کیا عمران خان نے واقعی پیسوں کی کمی کی وجہ سے اپنی والدہ کا علاج نہ کروایا ؟ سوشل میڈیا پر ہنگامے کے بعد اصل حقیقت سامنے آگئی

کیا عمران خان نے واقعی پیسوں کی کمی کی وجہ سے اپنی والدہ کا علاج نہ کروایا ؟ ...
کیا عمران خان نے واقعی پیسوں کی کمی کی وجہ سے اپنی والدہ کا علاج نہ کروایا ؟ سوشل میڈیا پر ہنگامے کے بعد اصل حقیقت سامنے آگئی

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )کیا عمران خان غربت کی وجہ سے کینسر کے مرض میں مبتلا اپنی والدہ کا علاج نہیں کرا سکے تھے ؟ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑنے کے بعد اصل حقیقت بھی سامنے آگئی ۔

”ڈیلی پاکستان گلوبل “ کے مطابق سپریم کورٹ میں اپنی منی ٹریل جمع کرانے والے عمران خان کو مسلم لیگ نواز کی جانب سے والدہ کے علاج معالجے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جار ہا ہے تاہم اصل حقیقت یہ ہے کہ عمران خان علاج کیلئے اپنی والدہ کو برطانیہ لیکر گئے بلکہ پیسہ بھی پانی کی طرح بہایا مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

سماجی کارکن ماروی سرمد نے بھی عمران خان کی منی ٹریل پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”1984ءمیں فلیٹ خریدا مگر 1985ءمیں امی کا علاج کرانے کے پیسے نہیں تھے“۔

لیگی کارکن اسلم خان تنولی نے اپنے ٹویٹ میں عمران خان کی منی ٹریل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 1984 ءمیں فلیٹس کی خریداری کیلئے61ہزار پاﺅنڈ ابتدائی رقم اداکرنے والے عمران خان کی والدہ 1985ءمیں پیسوں کی وجہ سے علاج نہ ہونے پر انتقال کر جاتی ہیں ۔

اس خبر کی مزید تفصیلات پڑھنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں

احمد وقاص گورایہ نے بھی اس قسم کا ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”یہ ہوتی ہے ہونہار اولاد ،عمران خان نے 1984ءمیں لندن فلیٹ کیلئے 61ہزار پاﺅنڈ بیعانہ ادا کیا مگر اگلے ہی سال پیسے نہ ہونے کی وجہ سے والدہ کا علاج نہ ہو سکا ۔

ان قیاس آرائیوں کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نہ صرف علاج کیلئے اپنی والدہ کو برطانیہ لیکر گئے بلکہ انکی صحت یابی کیلئے پیسہ بھی پانی کی طرح بہایا مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔اپنی والدہ کی بیماری کو مد نظر رکھتے ہوئے عمران خان نے اپنی شہرت ، پیسہ اور اثر و رسوخ بھی استعمال کیا۔

مزید : قومی


loading...