پہلوانوں کی داستانیں ۔ ۔۔ قسط نمبر 23

پہلوانوں کی داستانیں ۔ ۔۔ قسط نمبر 23
پہلوانوں کی داستانیں ۔ ۔۔ قسط نمبر 23

  


سلطان پہلوان نے باپ کے قل ختم ہونے پر گوجرانوالہ کا اکھاڑہ شروع کر دیا۔ بچپن میں کسرت و ریاضت سے اس کا جسم بڑا خوبصورت تھا لہٰذا جب اس پر جوانی کی بہاریں آنی شروع ہوئیں تو اس کا انگ انگ فن پہلوانی کا مظہر بنتا چلاگیا۔ اس نے جلد ہی ثابت کر دیا کہ وہ اپنے باپ کی جاگیر کا جائز حقدار ہے۔وہ ایک جوالامکھی کی طرح اٹھا اور گردونواح کے ہر پہلوان کو پچھاڑ کر رکھ دیا۔ جوانی کے عالم میں اس کی ایک بڑی کشتی سوندھا پہلوان سے رکھی گئی۔ یہ کشتی دھونکل (وزیر آباد کے نزدیک قصبہ ہے) کے میلہ میں رکھی گئی۔ سوندھا پہلوان گزربند تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اگر وہ ہاتھ کو ٹکر مار دے تو وہ اس کی تاب نہ لا کر مر جاتا۔ سوندھا پہلوان خود دیوہیکل فیل مست تھا اس کے مقابلے میں سلطان پہلوان متناسب جسم کا پھرتیلا نوجوان تھا۔ مگر جب دونوں کے درمیان مقابلہ ہوا تو سلطان نے سوندھا کو آگے رکھ لیا اور اس کا بھرکس نکال کر رکھ دیا۔ سوہنا پہلوان طاقت کے نشہ میں سلطان کو جھنجوڑتا رہا مگر سلطان چیتے جیسی لپک جھپک سے داؤ پر داؤ چلاتا رہا اور اس فیل مست کو چت کر کے گرزبند کا خطاب حاصل کر لیا۔

پہلوانوں کی داستانیں ۔ ۔۔ قسط نمبر 22  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سلطان کی ایک اور بڑی کشتی بوٹا لاہوری کے ساتھ 1880ء کے قریب ہوئی۔ سلطان کی عمر باون سال تھی جبکہ بوٹا لاہوری ان سے قدرے کم عمر تھا اور اپنے جوبن پر تھا۔ یہ کشتی دیکھنے کے لائق تھی۔ ہزاروں کا مجمع اکٹھا ہو گیا اور دنگل کے ٹکٹ کم پڑ گئے تھے۔ اس کشتی میں سلطان پہلوان نے بوٹا لاہوری کو گرا دیا تھا۔

شاہ زوری کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو چند مہان پہلوان ہی ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے بیماری اور بڑھاپے کے باوجود للکارے جانے پر کشتی سے گریز نہ کیا یا پھر اپنے راجوں مہاراجوں اور نوابین کے کہنے کے باوجود لنگوٹ نہ کھولا بلکہ زندگی بھر اکھاڑے مارنے کا حق برقرار رکھا۔ ان میں سلطان پہلوان،ان کے فرزند رحیم بخش سلطانی والا اور گاماں رستم زماں سرفہرست ہیں۔

سلطان پہلوان نے ایک کشتی بیماری کی حالت میں گاماں کے نانا نون پہلوان سے بھی لڑی تھی۔ یہ کشتی گوجرانوالہ کے ساون کے میلہ میں ہوئی۔ ان دنوں سلطان کی آنکھوں میں ککرے پڑے تھے اور ان کی بصارت ٹھیک سے کام نہیں کر رہی تھی جب پہلوان جی کو یار دوستوں نے کہا۔ ’’بابا جی ابھی کچھ دیر نہ لڑئیے، ذرا آرام تو آنے دیجئے۔‘‘

سلطان پہلوان نے بے پروائی سے کہا۔ ’’اوے تم کیوں فکر سے مر رہے ہو۔ مجھے کچھ نہیں ہوتا اللہ سوہنا خیرے کرے گا۔

سلطان پہلوان اور نون پہلوان کے درمیان مقابلہ ہو کر رہا۔ نون پہلوان نے خون آشام نظروں سے اپنے مقابل کو دیکھا اور جھٹ سے سلطان کو ایسی زور دار ٹکر ماری کہ اس کی آنکھوں کے ککروں سے خون جاری ہو گیا۔ منصف نے کشتی رکوا دی۔ سلطان پہلوان چلایا۔

’’اے کشتی اس طرح نہیں چھوٹے گی۔ اس کا فیصلہ ہو کر رہے گا‘‘

منصف نے سمجھایا۔ ’’پہلوان جی ٹھیک ہے کشتی فیصلہ کن ہو گی مگر پہلے آنکھوں سے خون تو صاف کرا لیں۔‘‘

