہوا تھا کہ کل سے میں ڈیوٹی پر آنا چاہتا ہوں‘‘ پھر وضاحت کی’’دراصل ابھی میری تین چھٹیاں باقی ہیں۔‘‘

’’محمد شریف ایسی کیا عجلت ہے تم کچھ دن آرام کر لو‘‘ میں نے کہا۔

‘‘جناب یہ چھٹیاں بھی میں نے والد محترم کے حکم کے مطابق کی تھیں۔ اب بھی انہیں کے حکم سے واپس آرہا ہوں۔ ‘‘ اس کی بات میری سمجھ میں بالکل نہیں آئی۔

’’تم کیا کہہ رہے ہو محمد شریف، میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا‘‘

’’محترم والد صاحب میرے مرشد بھی تھے۔ اپنے وصال سے چند روز پہلے انہوں نے مجھے ہدایت دی تھی میرے وصال کے بعد تم گیارہ روز اپنے دفتر سے چھٹی کرکے یہ وظیفہ جو میں تمہیں بتا رہاہوں کرنا۔ میں نے ان کے حکم پر عمل کیا۔ کل رات حالت خواب میں مجھے حکم ہوا میں دو روز کے بعد دفتر جانا شروع کر دوں اور آج آپ کو اس بات کی اطلاع دوں بزرگوں کے حکم میں چونکہ حکمت ہوتی ہے اس لئے میں بلا چوں و چراں یہاں چلا آیا۔ لیکن یہاں آکر۔۔۔‘‘ وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر خاموش ہوگیا۔

’’کس نے حکم دیا تھا اوریہاں آکر کیا؟‘‘ میں نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔(جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 40 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا


loading...