سلطان پہلوان نے آنکھوں سے خون صاف کرایا اور ’’یاعلی‘‘ کا نعرہ مارتا ہوا دوبارہ میدان میں آ گیا اور نون پہلوان سے کہا۔ ’’توں چنگا نئیں کیتا۔ ہون تینوں مزا چکھا کے رہواں گا۔‘‘ (تم نے اچھا نہیں کیا۔ اب تمہیں مزا چکھا کے رہوں گا)

نون پہلوان نے ایک دو جھکائی دی اور سلطان کو جوش دلایا۔ ’’سلطانے، تجھے دکھائی تو کچھ دیتا نہیں۔ تیری عزت اسی میں ہے کہ اکھاڑے سے چلا جا۔ اس طرح میرے ہاتھوں مرنے پٹنے سے بچ جائیگا‘‘۔

سلطان نے زہر خند لہجہ میں کہا۔ ’’یہ تو میرا مولا جانتا ہے کون مرے پٹے گا۔ لے تو اپنی خیر منا‘‘۔ یہ کہہ کر سلطان پہلوان پھرتی سے اپنی جگہ سے ہلا اور چشم زدن میں نون پہلوان کے جواباً زور دار ٹکر ماری۔ ٹکر کی شدت اتنی تھی کہ نون پہلوان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ قلابازی کھا کر چاروں شانے چت ہو گیا۔

سلطان پہلوان نے اپنی شاہ زوری اور فن کا مان نہیں ٹوٹنے دیا تھا۔ لوگوں کے دل اس عظیم پہلوان کی حالت زار پر مسوس ہو کر رہ گئے مگر وہ اکھاڑے کے درمیان وفور فتح سے بھنگڑا ڈال رہا تھا۔یہ انداز اس کی زندہ دلی اور ثابت قدمی کا ثبوت تھا۔ آنکھوں کے ککرے ایک بار پھر خون ٹپکانے لگے تھے مگر سلطان پہلوان بے پروائی سے ان کو ہاتھوں سے صاف کر دیتا اور بھنگڑا ڈالے جاتا۔

نون پہلوان کو سلطان نے جس حالت میں رہ کر شکست دی، یہ پنجاب کی ایک یادگار کشتی کا روپ دھار گئی۔ شعراء نے اس پر جی بھر کر شاعری کی۔ اس کا ایک آدھ مصرع تو آج بھی بوڑھے شعراء کو ازبر ہے۔

پھر آن سلطانی نے ٹکر ماری

اڈ گئے زمین دے طبق یارو

سلطان پہلوان جس دور کا پہلوان تھا وہ شاہ زوروں، بہادروں، جفاکشوں اور تیر اندازوں کا زمانہ تھا۔ شاعر ان پر شعر کہتے اور اپنے زمانے کے ان جیتے جاگتے کرداروں پر طبع آزمائی کرتے اور یوں بہادروں اور جفاکشوں کی شان بڑھاتے اور انہیں اسی فن سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے جبکہ راجے مہاراجے ایسے جوانوں کی کفالت کرتے اور ان کی دل و جاں سے قدر کرتے۔ گویا یہ دور مردم شناسی کا دور تھا اور کوئی بھی ہنر مند نوجوان اپنی صلاحیتوں کا پھل کھائے بغیر نہ رہتا تھا۔

اس دور میں ورزش بھی دو طرح کی ہوتی تھی۔ ایک یوگ آسن اور دوسری مل ودیا۔ یعنی روحانی اور جسمانی ورزشیں۔ لوگ جسمانی ترک کر کے صرف ذہنی و روحانی ترقی کیلئے غرق رہتے جبکہ جسمانی ترقی کیلئے پہلوانی یا تیر اندازی کی جاتی۔ جس کا مطلب درباروں سے منسلک ہونا ہوتا تھا، لیکن سکھ مذہب کے پیروکار ان دونوں ورزشوں کو ضروری خیال کرتے تھے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ بھی جسمانی اور روحانی ترقی کا قائل تھا۔یوگ آسن کے علاوہ پہلوانی بھی کرتا اور پہلوانوں کی فوج ظفر موج کو اپنے دربار میں رکھتا۔ اسے شکار کا بھی شوق تھا۔ اکثر راوی کے کنارے شیر کا شکار کھیلا کرتا۔ یہ شکار کھیلنے کا انداز بھی خالص بہادری پر مبنی ہوتا۔ صرف ایک ڈھال اور تلوار کی مدد سے شیر کا شکار کیا جاتا تھا۔ مہاراجہ خود کئی بار شیر کے شکار کی لذت حاصل کرتا رہا۔اس موقع پر اپنے پہلوانوں کو ساتھ رکھا کرتا تھا۔(جاری ہے )

پہلوانوں کی داستانیں ۔ ۔۔ قسط نمبر 24 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : طاقت کے طوفاں


loading...